Poetries by Yaseen Shahi
اپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو اپنے جذبات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
بس یہی بات آﻧﻜﮭ میںرﻜﻬ لو
زندگی تو سفر ہے صحرا کا
تھوڑی برسات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
دﻦ سے جاناں کبھی چھپا کے مجھے
صرف اک رات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
میں ہوں محور تمہاری چاہت کا
تم میری ذات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
جن سے خوابوں میں رنگ بھر جائیں
ایسے لمحات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
شاہی ہم سے وفا پرستوں کی
کوئی تو بات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو Yaseen Shahi
بس یہی بات آﻧﻜﮭ میںرﻜﻬ لو
زندگی تو سفر ہے صحرا کا
تھوڑی برسات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
دﻦ سے جاناں کبھی چھپا کے مجھے
صرف اک رات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
میں ہوں محور تمہاری چاہت کا
تم میری ذات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
جن سے خوابوں میں رنگ بھر جائیں
ایسے لمحات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو
شاہی ہم سے وفا پرستوں کی
کوئی تو بات آﻧﻜﮭ میں رﻜﻬ لو Yaseen Shahi
کئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے کئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے
مگر اے کاش ہم دونوں ہمی دونوں پہ مر جاتے
اگر تم خواب ہوتے تو تمھیں آنکھوں میں ﺭﻛﻬ لیتے
نہ گویا نیند سے پھر جاگتے حتیٰ کے مر جاتے
اگر ہم روشنی ہوتے تو پھر احساس کی لو سے
زمیں کو چھوڑ دیتے مل کے دونوں چاند پر جاتے
اگر تم پھول ہوتے تو تمہاری خوشبو میں رہتے
سمندر کی طرح ہوتے تو ہم تم میں اتر جاتے
ہمارے خال و خد کیسے ہیں یہ اب تک نہیں دیکھا
اگر تم آئینہ ہوتے تو ہم کتنے سنوار جاتے
تمھارے حسن پہ پہرہ ہمارے عشق کا ہوتا
جواں رکھتے سدا تم کو اگر لمحے ٹھہر جاتے
اگر سورج ہی ہوتے تو پھر اپنی دھوپ کی صورت
وجود یار کی دھرتی پہ شاہی ہم بکھر جاتے Yaseen Shahi
مگر اے کاش ہم دونوں ہمی دونوں پہ مر جاتے
اگر تم خواب ہوتے تو تمھیں آنکھوں میں ﺭﻛﻬ لیتے
نہ گویا نیند سے پھر جاگتے حتیٰ کے مر جاتے
اگر ہم روشنی ہوتے تو پھر احساس کی لو سے
زمیں کو چھوڑ دیتے مل کے دونوں چاند پر جاتے
اگر تم پھول ہوتے تو تمہاری خوشبو میں رہتے
سمندر کی طرح ہوتے تو ہم تم میں اتر جاتے
ہمارے خال و خد کیسے ہیں یہ اب تک نہیں دیکھا
اگر تم آئینہ ہوتے تو ہم کتنے سنوار جاتے
تمھارے حسن پہ پہرہ ہمارے عشق کا ہوتا
جواں رکھتے سدا تم کو اگر لمحے ٹھہر جاتے
اگر سورج ہی ہوتے تو پھر اپنی دھوپ کی صورت
وجود یار کی دھرتی پہ شاہی ہم بکھر جاتے Yaseen Shahi