آج سے تقریباً 50 سال قبل بل گیٹس اور پال ایلن نے مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ 1993 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے 21ویں صدی کی سب سے اہم ایجادات کے بارے میں بات کی۔
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹسآج سے تقریباً 50 سال قبل بل گیٹس اور پال ایلن نے مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ 1993 میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے 21ویں صدی کی سب سے اہم ایجادات کے بارے میں بات کی۔
جب بی بی سی نے پہلی بار جون 1993 میں مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا انٹرویو نشر کیا تو خیال کیا جاتا تھا کہ اس وقت مجموعی طور پر صرف 130 ویب سائٹس ہیں۔
بی بی سی کا سائنس پروگرام ’ہورائزن‘ آنے والے دور کے متعلق تحقیق کر رہا تھا۔
بل گیٹس نے آنے والے اس دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ انفارمیشن کا دور ہے اور کمپیوٹر معلومات کے اس دور کا محض ایک آلہ ہے۔ سافٹ ویئر ہی اس بات کا تعین کرے گا کہ ہم ان تمام معلومات کو کتنی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔‘
تب تک کمپیوٹر انڈسٹری کافی تیزی سے پھیلنا شروع ہو چکی تھی تاہم مستقبل میں ہونے والے منافع کا دارومدار ایک ایسی چیز کی تخلیق پر منحصر تھا جو نہ صرف کمپیوٹر کے استعمال کو آسان بنا دے بلکہ بوقت ضرورت اسے کسی بھی جگہ باآسانی منتقل کیا جا سکے۔
پروگرام کے دوران یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا ہمیں لامحدود معلومات کی ضرورت بھی ہے یا یہ صرف ایک خواب ہے؟
یہ وہ دور تھا جب پوری دنیا کی ویب سائٹس کے نام دو صفحات پر آ سکتے تھے اور ایسے میں اس تمام گفتگو میں انٹرنیٹ کا کہیں ذکر نہیں آیا۔
تاہم اُس پروگرام میں زیرِ بحث آنے والے خیالات اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔
بل گیٹس اور ایلن نے جب مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی تو ان کا ہدف تھا دنیا کے ہر گھر اور دفتر میں ایسا کمپیوٹر ہو جن پر مائیکروسافٹ کے پروگرامز چلتے ہوں۔
ان دونوں کی پہلی ملاقات سییٹل کے ایک نجی سکول میں ہوئی۔ وہیں انھیں معلوم پڑا کہ ان دونوں کو کمپیوٹرز کا جنون ہے۔ بعد ازاں دونوں نے کالج چھوڑ کر مائیکروسافٹ کی بنیاد رکھی۔
انھوں نے اپنی کمپنی کا نام مائیکروسافٹ اس لیے رکھا تھا کیوںکہ یہ ’مائیکرو کمپیوٹرز‘ کے لیے سافٹ ویئر بناتی تھی۔

مائیکرو سافٹ کوپہلی بڑی کامیابی 1980 میں اس وقت ملی جب انھوں نے اس وقت کی سب سے بڑی کمپیوٹر کمپنی آئی بی ایم کے لیے آپریٹنگ سسٹم بنانے کی حامی بھری۔
آئی بی ایم کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں مائیکروسافٹ نے یہ شرط شامل کی کہ وہ اپنا سافٹ ویئر دیگر کمپنیوں کو بھی فروخت کر سکیں گے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں آئی بی ایم کی طرز پر پرسنل کمپیوٹر بنانے والی متعدد کمپنیاں سامنے آئیں۔ اس کے بعد مائیکروسافٹ منافع بخش کمپنی بنی۔
پال ایلن 1983 تک مائیکرو سافٹ کے ساتھ کام کرتے رہے تاہم خون کے سرطان کی تشخیص کے بعد انھوں نے کمپنی سے دوری اختیار کر لی۔
صحتیاب ہونے کے بعد وہ ایک کامیاب وینچر کیپیٹلسٹ بنے۔ لیکن انھوں نے مائیکروسافٹ میں حصص کبھی فروخت نہیں کیے جس کے باعث 2016 میں ان کی وفات تک ان کا نام دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں شامل رہا۔
پال ایلن اور بل گیٹسمائیکروسافٹ کی ونڈوز، ایکسل اور ورڈ جیسی مصنوعات کے ہر گھر اور دفتر کا حصہ بننے سے قبل ہی ایلن کمپنی سے علیحدہ ہو چکے تھے۔
1990 کی دہائی کے اوائل تک، نیٹ ورک کمپیوٹرز کے لیے گیٹس کے وژن نے کمپنی کی فروخت اور منافع میں اضافہ کیا۔ تاہم، ایلن اور گیٹس کا ہر گھر اور دفتر میں مائیکروسافٹ کے سافٹ ویئر پر چلنے والا کمپیوٹر ہونے کا خواب صرف آدھا ہی پورا ہوا۔ ورڈ پروسیسنگ اور سپریڈ شیٹس کا کام منافع بخش تھا تاہم مائیکروسافٹ کو وسعت دینے کے لیے نئی دنیاؤں کو تلاش کرنے کی ضرورت تھی۔
اگلا قدم ملٹی میڈیا کو لوگوں کے گھروں تک پہنچانا تھا اور پرسنل کمپیوٹر کو ایک کمیونیکیشن ڈیوائس میں تبدیل کرنا تھا۔ یہ تفریح کی ایک ایسی دنیا تھی جو ایلن کو بہت محبوب تھی اس لیے گیٹس کو اس میں بھی داخل ہونے کا ارادہ کیا۔
ایک ہزار ٹی وی چینل
1993 میں بل گیٹس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ مائیکروسافٹ کامیاب ہو گی۔ 15 سے 20 سال میں ’ہر گھر میں کمپیوٹر کا خواب پورا ہو گا، ممکن ہے کہ وہ آج والے کمپیوٹر سے مختلف ضرور ہو۔‘
ایک سال پہلے ہی مائیکروسافٹ کے نیتھن مروالڈ نے ایک ایسے مستقبل کی بات کی تھی جس میں ٹی وی پر ایک ہزار چینل دیکھیں جا سکیں گے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ ڈراؤنا خواب لگتا ہے لیکن میرے خیال میں یہ بہت عمدہ بات ہو گی۔‘
انھوں نے اس وقت موجودہ سٹریمنگ سروس کی بات کی تھی کہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی چینل کی ترتیب موضوعات کے اعتبار سے کرے گی اور انسان جو بھی دیکھنا چاہے گا، سکرین پر فوری سامنے ہو گا۔
یہ مستقبل کی ایک جھلک تھی جہاں دنیا آپ کی انگلیوں پر ہوتی۔
لیکن ا1993 میں ہی ’ڈیجیٹل میڈیا‘ میگزین کے مدیر ڈینس کاروسو نے خبردار بھی کیا تھا کہ ’انٹرایکٹیو ٹی وی اور ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر کچھ بھی منگوانے کی صلاحیت کا مطلب ہو گا کہ تمام معلومات کسی نیٹ ورک سے ہو کر آئیں گی۔ یعنی دوسری جانب جو بھی ہو گا وہ جانتا ہو گا کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں، آپ کا کریڈٹ کارڈ نمبر کیا ہے، اور بہت کچھ جو شاید آپ کسی کو بتانا نہ چاہیں۔‘
ڈینس کروسو نے کہا تھا کہ ’معلومات کو قابل فروخت چیز بنا کر ہم لوگوں کی خیالات کے بارے میں سوچنے کی فطرت کو بدل رہے ہیں۔‘ ان کا ماننا تھا کہ ’معلومات کی حفاظت ضروری ہے ورنہ ان کی قدر کھو سکتی ہے۔‘
ای میل کا جنم
بی بی سی کے اس پروگرام میں ’ورلڈ وائڈ ویب‘ کا ذکر کہیں نہیں ہوا لیکن یہاں ای میل کا پہلا تعارف ضرور ہوا۔
مائیکروسافٹ وسعت پاتی گئی اور کمپنی کے مائیک مرے نے کہا کہ ای میل ایک برقی گاؤں قائم کر دے گی جو ’وقت کی سرحدوں یا جغرافیائی رکاوٹوں کو پار کرنے کی صلاحیت دے گی۔‘
اب یہ الفاظ اتنے عجیب نہیں لگتے لیکن اس زمانے میں یقینی طور پر یہ انقلابی تصور تھا کہ دنیا میں کسی بھی مقام پر موجود فرد سے فوری طور پر بات کی جا سکتی ہے اور بنا کوئی رقم خرچ کے۔
1993 کے اختتام تک ویب سائٹس کی تعداد 623 سے دوگنا ہو چکی تھی۔ 1994 کے آخری ایام میں یہ تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔
مئی 1995میں بل گیٹس نے اپنی کمپنی کے سینئر عہدیداران کو ایک پیغام بھیجا جس کا عنوان تھا ’انٹرنیٹ کی لہریں‘ اور انھوں نے اسے آئی بی ایم پی سی کے بعد سب سے اہم پیش رفت قرار دیا۔
تین ماہ بعد مائیکروسافٹ نے ونڈوز 95 کے ساتھ اہم ایس این ویب پورٹل شروع کیا۔ مستقبل کی دوڑ شروع ہو چکی تھی اور بل گیٹس اسے جیتنا چاہتے تھے۔