امریکی شہر لاس ویگس کی پولیس کو ان متاثرین کی تلاش ہے جو 43 سالہ خاتون کے ’رومانس فراڈ‘ کا شکار ہو کر خطیر رقوم سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔این ڈی ٹی وی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ارورہ فیلپس مبینہ طور پر ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے مردوں کو اپنے جال میں پھنساتیں اور پھر انہیں بےہوشی کی ادویات دے کر ان کے پیسے چُرا کر رفو چکر ہو جاتی تھیں۔
فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے درخواست کی ہے کہ جو افراد ان کے ’رومانس سکینڈل‘ کا شکار ہوئے ہیں وہ سامنے آئیں تاہم، ان کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق ارورہ فیلپس نے متاثرہ افراد کو بےہوشی کا ٹیکہ لگا کر ان کی گاڑیاں چوری کیں، بینک اکاؤنٹس سے رقم نکالی اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے لگژری اشیاء اور سونے کی خریداری کی۔
43 سالہ خاتون اس وقت میکسیکو میں زیرِ حراست ہیں اور انہیں وائر فراڈ اور شناخت کی چوری سمیت 21 الزامات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ارورہ فیلپس پر ایک شخص کی موت کا بھی الزام ہے۔انہوں نے متاثرین میں سے ایک کو بےہوشی کی دوا دے کر اغوا کیا اور پھر اسے وہیل چیئر پر امریکہ-میکسیکو کی سرحد کے پار لے گئیں۔ اس کے بعد وہ اسے ہوٹل کے کمرے میں لے گئیں جہاں بعد میں وہ مردہ پایا گیا۔ایف بی آئی کے لاس ویگاس ڈویژن کے سپیشل ایجنٹ انچارج سپینسر ایونز نے بتایا کہ ’2021 اور 2022 میں نشانہ بنائے گئے چار متاثرین میں سے ایک اُس وقت کوما میں چلا گیا جب خاتون نے اسے ایک ہفتے کے دوران بےہوشی کی دوا دی۔‘انہوں نے کہا کہ ’یہ سٹیرائڈز کے ذریعے کیا جانے والا رومانوی سکینڈل ہے۔‘ارورہ فیلپس جولائی 2021 میں ایک شخص کے ساتھ لنچ ڈیٹ پر ان کے گھر گئیں اور اسے بےہوشی کی دوا دے دی۔ اس کے بعد انہوں نے اس کا آئی فون، بینک کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور آئی پیڈز چوری کر لیے۔حکام نے کہا کہ خاتون مردوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے مشہور ڈیٹنگ ایپس ٹنڈر، ہینج اور بمبل کا استعمال کرتی تھیں۔نیواڈا ڈسٹرکٹ میں امریکہ کے قائم مقام اٹارنی سو فہامی کے مطابق امریکہ اور میکسیکو کی دوہری شہریت رکھنے والی خاتون کو زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔