حمد خدا
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang Cityرحمت دو جہان تو خالق
کس قدر مہربان تو خالق
ابر اور باد سب ترے محتاج
سبزہ و گل کی شان تو خالق
تیرا فضل و کرم سبھی پر ہے
صاحب عزو شان تو خالق
ریشے ریشے میں تو سمایا ہے
میری زیست اور جان تو خالق
تیرے اکرام نے بنا دی بات
ہے میری آن بان تو خالق
بحر غم سے بچا لیا جس نے
کہتے ہیں نکتہ دان تو خالق
چارہ سازی ازل سے کام ترا
تیری جانب دھیان تو خالق
موج غم میں ہو کشتی جاں تو
اس کا ہے بادبان تو خالق
کو بکو گل ہائے رنگ رنگ کی بہار
بے مثل باغبان تو خالق
قریہ جاں مہک اٹھی گل سے
عطر بیزی تیرے، قربان تو خالق
گرچہ صد رنگ ہیں تیرے جلوے
پھر بھی ہے بے نشان تو خالق
نعمتیں دے کے چھین لینے سے
لیتا ہے امتحان تو خالق
میں ازل سے رہا خسارے میں
پورے کر سب زیان تو خالق
تیری بخشش کی کوئی حد ہی نہیں
کس قدر بے کران تو خالق
کون ہے جو بچائے گا غم سے
کہتے ہیں انس و جان تو خالق
تو ازل سے ہے اور ابد تک بھی
معنی کن فکاں تو خالق
صبح دم شاخوں پر سبھی طیور
کرتے ہیں استحسان تو خالق
عاصیوں کو فقط یہ حوصلہ ہے
ہے رحیم و رحمن تو خالق
جو کہ بے دھیان رہتا ہے تجھ سے
دیتا ہے اس پہ دھیان تو خالق
تیرے انعام کیا شمار کریں
بخششوں کی ہے کان تو خالق
جو کہ تشکیک کے ہیں مارے ہوئے
دیتا ہے امتنان تو خالق
جو کہ سیل زماں میں پچھڑے تھے
کرتا ہے کامران تو خالق
دم نزع ہر ایک ذی روح یہ
کر رہا ہے اعلان تو خالق
ساری مخلوق بھٹکا ریوڑ ہے
جس کا ہے گلہ بان تو خالق
آدمی اضطراب میں جب ہو
دیتا ہے اطمینان تو خالق
عالم آب و گل تیرے پابند
ہے زمین و زمان تو خالق
تیرے سب انبیا مصلح ہیں
زیست کا نگہبان تو خالق
خوگر حمد ہے سبھی مخلوق
رکھتا ہے شادمان تو خالق
ساغر انتظار کھینچتا ہوں
مجھ پہ کر اپنا دان تو خالق
کر رہا ہے شبیر یہ فریاد
مجھ پہ کر دے احسان تو خالق
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
جب لفظ ساتھ چھوڑ جائیں
جب آنکھ فقط نمی بولے
جب لب خالی رہ جائیں
کیا صرف سجدہ کافی ہے؟
کیا تُو سنے گا وہ آواز
جو کبھی ہونٹوں تک نہ آئی؟
جو دل میں گونجتی رہی
خاموشی میں، بے صدا؟
میرے سجدے میں شور نہیں ہے
صرف ایک لرزتا سکوت ہے
میری دعا عربی نہیں
صرف آنسوؤں کا ترجمہ ہے
میری تسبیح میں گنتی نہیں
صرف تڑپ ہے، فقط طلب
اے وہ جو دلوں کے رازوں کا راز ہے
میں مانگتا نہیں
فقط جھکتا ہوں
جو چاہا، چھن گیا
جو مانگا، بکھر گیا
پر تُو وہ ہے
جو بکھرے کو سنوار دے
اور چھن جانے کو لوٹا دے
تو سن لے
میری خاموشی کو
میری نگاہوں کی زبان کو
میرے خالی ہاتھوں کو
اپنی رحمت کا لمس عطا کر
کہ میں فقط دعاؤں کا طالب ہوں
اور وہ بھی بس تیرے در سے
سخاوت عثمان اور علی کی شجاعت مانگ رہے ہیں
بے چین لوگ سکون دل کی خاطر
قرآن جیسی دولت مانگ رہے ہیں
بجھے دل ہیں اشک بار آ نکھیں
درِ مصطفیٰ سے شفاعت مانگ رہے ہیں
سرتاپا لتھڑے ہیں گناہوں میں
وہی عاصی رب سے رحمت مانگ رہے ہیں
رخصت ہوئی دل سے دنیا کی رنگینیاں
اب سجدوں میں صرف عاقبت مانگ رہے ہیں
بھٹکے ہوئے قافلے عمر بھر
تیری بارگاہ سے ہدایت مانگ رہے ہیں
بروز محشر فرمائیں گے آقا یارب
یہ گنہگار تجھ سے مغفرت مانگ رہے ہیں
آنکھوں میں اشک ہیں ، لبوں پر دعا ہے
جنت میں داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں
ہر دور کے مومن اس جہاں میں سائر
اصحاب محمدجیسی قسمت مانگ رہے ہیں






