Poetries by Mehr Muhammad Asif Salyana
ٹوٹے خواب اداس چہرہ
بھیگی پلکیں
دریا کے کنارے
ریت پے لکھے وہ کچھ لفظ
ان لفظوں کے ساتھ پروے
وہ سب خواب
جو ہم نےتھے مل کر دیکھے
میں نادان تھا اور وہ انجان
میں نادان کہ اس کے خواب ہیں میرے خواب
وہ انجان کہ خواب کا مواخذ
ساتھ میں جینا ساتھ میں مرنا تھوڑی ہے
پھر ایک شام دریا کے کنارے
راز یہ سارے کھل جاتے ہیں
وہ سب خواب ٹوٹ کے
ریت کے ذروں اور پانی کے قطروں میں
مل جاتے ہیں
میری آنکھ کا بہتا پانی
دیکھ کے اس نے مجھ سے کہا تھا
جن خوابوں کا حاصل رونا
ایسے خھواب پروتے کیوں ہو
گر جو تم نے دیکھ لئے تھے
اب پھر بیٹھ ک روتے کیوں ہو Muhammad Asif Salyana
بھیگی پلکیں
دریا کے کنارے
ریت پے لکھے وہ کچھ لفظ
ان لفظوں کے ساتھ پروے
وہ سب خواب
جو ہم نےتھے مل کر دیکھے
میں نادان تھا اور وہ انجان
میں نادان کہ اس کے خواب ہیں میرے خواب
وہ انجان کہ خواب کا مواخذ
ساتھ میں جینا ساتھ میں مرنا تھوڑی ہے
پھر ایک شام دریا کے کنارے
راز یہ سارے کھل جاتے ہیں
وہ سب خواب ٹوٹ کے
ریت کے ذروں اور پانی کے قطروں میں
مل جاتے ہیں
میری آنکھ کا بہتا پانی
دیکھ کے اس نے مجھ سے کہا تھا
جن خوابوں کا حاصل رونا
ایسے خھواب پروتے کیوں ہو
گر جو تم نے دیکھ لئے تھے
اب پھر بیٹھ ک روتے کیوں ہو Muhammad Asif Salyana
ادھوری خواہشوں میری زندگی
خواہشوں حسرتوں میں گھری
خواہشیں جو کبھی نہ پوری ہوئیں
اور جو پوری ہوئیں وہ ادھوری ہوئیں
خواہشوں کے لئے یہ ضروری نہیں
کہ وہ پوری بھی ہوں
جب سے عقل و فہم میں یہ بات آئی ہے
خواہشوں میں مقید ایک اور حسرت
میرے نادان دل میں اتر آئی ہے
کہ خواہشیں گرچہ پوری نہ ہوں
گر جو پوری ہوں وہ ادھوری نہ ہوں Muhammad Asif Salyana
خواہشوں حسرتوں میں گھری
خواہشیں جو کبھی نہ پوری ہوئیں
اور جو پوری ہوئیں وہ ادھوری ہوئیں
خواہشوں کے لئے یہ ضروری نہیں
کہ وہ پوری بھی ہوں
جب سے عقل و فہم میں یہ بات آئی ہے
خواہشوں میں مقید ایک اور حسرت
میرے نادان دل میں اتر آئی ہے
کہ خواہشیں گرچہ پوری نہ ہوں
گر جو پوری ہوں وہ ادھوری نہ ہوں Muhammad Asif Salyana
چلو ہم بات کرتے ہیں چلو ہم بات کرتے ہیں
ماضی کی سب تلخیاں بھلا کر
ساتھ چلتے ہیں
شکوؤں سے بھری ناؤ
نفرت سے بندھے لنگر سے آزاد کرتے ہیں
شہر بیزار سے پرے
کسی چاہت کی وادی میں
سکون کی ساری گٹھلیاں چن کر
غموں کو مات کرتے ہیں
کہ آؤ بات کرتے ہیں
مگر پہلے
مجھے کچھ تمہیں بتانا ہے
تمھارے بن کتا ہر پل
تمہیں پہلے سنانا ہے
اگر مانو تو میری جاں
صبح سے شام ہونے تک
تیری یادیں
تیری باتیں
میری سوچوں کا محور ہیں
جو باد-نسیم کی ماند
میری سانسوں کو رکنے سے بچاتی ہیں
تیری قربت کا احساس
ہر دم مجھے دلاتی ہیں
تمہارے وصل میں ہر پل
سلگنے سے بچاتی ہیں
کسی ساعت
جو میری آنکھ لگ جائے
وہ گزرے روز شب سارے
میرے خوابوں میں لاتی ہیں
اور میری نیندیں بھی
تمہارے نام کر جاتی ہیں
اگر ممکن ہو میری جاں
انہی یادوں کے بدلے میں
مجھے تھوڑے سے پل دے دو
کہ ہمارے بیچ چاہت میں
وہ جتنے داغ نفرت ہیں
ان سب کو
وہیں پر بیٹھ کر دھو لیں
آؤ کہ تھوڑی دیر
اکٹھے بیٹھ کر رو لیں Muhammad Asif Salyana
ماضی کی سب تلخیاں بھلا کر
ساتھ چلتے ہیں
شکوؤں سے بھری ناؤ
نفرت سے بندھے لنگر سے آزاد کرتے ہیں
شہر بیزار سے پرے
کسی چاہت کی وادی میں
سکون کی ساری گٹھلیاں چن کر
غموں کو مات کرتے ہیں
کہ آؤ بات کرتے ہیں
مگر پہلے
مجھے کچھ تمہیں بتانا ہے
تمھارے بن کتا ہر پل
تمہیں پہلے سنانا ہے
اگر مانو تو میری جاں
صبح سے شام ہونے تک
تیری یادیں
تیری باتیں
میری سوچوں کا محور ہیں
جو باد-نسیم کی ماند
میری سانسوں کو رکنے سے بچاتی ہیں
تیری قربت کا احساس
ہر دم مجھے دلاتی ہیں
تمہارے وصل میں ہر پل
سلگنے سے بچاتی ہیں
کسی ساعت
جو میری آنکھ لگ جائے
وہ گزرے روز شب سارے
میرے خوابوں میں لاتی ہیں
اور میری نیندیں بھی
تمہارے نام کر جاتی ہیں
اگر ممکن ہو میری جاں
انہی یادوں کے بدلے میں
مجھے تھوڑے سے پل دے دو
کہ ہمارے بیچ چاہت میں
وہ جتنے داغ نفرت ہیں
ان سب کو
وہیں پر بیٹھ کر دھو لیں
آؤ کہ تھوڑی دیر
اکٹھے بیٹھ کر رو لیں Muhammad Asif Salyana
ملاقات درد کی دیواروں پر
آس کے پرندے ہوں
امید کے گلابوں پر
ہاتھ ہاتھ کانٹے ہوں
دکھ کے اشک برسوں سے
آبدیدہ لوگوں میں
غمزدہ مکینوں میں
بے دریغ بانٹے ہوں
جس نگر کے ہر گھر میں
مفلسی موت کے بھید میں
بار بار ڈستی ہو
درد سہنا عادت ہو
اور لفظ کہنے کو
یہ زبان ترستی ہو
سوچ ک خشک صحرا میں
آبرو کا آنچل جب
ظلم کی اندھیری میں
حسرتوں ک کانٹوں سے
تار تار ہو جائے
اور دل ناداں کی
ایک معصوم خواہش ہو
ان سانسوں کے رکنے تک
اور آس کے ٹوٹنے تک
میری ملاقات
شہر غم میں خوشیوں سے
ایک بار ہو ہے
بس ایک بار ہو جائے Salyana
آس کے پرندے ہوں
امید کے گلابوں پر
ہاتھ ہاتھ کانٹے ہوں
دکھ کے اشک برسوں سے
آبدیدہ لوگوں میں
غمزدہ مکینوں میں
بے دریغ بانٹے ہوں
جس نگر کے ہر گھر میں
مفلسی موت کے بھید میں
بار بار ڈستی ہو
درد سہنا عادت ہو
اور لفظ کہنے کو
یہ زبان ترستی ہو
سوچ ک خشک صحرا میں
آبرو کا آنچل جب
ظلم کی اندھیری میں
حسرتوں ک کانٹوں سے
تار تار ہو جائے
اور دل ناداں کی
ایک معصوم خواہش ہو
ان سانسوں کے رکنے تک
اور آس کے ٹوٹنے تک
میری ملاقات
شہر غم میں خوشیوں سے
ایک بار ہو ہے
بس ایک بار ہو جائے Salyana
ارادے میں اک مسافر ہوں
اڑ رہا ہوں
ہوا کی لہروں کےساتھ ساتھ میں کھو گیا ہوں
شکستہ پل کی شکست کل کی
تلخ حقیقت میں کھو گیا ہوں
میں جانتا ہوں
میرے ارادے
میری حقیقت کو توڑ دیں گے
مجھے تڑپتا ہی چھوڑ دیں کے
مگر یہ کیا کہ
میرے ارادے ہی مجھ کوچھوڑیں
مجھے ہی توڑیں
میرے لہو کی ہر ایک بوند کو نچوڑیں
یہ نا ممکن ہے
یہ کیوں نا ممکن ہے
کہ ان ارادوں میں جستجو ہے
میری حقیقت میرا جنوں ہے
میری محبت میرا لہو ہے
کہ زندگی کی یہ آرزو ہے
تجھے ہی پانے کی جستجو ہے
کہ ان ارادوں میں تو ہی تو ہے Mehr Muhammad Asif Salyana
اڑ رہا ہوں
ہوا کی لہروں کےساتھ ساتھ میں کھو گیا ہوں
شکستہ پل کی شکست کل کی
تلخ حقیقت میں کھو گیا ہوں
میں جانتا ہوں
میرے ارادے
میری حقیقت کو توڑ دیں گے
مجھے تڑپتا ہی چھوڑ دیں کے
مگر یہ کیا کہ
میرے ارادے ہی مجھ کوچھوڑیں
مجھے ہی توڑیں
میرے لہو کی ہر ایک بوند کو نچوڑیں
یہ نا ممکن ہے
یہ کیوں نا ممکن ہے
کہ ان ارادوں میں جستجو ہے
میری حقیقت میرا جنوں ہے
میری محبت میرا لہو ہے
کہ زندگی کی یہ آرزو ہے
تجھے ہی پانے کی جستجو ہے
کہ ان ارادوں میں تو ہی تو ہے Mehr Muhammad Asif Salyana