زندگی تو لاجواب ہے
Poet: Malik Shahzaib Ali Nasir Awan By: Malik Shahzaib Ali Nasir Awan, Lahoreکبھی ہنستی ہوئی، مسکراتی ہوئی
گیت گاتی ہوئی، گنگناتی ہوئی
کبھی روتی ہوئی، چلاتی ہوئی
جسم و روح کو ستاتی ہوئی
کبھی حسن ہے، شباب ہے
کبھی دکھوں کی کتاب ہے
مگر زندگی تو لاجواب ہے
کبھی پھولوں کی اک کیاری سی
جس کا پتا پتا، کلی کلی پیاری سی
کبھی اذیت سی، بیماری سی
تن بدن پہ بھی بھاری سی
کبھی گیندا ہے، گلاب ہے
کبھی ہر گھڑی عذاب ہے
مگر زندگی تو لاجواب ہے
کبھی انگور کی گود میں پالی ہوئی
دلکش صراحی و جام میں ڈالی ہوئی
کبھی رسم و رواج میں ڈھالی ہوئی
اور روایات کی چکی میں ڈالی ہوئی
کبھی میکدہ ہے، شراب ہے
کبھی ظلم ہے ، عتاب ہے
مگر زندگی تو لاجواب ہے
کبھی تدبیریں سکھاتی ہوئی
چکور کی اڑان اڑاتی ہوئی
کبھی تقدیر کا پہرہ بٹھاتی ہوئی
فنا فی الفور کا پیغام سناتی ہوئی
کبھی ساز ہے، رباب ہے
کبھی موت ہے، حساب ہے
مگر زندگی تو لاجواب ہے
تو لاجواب ہے
ہاں تو لاجواب ہے
کچھ خواب ہمارے تھے، مناسب بھی نہیں تھے
جو لوگ مرے دل کے بہت پاس رہے تھے
حالات کے ہاتھوں سے راغب بھی نہیں تھے
اک شخص کی چاہت نے یہ عالم ہی بدل دیا
ورنہ تو یہ آنسو کبھی غالب بھی نہیں تھے
ہم ترکِ تعلق پہ بھی خاموش رہے یوں
شکوے مرے لہجے کے مراتب بھی نہیں تھے
اس شہرِ محبت میں بڑا شور تھا لیکن
کچھ لوگ محبت کے مطالب بھی نہیں تھے
ہم اپنی وفاؤں کا صلہ ڈھونڈتے کیسے
وہ لوگ تعلق کے مراقب بھی نہیں تھے
دل ٹوٹ گیا پھر بھی دعا دیتے رہے ہم
رشتے مرے نفرت کے مناسب بھی نہیں تھے
وشمہ ترے اشعار میں درد اترا ہے ایسا
الفاظ ترے صرف کا تب بھی نہیں تھے
اس کی قدموں میں مری زندگی آباد رہی
میں نے ہر دور میں لوگوں کو بدلتے دیکھا
ماں ہی ہر حال میں بس میری طرف دار رہی
رات بھر جاگ کے رکھتی تھی مرے سر پہ نظر
اس کی چاہت مری تقدیر کی پہرے دار رہی
اپنی خواہش بھی زمانے کی نظر کر ڈالی
ماں مرے واسطے ہر خواب پہ برباد رہی
جب کبھی ٹوٹ کے بیٹھا میں اندھیروں میں کہیں
ماں کی ممتا مرے احساس کی امداد رہی
بدیعؔ آج بھی سجدوں میں یہی مانگتا ہوں
ماں سلامت رہے، دنیا یہی آباد رہی
میں تحفۂ خدا ہوں، آدم کی وہی پرنور عورت ہوں
میں صبر کی مورت بھی، میں جذبوں کی قیامت بھی
خاموش اگر رہ جاؤں، تو اندر سے قیامت ہوں
میں ماں کی دعاؤں میں، میں بیٹی کی ہنسی میں ہوں
ہر روپ میں چمکتی، میں رحمت کی علامت ہوں
میں عشق کی نرمی بھی، میں حوصلۂ آہن بھی
ٹوٹوں تو سنبھل جاؤں، میں ایسی ہی فطرت ہوں
میں ظلم کے آگے بھی سر جھکا نہیں سکتی
میں حق کی صدا بن کر ہر دور کی جرأت ہوں
میں خود کو اگر پہچانوں تو حد سے گزر جاؤں
میں اپنی ہی دنیا میں اک زندہ حقیقت ہوں







