9 ماہ کی حاملہ خاتون کا اچانک سانس رُک گیا اور بچہ ۔۔ شوہر نے دم توڑتی ہوئی بیوی اور بچے کی جان کس طرح بچائی؟

image

حمل کے دوران صرف ایک ماں ہی اپنی طبیعت کا خیال نہیں رکھتی بلکہ اس کا شوہر اس سے زیادہ خیال اور محبت کرتا ہے۔ اس کی ہر ضرورت، اس کی ہر چیز اور کام میں مدد کرتا ہے۔ جہاں ہلکی سی کھانسی بھی آ جائے تو شوہر تڑپ اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا، کیا ہوا؟ فوراً ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہے اور ظاہر ہے یہ میاں بیوی کا فرض بھی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رہیں، ایک دوسرے کا خیال کریں اور پھر جب بات اپنی اولاد کی ہو، سوال اولاد کا ہو تو دونوں کی ایک دوسرے سے محبت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

میلانی ایک ڈاؤگ کا تعلق امریکہ سے ہے۔ جب میلانی اپنے دوسرے بچے کے وقت حاملہ تھیں تو ان کا روٹین چیک اپ نارمل تھا، طبیعت بھی بالکل ٹھیک تھی لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ جب ڈیلیویری کا وقت آئے گا تو ان کو کتنا مشکل وقت دیکھنا پڑے گا۔

جب ڈیلیویری کا وقت آیا تو میلانی گرنے کی وجہ سے بیہوش ہوگئیں اور ان کی سانسیں رُک گئیں ڈاکٹر نے ضرور چیک اپ کے بعد بتایا کہ یہ مرچکی ہیں اور ان ے پیٹ میں 9 ماہ کا بچہ تھا جس کے بارے میں کہنا مشکل تھا کہ وہ زندہ ہے یا نہیں؟ لیکن بعدازاں ڈاکٹر نے کہا کہ ان کا فوری آپریشن کرنا پڑے گا اگر یہ زندہ بچ گئیں تو معجزہ وہگا جس پر شوہر نے فوری حامی بھردی لیکن خؤن کی کمی حد سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈاؤگ کو اپنا خون دینا پڑا۔ یوں ماں تو بچ گئی لیکن بچے کو بچانا مشکل تھا کیونکہ سانس کی کمی ہوگئی جس پر ڈاؤگ نے اپنے بچے کو خود اپنے منہ سے سانس دی اور اس حد تک اس کو آکسیجن دی گئی کہ وہ دوبارہ جی اٹھا۔

ان کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر خوب مشہور ہوئی کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب ایک انسان نے اپنے خون اور آکسیجن کی فراہمی سے بیوی اور بچے دونوں کی زندگی کو بچایا۔


مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.