پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) گروپ نے اعلان کیا ہے کہ ریونیو میں خاطر خواہ اضافے کے باوجود 31 دسمبر 2024 کو ختم ہونے والے سال کے دوران اس نے 14.39 ارب روپے سے زائد کا نمایاں خسارہ ظاہر کیا ہے جس کی بنیادی وجہ یوفون ہے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے دوران پی ٹی سی ایل گروپ کی آمدنی 17 فیصد اضافے کے ساتھ 219 ارب 78 کروڑ روپے رہی، پی ٹی سی ایل گروپ میں پی ٹی سی ایل، یوفون اور یوبینک شامل ہیں۔
گروپ نے 2023 میں 16.72 ارب روپے کے مقابلے میں 2024 میں اپنے نقصانات کو 13.94 فیصد کم کرکے 14 ارب 39 کروڑ روپے کر دیا، جس کا مطلب ہے کہ 2023 میں 3.28 روپے کے مقابلے میں 2.82 روپے فی شیئر خسارہ (ایل پی ایس) ہوا۔
دریں اثنا کمپنی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ فنانس لاگت میں قرضوں کی ادائیگی اور یوفون کے لائسنسنگ اور آپریشن اخراجات سے متعلق گروپ کی جانب سے لیے گئے قرضوں پر سود شامل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یوفون نے 2024 میں گزشتہ سال کے مقابلے آمدنی میں 25 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا اور سود، ٹیکسز، قدر میں کمی اور ایمورٹائزیشن سے قبل آمدنی 4.6 ارب روپے رہی۔
دریں اثنا پی ٹی سی ایل کی آمدنی 2024 میں 12 فیصد اضافے کے ساتھ 107.76 ارب روپے تک پہنچ گئی جس میں فکسڈ لائن، ہول سیل اور بزنس سلوشنز میں اضافہ ہوا، کمپنی کا منافع 48.66 فیصد کم ہو کر 4.82 ارب روپے رہ گیا جو 2023 میں 9.39 ارب روپے تھا۔