Poetries by Bent e Hussain
قومی نوحہ٣ تو نے عیار لیڈروں کا سہارا ڈھونڈا
تو نے عیاش امیروں کی طرفداری کی
تو نے خود اپنی صداقت کا گلا گھونٹ دیا
تو نے ہر فرض کے احساس سے غداری کی
رشوتیں عام ہوئیں سود کے بادل برسے
گرم بازاری فحاشی و عریانی تھی
بادہ و جام کے چرچے رہے محفل محفل
ہر طرف ساز تھے نغموں کی فراوانی تھی
سرسراتے رہے ہر سمت سنہری آنچل
حسن کو کھینچ کے لایا گیا بازاروں میں
زور و زر رہ گئے معیار شرافت بن کر
سو گئی قوم گھنی زلف کی مہکاروں میں Bent-E-Hussain
تو نے عیاش امیروں کی طرفداری کی
تو نے خود اپنی صداقت کا گلا گھونٹ دیا
تو نے ہر فرض کے احساس سے غداری کی
رشوتیں عام ہوئیں سود کے بادل برسے
گرم بازاری فحاشی و عریانی تھی
بادہ و جام کے چرچے رہے محفل محفل
ہر طرف ساز تھے نغموں کی فراوانی تھی
سرسراتے رہے ہر سمت سنہری آنچل
حسن کو کھینچ کے لایا گیا بازاروں میں
زور و زر رہ گئے معیار شرافت بن کر
سو گئی قوم گھنی زلف کی مہکاروں میں Bent-E-Hussain
قومی نوحہ٢ تو نے الله سے یہ کہہ کے وطن مانگا تھا
غلبہ اس خطہ میں اسلام کو حاصل ہوگا
اس میں قرآن کے احکام کریں گے جاری
یہ وطن عظمت اسلام کا حامل ہوگا
اور الله نے جب پاک وطن بخش دیا
اپنے ہر عہد کو پیمان کو توڑا تو نے
اپنی ہر ایک روایت سے بغاوت کر کے
رشتہ مہر و وفا غیر سے جوڑا تو نے
ظلم اپنوں پہ کئے حرص و ہوس کے بل پر
ذکر اصلاح کیا وجہ خرابی بن کر
حلقہ کفر سے الفت کی بڑھائیں پینگیں
درس اخلاق دیا تو نے شرابی بن کر Bent-E-Hussain
غلبہ اس خطہ میں اسلام کو حاصل ہوگا
اس میں قرآن کے احکام کریں گے جاری
یہ وطن عظمت اسلام کا حامل ہوگا
اور الله نے جب پاک وطن بخش دیا
اپنے ہر عہد کو پیمان کو توڑا تو نے
اپنی ہر ایک روایت سے بغاوت کر کے
رشتہ مہر و وفا غیر سے جوڑا تو نے
ظلم اپنوں پہ کئے حرص و ہوس کے بل پر
ذکر اصلاح کیا وجہ خرابی بن کر
حلقہ کفر سے الفت کی بڑھائیں پینگیں
درس اخلاق دیا تو نے شرابی بن کر Bent-E-Hussain
قومی نوحہ حادثہ سخت بہت سخت ہے رو لے اے دل
خشک آنکھیں ہیں انھیں خون سے دھولے اے دل
ایک طوفان بلا بن کے قیامت ٹوٹا
قوم گرداب میں کھاتی ہے جھکولے اے دل
قصہ گلشن برباد سنا ماتم کر
خوب دل کھول کے رو نالہ و شیون کر لے
آسمانوں کو ہلا آہ و فغاں سے لیکن
کچھ سکون ہو تو ذرا ذہن کو روشن کر لے
غور کر اس پر کہ کیوں ایسی تباہی آئی
کس لیے نور پہ غالب یہ سیاہی آئی
کیوں کڑے وقت میں کام آئی نہ طاقت کوئی
کیوں نہ امداد کو تائید الہی آئی Bent-E-Hussain
خشک آنکھیں ہیں انھیں خون سے دھولے اے دل
ایک طوفان بلا بن کے قیامت ٹوٹا
قوم گرداب میں کھاتی ہے جھکولے اے دل
قصہ گلشن برباد سنا ماتم کر
خوب دل کھول کے رو نالہ و شیون کر لے
آسمانوں کو ہلا آہ و فغاں سے لیکن
کچھ سکون ہو تو ذرا ذہن کو روشن کر لے
غور کر اس پر کہ کیوں ایسی تباہی آئی
کس لیے نور پہ غالب یہ سیاہی آئی
کیوں کڑے وقت میں کام آئی نہ طاقت کوئی
کیوں نہ امداد کو تائید الہی آئی Bent-E-Hussain
تنہا دل کو جس وقت بھی دیکھا اسے پایا تنہا
زندگی کیسے کٹے گی یہ خدایا تنہا
دشت پر خار میں ساتھ اہل سفر نے چھوڑا
رہ گیا ساتھ میرے بس میرا سایہ تنہا
یوں تو ہر سمت بپا سینکڑوں ہنگامے تھے
پھر بھی جس شخص کو دیکھا اسے پایا تنہا
جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے جگر شق ہوجائیں
ہم نے اس بار امانت کو اٹھایا تنہا
تیرے جلوؤں نے نگاہوں سے چھپا دی ہر شے
تو بھری بزم میں ہم کو نظر آیا تنہا Bent-E-Hussain
زندگی کیسے کٹے گی یہ خدایا تنہا
دشت پر خار میں ساتھ اہل سفر نے چھوڑا
رہ گیا ساتھ میرے بس میرا سایہ تنہا
یوں تو ہر سمت بپا سینکڑوں ہنگامے تھے
پھر بھی جس شخص کو دیکھا اسے پایا تنہا
جس کی ہیبت سے پہاڑوں کے جگر شق ہوجائیں
ہم نے اس بار امانت کو اٹھایا تنہا
تیرے جلوؤں نے نگاہوں سے چھپا دی ہر شے
تو بھری بزم میں ہم کو نظر آیا تنہا Bent-E-Hussain
شراب وشیشہ وذکر بتاں کا وقت نہیں شراب وشیشہ وذکر بتاں کا وقت نہیں
اٹھو اٹھو کہ یہ خواب گراں کا وقت نہیں
زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کا شیدائی
خطا معاف یہ حسن بیاں کا وقت نہیں
روش روش پہ خزاں کی نقیب ہے یارو
چمن بچاؤ غم آشیاں کا وقت نہیں
بڑھو کہ بڑھتی چلی آرہی ہے شام حیات
عمل کا وقت ہے آہ و فغاں کا وقت نہیں
سنو وہ نغمہ جو روح حیات کو گرمائے
سکوں ہو جس سے اب اس داستاں کا وقت نہیں
وہ نبض ڈوب چلی ہے وہ آنکھ پتھرائی
خدا کا نام لو یاد بتاں کا وقت نہیں Bent-E-Hussain
اٹھو اٹھو کہ یہ خواب گراں کا وقت نہیں
زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کا شیدائی
خطا معاف یہ حسن بیاں کا وقت نہیں
روش روش پہ خزاں کی نقیب ہے یارو
چمن بچاؤ غم آشیاں کا وقت نہیں
بڑھو کہ بڑھتی چلی آرہی ہے شام حیات
عمل کا وقت ہے آہ و فغاں کا وقت نہیں
سنو وہ نغمہ جو روح حیات کو گرمائے
سکوں ہو جس سے اب اس داستاں کا وقت نہیں
وہ نبض ڈوب چلی ہے وہ آنکھ پتھرائی
خدا کا نام لو یاد بتاں کا وقت نہیں Bent-E-Hussain
لاالہ الاالله جہاں فکرو نظر لاالہ الاالله
متاع اھل خبر لاالہ الاالله
یہ ذکر حق کی متاع عزیز کیا شے ہے
نہیں کسی کو خبر لاالہ الاالله
زہے نصیب یہ دولت اگر مجھے مل جائے
ہو لب پہ شام وسحر لا الہ الاالله
نجوم وشمس و قمر بھی فریب دے نہ سکے
خلیل کی ہے نظر لاالہ الاالله
کہیں بھی بحر معاصی میں غرق ہو جاتے
نہ ہوتا ساتھ اگر لاالہ الالله
ہر ایک ذرہ ہے مصروف یاد حق کیفی
وہ برگ ہو کہ شجر لاالہ الاالله Bent e Hussain
متاع اھل خبر لاالہ الاالله
یہ ذکر حق کی متاع عزیز کیا شے ہے
نہیں کسی کو خبر لاالہ الاالله
زہے نصیب یہ دولت اگر مجھے مل جائے
ہو لب پہ شام وسحر لا الہ الاالله
نجوم وشمس و قمر بھی فریب دے نہ سکے
خلیل کی ہے نظر لاالہ الاالله
کہیں بھی بحر معاصی میں غرق ہو جاتے
نہ ہوتا ساتھ اگر لاالہ الالله
ہر ایک ذرہ ہے مصروف یاد حق کیفی
وہ برگ ہو کہ شجر لاالہ الاالله Bent e Hussain