Poetries by Huma Imran
کوئی اور نہیں دل کا کیا کریں یہ ہمارے اختیار میں نہیں
ان کے دیدار سے ہمارا دل بھرتا نہیں
میری آنکھوں میں اب اور کوئی جچتا نہیں
تیرے سوا ہمیں کوئی نظر آتا نہیں
توہم سے اتنا بیزار کیوں ہے سمجھ میں آتا نہیں
ہم نے تو کبھی تیرا دل دکھایا نہیں
تو اچھی طرح سے پہچان لےہمیں ہم بےوفا تو نہیں
تیرے بنا دنیا میں جینے کا تصور نہیں Huma Imran
ان کے دیدار سے ہمارا دل بھرتا نہیں
میری آنکھوں میں اب اور کوئی جچتا نہیں
تیرے سوا ہمیں کوئی نظر آتا نہیں
توہم سے اتنا بیزار کیوں ہے سمجھ میں آتا نہیں
ہم نے تو کبھی تیرا دل دکھایا نہیں
تو اچھی طرح سے پہچان لےہمیں ہم بےوفا تو نہیں
تیرے بنا دنیا میں جینے کا تصور نہیں Huma Imran
اچھی بات نہیں یوں روٹھنا ہم سے اچھی بات نہیں
یوں دل میرا توڑ دینا اچھی بات نہیں
یوں غیروں پر کرم کرنا اچھی بات نہیں
یوں اپنوں پر ستم کرنا اچھی بات نہیں
یوں لوگوں سے دل لگانا اچھی بات نہیں
یوں ہم سے نظریں چرانا اچھی بات نہیں
یوں ہم سے بے وفائی کرنا اچھی بات نہیں
یوں دوسرے کی محبوبہ بن جانا اچھی بات نہیں Huma Imran
یوں دل میرا توڑ دینا اچھی بات نہیں
یوں غیروں پر کرم کرنا اچھی بات نہیں
یوں اپنوں پر ستم کرنا اچھی بات نہیں
یوں لوگوں سے دل لگانا اچھی بات نہیں
یوں ہم سے نظریں چرانا اچھی بات نہیں
یوں ہم سے بے وفائی کرنا اچھی بات نہیں
یوں دوسرے کی محبوبہ بن جانا اچھی بات نہیں Huma Imran
عاشق کی خواہشات میرے دل کی یہ خواہش ہے
تیری راہوں میں اپنی پلکیں بچھانا چاہتی ہوں
تو اگر اجازت ہم کو یہ دے دے
ساری زندگانی تیرے سنگ گزارنا چاہتی ہوں
تیرے ساتھ بیتائے ہوئے سارے پل
میں اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی ہوں
زمانے کی اب ہمیں کوئی پرواہ نہیں
بہت پیار کرتے ہیں تجھ سے مل کر یہ بتانا چاہتی ہوں
Huma Imran
تیری راہوں میں اپنی پلکیں بچھانا چاہتی ہوں
تو اگر اجازت ہم کو یہ دے دے
ساری زندگانی تیرے سنگ گزارنا چاہتی ہوں
تیرے ساتھ بیتائے ہوئے سارے پل
میں اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی ہوں
زمانے کی اب ہمیں کوئی پرواہ نہیں
بہت پیار کرتے ہیں تجھ سے مل کر یہ بتانا چاہتی ہوں
Huma Imran
تیری میری دوستی زندگی کے میلے میں تو میرا دوست ہے
تجھ سے جڑی ہوئی ہر شے میری دولت ہے
اب تو اپنی بدنصیبی سے ڈرلگنے لگتا ہے
کہیں ہماری دوستی کو نظر نہ لگ جائے
زمانے سے چھپا کے رکھنے کو دل کرتا ہے
تیرا ساتھ پا کر دل ہمارا باغ باغ ہوگیا ہے
میرے لبوں پر ہر دم یہی دعا رہتی ہے
تیری میری دوستی یونہی پیار سے بندھی رہے Huma Imran
تجھ سے جڑی ہوئی ہر شے میری دولت ہے
اب تو اپنی بدنصیبی سے ڈرلگنے لگتا ہے
کہیں ہماری دوستی کو نظر نہ لگ جائے
زمانے سے چھپا کے رکھنے کو دل کرتا ہے
تیرا ساتھ پا کر دل ہمارا باغ باغ ہوگیا ہے
میرے لبوں پر ہر دم یہی دعا رہتی ہے
تیری میری دوستی یونہی پیار سے بندھی رہے Huma Imran
بھیا کا ڈبو ہمارے گھر میں بھیا کا ڈبو رہتا ہے
بھونکنے سے اس کے سارا محلہ ڈرتا ہے
رنگت کا کیا کہنا اسکے آدھا سفید اور کالا ہے
دیکھ کر ایسا لگتا ہے رات اور دن کا ملاپ ہے
کھانا وہ بھیا کے ہاتھ سے ہی کھاتا ہے
سارے گھر کی بچی کچی ہڈیاں وہ کھا جاتا ہے
لٹیرے اور چوروں کو اس سے بہت ڈر لگتا ہے
ان کو دیکھ کر زور سے بھونکنے لگتا ہے Huma Imran
بھونکنے سے اس کے سارا محلہ ڈرتا ہے
رنگت کا کیا کہنا اسکے آدھا سفید اور کالا ہے
دیکھ کر ایسا لگتا ہے رات اور دن کا ملاپ ہے
کھانا وہ بھیا کے ہاتھ سے ہی کھاتا ہے
سارے گھر کی بچی کچی ہڈیاں وہ کھا جاتا ہے
لٹیرے اور چوروں کو اس سے بہت ڈر لگتا ہے
ان کو دیکھ کر زور سے بھونکنے لگتا ہے Huma Imran
کیوں روٹھ گئے کاش ایک بار ہمیں یہ موقعہ مل جائے
یونہی چلتے چلتے تو ہمیں مل جائے
ہم اپنی خطاؤں پر تجھ سے معافی مانگ لیتے
ندامت کے آنسو نہ پلکوں پر میری ہوتے
ہم دوستوں کے سامنے تیرا مذاق نہ اڑاتے
تم وہاں سے اٹھ کر روتے ہوئے نہ چلے جاتے
کلاس میں جب تم لیکچر لینے آتے تھے
کرسی کینچھ کر ہم تجھے نیچے گرا دیتے تھے
جوانی کے زمانےمیں ہم اتنے مغرور کیوں تھے
سیدھے منہ تجھ سے کبھی بات نہیں کرتے تھے
تم ہمارے سارے ستم خوشی خوشی سہتے
پھر بھی تمہارے ماتھے پر کبھی بل نہ آتے
کاش آج ہم پر اپنا ایک احسان کر کے چلے جاتے
یوں روٹھ کر ایسے نہ تم دنیا سے رخصت ہو جاتے Huma Imran
یونہی چلتے چلتے تو ہمیں مل جائے
ہم اپنی خطاؤں پر تجھ سے معافی مانگ لیتے
ندامت کے آنسو نہ پلکوں پر میری ہوتے
ہم دوستوں کے سامنے تیرا مذاق نہ اڑاتے
تم وہاں سے اٹھ کر روتے ہوئے نہ چلے جاتے
کلاس میں جب تم لیکچر لینے آتے تھے
کرسی کینچھ کر ہم تجھے نیچے گرا دیتے تھے
جوانی کے زمانےمیں ہم اتنے مغرور کیوں تھے
سیدھے منہ تجھ سے کبھی بات نہیں کرتے تھے
تم ہمارے سارے ستم خوشی خوشی سہتے
پھر بھی تمہارے ماتھے پر کبھی بل نہ آتے
کاش آج ہم پر اپنا ایک احسان کر کے چلے جاتے
یوں روٹھ کر ایسے نہ تم دنیا سے رخصت ہو جاتے Huma Imran