Poetries by Gulfraz Ahmed Itab
ضمیر بک گئے یہاں بکتے ہیں جسم دو دو آنوں میں
شراب بکتی ہے جیسے شراب خانوں میں
ضمیر بکتے ہیں ادائیں بکتی ہیں
پیار ملتا نہیں ان دکانوں میں
ضمیر فروشوں کو سرفروش یا رب کر دے
کہ سکتے ندامت بھی نہیں انسانوں میں
خدا کرے آہیں عرش تک جائیں خدا کرے
اور ترانے میرے پہنچیں آسمانوں میں
باب دل یہ سوچ کر بند کر لیا عتاب
کہ اب کون آئے گا ان ویرانوں میں Gulfraz Ahmed Itab
شراب بکتی ہے جیسے شراب خانوں میں
ضمیر بکتے ہیں ادائیں بکتی ہیں
پیار ملتا نہیں ان دکانوں میں
ضمیر فروشوں کو سرفروش یا رب کر دے
کہ سکتے ندامت بھی نہیں انسانوں میں
خدا کرے آہیں عرش تک جائیں خدا کرے
اور ترانے میرے پہنچیں آسمانوں میں
باب دل یہ سوچ کر بند کر لیا عتاب
کہ اب کون آئے گا ان ویرانوں میں Gulfraz Ahmed Itab
لہو جلتا ہے لٹ گیا میں اک آرزے روا کے لیے
بدنام ہوتا نہیں کوئی ناروا کے لیے
بس تجھے ہی مانگ کے رب سے منتظر ہوں تیرا
میں نے ہاتھ اٹھایا ہی نہیں کسی اور دعا کے لیے
کر رہا ہوں تجھ سے تخیل میں محبت میں
میں نے اظہار بھی نہ کیا تیری رضا کے لیے
میری چاہت میرے ارمانوں کا بھرم رکھ لے
میں بھی انساں ہوں رسوا نہ کر خدا کے لیے
کبھی نہ لوٹوں گا راہ محبت سے عتاب
چاہے مار ڈالیں مجھے اس خطا کے لیے Gulfraz Ahmed Itab
بدنام ہوتا نہیں کوئی ناروا کے لیے
بس تجھے ہی مانگ کے رب سے منتظر ہوں تیرا
میں نے ہاتھ اٹھایا ہی نہیں کسی اور دعا کے لیے
کر رہا ہوں تجھ سے تخیل میں محبت میں
میں نے اظہار بھی نہ کیا تیری رضا کے لیے
میری چاہت میرے ارمانوں کا بھرم رکھ لے
میں بھی انساں ہوں رسوا نہ کر خدا کے لیے
کبھی نہ لوٹوں گا راہ محبت سے عتاب
چاہے مار ڈالیں مجھے اس خطا کے لیے Gulfraz Ahmed Itab