اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پنجاب کے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بھی پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری نے بتایا کہ صوبے کے بلدیاتی قوانین اور حلقہ بندیوں کی تفصیلات تو موجود ہیں، تاہم نقشوں اور انتخابی قواعد فراہم نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔
اس موقع پر پنجاب کے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے بینچ کو یقین دہانی کرائی کہ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں اور دو سے تین روز میں نقشے فراہم کر دیے جائیں گے، جبکہ ایک ہفتے کے اندر تمام نقشے ضلعی الیکشن کمشنرز تک پہنچا دیے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر 12 مارچ تک نقشے فراہم نہ کیے گئے تو الیکشن کمیشن ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنرز کو طلب کرکے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گا۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق نقشے موصول ہونے کے بعد حلقہ بندیوں کے عمل کے لیے دو ماہ کا شیڈول جاری کیا جائے گا، جس کے بعد بلدیاتی انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔