کاش کہ یہ دل محبت نہ کرتا
Poet: UA By: UA, Lahoreکاش کہ یہ دل محبت نہ کرتا
کاش کہ یہ دِل کِسی پہ نہ مَرتا
کاش کِسی سے نظر نہ مِلاتے
کاش کہ ہم اپنا جی نہ جلاتے
نہ راتیں کٹتی کروٹ بدلتے
نہ ہی گذرتے دِن آہ بھرتے
چاہت کِسی کی نہ دِل میں بساتے
ہم نہ کسی کی باتوں میں آتے
نہ روز جِیتے نہ روز مَرتے
نہ روح نہ تڑپتی نہ ہم سِسکتے
کاش محبت کا دَم نہ بھرتا
یہ دل ہمارا محبت نہ کرتا
کاش کہ یہ دل محبت نہ کرتا
کاش کہ یہ دِل کِسی پہ نہ مَرتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







