Poetries by Siraj Ahmad Khan
تمہارے دید کو جس طرح بیقرار ہوں میں تمہاری یاد تمہارا خیال رہتا ہے
تمہارے عشق میں جینا محال رہتا ہے
تمہاری دید کو جس طرح بیقرار ہوں میں
کیا میرے جیسا تمہارا بھی حال رہتا ہے
شبَ فراق میں اب نیند کیوں نہیں آتی
زبان حال پہ بس یہ سوال رہتا ہے
نہ فکرمند ہو اپنا شباب ڈھلنے پر
کیا تاحیات یہ حسن و جمال رہتا ہے
فضول کہتے ہو قسمت کو وجہ ناکامی
بشر کے ہاتھوں عروج و زوال رہتا ہے
وہ ایک پل میں بنا لیں گے تجھ کو دیوانہ
ادا میں اُن کی سراج یہ کمال رہتا ہے Siraj Ahmad Khan
تمہارے عشق میں جینا محال رہتا ہے
تمہاری دید کو جس طرح بیقرار ہوں میں
کیا میرے جیسا تمہارا بھی حال رہتا ہے
شبَ فراق میں اب نیند کیوں نہیں آتی
زبان حال پہ بس یہ سوال رہتا ہے
نہ فکرمند ہو اپنا شباب ڈھلنے پر
کیا تاحیات یہ حسن و جمال رہتا ہے
فضول کہتے ہو قسمت کو وجہ ناکامی
بشر کے ہاتھوں عروج و زوال رہتا ہے
وہ ایک پل میں بنا لیں گے تجھ کو دیوانہ
ادا میں اُن کی سراج یہ کمال رہتا ہے Siraj Ahmad Khan