ترکی اور شام میں زلزلہ: دھوکے باز کیسے مصنوعی ذہانت اور ٹک ٹاک کے ذریعے عطیہ دینے والوں کو لوٹ رہے ہیں؟

بی بی سی نے دھوکے سے رقوم ہتھیانے والوں کے کچھ اہم طریقوں اور ٹولز کی نشاندہی کی ہے جنھیں آپ متاثرین کی مدد کے لیے رقم عطیہ کرنے سے پہلے چیک کرنے کر سکتے ہیں۔
ترکی زلزلہ
Getty Images

سیکورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ترکی اور شام میں آنے والے زلزلے میں کئی ایسے فراڈکے کیسز سامنے آئے ہیں جس میں دھوکے باز، لوگوں سے فرضی مقاصد کے لیے چندہ وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ دھوکہ باز اپنی مہم میں زندہ بچ جانے متاثرین کی امداد کے لیے رقم اکٹھا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں جو اس قدرتی آفت کے بعد موسم کی سختی اور صاف پانی کی فراہمی سے محروم ہو گئے ہیں۔

اس تباہی میں 35 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تاہم اس امداد کو وہ حقیقی خیراتی اداروں تک پہنچانے اور متاثرین کی مدد کرنے کی بجائے اپنے پے پال اکاؤنٹس اور کرپٹو کرنسی والیٹس میں منتقل کر رہے ہیں۔

بی بی سی نے دھوکے سے رقوم ہتھیانے والوں کے کچھ اہم طریقوں اور ٹولز کی نشاندہی کی ہے جنھیں آپ متاثرین کی مدد کے لیے رقم عطیہ کرنے سے پہلے چیک کرنے کر سکتے ہیں۔

ٹک ٹاک کی لائیو سٹریمز:’ترکی کے لیے دعا کریں‘

ٹک ٹاک لائیو سٹریمنگ پر کانٹینٹ تیار کرنے والے ڈیجیٹل تحائف وصول کر کے رقم کما سکتے ہیں۔ اب کچھ ٹک ٹاک اکاؤنٹسزلزلے کی تباہی کی تصاویراورفوٹیج اور لوگوں کو بچانے سے متعلقامدادی کاروائیوں کی ٹی وی ریکارڈنگز پوسٹ کر کے عطیات مانگ رہے ہیں۔

ان کی پوسٹ کی کیپشن میں’ آئیے ترکی کی مدد کریں،ترکی کے لیے دعا کریں، زلزلہ متاثرین کے لیے عطیہ کریں‘جیسے جملے موجود ہیں۔

ایک ایسا ہی اکاؤنٹ جو تقریباً تین گھنٹے لائیو رہا، اس میں تباہ شدہ عمارتوں کا غیر واضح فضائی منظر دکھایا گیا اور دھماکوں کی آوازوں کے ساؤنڈ ایفیکٹ شامل کیے گئے جبکہ اس کے پس منظر میں (آف کیمرہ) مردانہ ہنسی کی آواز اور چینی زبان میں بولا گیا جملہ سنائی دے رہا تھا۔ اس کا کیپشن تھا۔’آئیں ترکی کی مدد کریں۔ عطیات دیں۔‘

ایک اورویڈیو میںایک ایسے بچے کی تصویر دکھائی گئی ہے جو دھماکے کے باعثخوف اور پریشانی سےبھاگ رہا ہے۔ لائیو سٹریم کے میزبان نے پیغام لکھا: ’براہ مہربانی اس مقصد کو حاصل کرنے میںہماری مدد کریں۔‘

یہ ٹک ٹاک گفٹ کے لیے ایک واضح درخواست ہے تاہم اس بچے کی تصویر حالیہزلزلے کی نہیں۔

اس تصویر کی کھوج کے لیےجب اسےریورس امیج سے سرچکیا گیا تو معلوم ہوا کہیہی تصویر اس سے قبل 2018 میں ٹوئٹر پر پوسٹ کی جا چکی ہے اور اس پر(شام کے شہر آفرین میں جنگ کے اثرات کے حوالے سے) عنوان لکھا گیا ہے ’آفرین میں نسل کشی بند کرو۔‘

بی بی سی کی ایک تحقیقات یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہٹِک ٹاک ڈیجیٹل تحائف کی آمدنی کا 70 فیصد تک لےجاتا ہے، حالانکہ ٹِک ٹاک کا کہنا ہے کہ یہ اس سے کم لیتا ہے۔

ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’ہم ترکی اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلوں پر بہت افسردہ ہیں اور زلزلہ متاثرین کی امدادی سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ہم عطیہ دہندگان کو دھوکے اورگمراہکن عناصر سے روکنے کے لیے بھی متحرک ہیں تاکہ وہ بلا کھٹکے مدد کر سکیں۔‘

ترکی
BBC

مصنوعی ذہانت سے تیار تصاویر اور کرپٹو کرنسی سے مدد کی اپیل

ٹوئٹر پر لوگ عطیات کی وصولی کے لیے متاثرین کی دلوں کو دُکھانے والی غمزدہتصاویر شیئر کر رہے ہیں جن کے ساتھ انھوں (فراڈ کرنے والوں)نے کرپٹوکرنسی والٹ کے لنکس بھی شیئر کیے ہیں۔

ایک ایسے ہی اکاؤنٹ سے فائر فائٹر کی ایک تصویر شیئر کی گئی، جس نے ایک چھوٹے بچے کو منہدمہوتی عمارتوں کے درمیان سے ریسکیو کیا تھا۔ اس اپیل کو 12 گھنٹوں میں آٹھ بار پوسٹ کیا گیا تھا تاہم اس اکاونٹ سے استعمالکی جانے والی یہ تصویر حقیقی نہیں۔

’او ای ایم اے‘ نامی ایک یونانی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ اسے ایجیئن فائر بریگیڈ کے میجر جنرل پیناگیوتیس کوٹریڈیسنے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر مڈ جرنی کی مدد سےبنایا تھا۔

اے آئی امیج بنانے والے اکثر غلطیاں کر جاتے ہیں۔ اس تصویر میں ٹوئٹر کے صارفیننے جان لیا کہ اس فائر فائٹر کے دائیں ہاتھ پر چھ ہندسے موجودہیں۔

بی بی سی نے مزید تصدیق کے لیے، بی بی سی کے تکنیکی ریسرچ ہب بلیو روم کے ساتھیوں سے درخواست کی کہ وہ اسی سافٹ ویئر کے ذریعے مزید اسی طرح کی تصاویر بنانے کی کوشش کریں۔

ریسرچ ہب کے ماہرین نےسافٹ ویئر کو ہدایات کیں کہ زلزلے کے نتیجے میں فائر فائٹر کی تصویر بنائے جو چھوٹے بچے کو بچا رہا ہو اوراس نے جوہیلمٹ پہنا ہو اس پریونان کا جھنڈا موجود ہو۔

اس کے علاوہایک کرپٹو والیٹ ایڈریس سنہ2018 سےدھوکہ دینے اور غیر متعلقہ ٹویٹس میں استعمال کیا گیا تھا جبکہ دوسرا ایڈریس روسی سوشل میڈیا کی ویب سائٹ وی پر فحش مواد کے لیے پوسٹ کیا گیا تھا۔

جب بی بی سی نے اس اپیل کو ٹویٹ کرنے والے شخص سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس دھوکے اور فراڈ سے انکار کیا اور کہا کہ ان کورابطے (کنیکٹیویٹی) میں دشواری کا سامنا ہے تاہم وہبی بی سی کے سوالات کے جوابات کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ کا استعمال کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا مقصد زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنا ہے جس کے لیے میں چندہ اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اب لوگ آفت زدہ علاقوں میں سختسردی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ خاص طور پر بچوں کے پاس کھانا نہیں۔ اپنے اس عمل کو رسیدوں سے ثابت کر سکتا ہوں‘ تاہم اپنے دعووں کے برعکس انھوں نے ابھی تک ہمیں رسیدیں یا اپنی شناخت کا ثبوت نہیں بھیجا۔

ٹوئٹر اور پے پال

ٹوئٹر پر دھوکے باز عطیات جمع کرنے کے لیےجعلی اکاؤنٹس بناتے ہیں اور پے پال پر لنک پوسٹ کرتے ہیں۔

سوناٹائپ کے سائبر سکیورٹی امور کے ماہر ایکس شرما کا کہنا ہے کہ یہ اکاؤنٹس نیوز آرٹیکلز کو ری ٹویٹ کرتے ہیں اور توجہ حاصل کرنے کے لیے مشہور شخصیات اور کاروباری اداروں کی ٹویٹس کا جواب دیتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ جعلی ڈیزاسٹر ریلیف اکاؤنٹس بناتے ہیں جو بظاہر مستحکم تنظیمیں یا خبر رساں ادارے ہوتے ہیں، تاہم ان کی آڑ میں وہاپنے پے پال ایڈریس پر فنڈز منتقل کرواتے ہیں۔‘

’اس کی ایک مثال ترکی ریلیفنام کا اکاؤنٹ ہے۔ یہ اکاونٹ ٹوئٹر پر جنوری میں بنایا گیا اور اس کے محض 31 فالوورز ہیں اور اس پرپے پال کے ذریعے عطیات لیے جا رہے ہیں۔

اس پے پال اکاؤنٹ کو اب تک 900 امریکی ڈالر کے عطیات موصول ہو چکے ہیں لیکن اس میں پیج بنانے والے کی طرف سے پانچ سو ڈالر بھی شامل کیے گئے ہیں جنھوں نے خود اس مقصد کے لیے عطیہ کیا۔‘

ایکس شرما کا کہنا ہے کہ ’یہ فنڈ جمع کرنے والے کو مستند ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔‘

یہ حالیہ دنوں میںپے پالپر فنڈ جمع کرنے کے لیے شروع کیے گئے 100 سے زیادہ اکاؤنٹس میں سے ایک اکاونٹ ہے، جو زلزلہمتاثرین کی مدد کے لیے عطیات مانگ رہے ہیں، جن میں سے بعض جعلی ہیں۔

ایکس شرماکہتے ہیں کہ ’عطیہ دینے والوں کو خاص طور پر ان اکاؤنٹس سے ہوشیار رہنا چاہیے جو خود کو ترکی میں ظاہر کرتے ہیں کیونکہ پے پال 2016 سے ترکی میں کام نہیں کر رہا۔‘

ایس شرما کے مطابق ’ترکی سے باہر ایسے متعددمستند خیراتی ادارےموجود ہیںجو پے پال کا استعمال کرتے ہیں، لیکن جب فنڈ جمع کرنے والے کہیں کہ وہترکی میں ہیں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔‘

ان کے مطابق ’دیگر چیزیں جن سے بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے وہ عطیات اور اپیلیں کرنے والے گمنام افراد ہیں جنھوں نے کم فنڈز اکھٹا کیے کیونکہ حقیقی خیراتی اداروں کے پاسبڑی رقم جمع ہو گی۔ ایکس شرما کے مطابقپے پال سےعطیات اکھٹا کرنے والے کئی ایسے ہیں جن کے پاس 100 پاونڈ عطیہ جمع ہوا۔‘

یہ بھی پڑھیے:

ترکی اور شام میں زلزلہ: ملبے تلے دبے بچے کو بوتل کے ڈھکن سے پانی پلانے کی ویڈیو وائرل

وہ تصویر جو ترکی اور شام میں زلزلے کے بعد تباہی اور درد کی داستان سناتی ہے

ترکی اور شام میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی ڈرون فوٹیج

ترکی زلزلہ
Getty Images

پے پال نے ایسے متعدد جعلی اکاؤنٹ کو معطل کر دیا

پے پال کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’اگرچہ عطیات قبول کرنے کے لیے پے پال کا استعمال کرنے والے لوگوں کی اکثریت کے مقاصد نیک نیتی پر مبنی ہوتے ہیں تاہم ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کے مدد اور سخاوت کے جذبے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پے پال کے ماہرین ایسے تمام اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کر کے ان پر پابندی لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ترکی اور شام میں زلزلے جیسی قدرتی افات کے تناظر میں تاکہ عطیات مطلوبہ افراد تک پہنچ کر انہی مقاصد میں استعمال ہو، جن کے لیے لوگوں نے امداد کی۔‘

ٹوئٹر نے ترکی ریلیف نامی اکاونٹ کو بھی معطل کر دیا ہے تاہمکمپنی نےبی بی سی کی جانب سے تبصرہ کی درخواستوں کا تاحالجواب نہیں دیا۔

دھوکے سے بچ کر کیسے محفوظ طریقے سے عطیہ کیا جائے؟

  • اپنے ملک میں مستند خیراتی اداروں کو تلاش کریں۔
  • اگر آپ کو کسی فراڈکا شبہ ہے، تو اپنے ملک کے متعلقہ حکامیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس کی اطلاع دیں۔
  • جذباتی گفتگو، تصاویر اور ویڈیوز آپ کےدل کو جھنجوڑنے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
  • کچھ دھوکے بازکہتے ہیں کہ وہ خیرات کرنے والیحقیقی تنظیموںیا حکومتی سرپرستی میں کام کرنے ولے اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں۔
  • اگر آپ اس خیراتی تنظیمیا سرکاری ادارے کو چندہ دینا چاہتے ہیں تو ان کی ویب سائٹ دیکھیں اور انھیں براہ راست عطیات کریں۔

News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.