Poetries by Maqsood Nazir OMI
پاک فوج کے نام ہیں امتحآن قدم قدم پہ یر سُو تمہارے لئے
نگہباب ہوخدا تمہارا سدا پاک عوام کہتے ہیں
انسان کو مرنے والا کبھی بھی انسان نہیں ہوتا
رہتا ہے خدا انسانوں مےں الہیٰ کلام کہتے ہیں
دئے مار وہ حیوان جو خود کو انسان کہتے تھے
پاک فوج کے جوان ہم تجھے سلام کہتے ہیں
ہے عہد معصوم شہیدہ سے شمع علم کی روشن رہے گی
ہر شعبہ زندگی کےعوام خاص و عام تما م کہتے ہیں
مقصود ہے دُعاگو نعمتَ امن کے لئے دھرتی پہ
نہ خاک و خون میں نہالے کوئی صبح و شام کہتے ہیں maqsood nazir omi
نگہباب ہوخدا تمہارا سدا پاک عوام کہتے ہیں
انسان کو مرنے والا کبھی بھی انسان نہیں ہوتا
رہتا ہے خدا انسانوں مےں الہیٰ کلام کہتے ہیں
دئے مار وہ حیوان جو خود کو انسان کہتے تھے
پاک فوج کے جوان ہم تجھے سلام کہتے ہیں
ہے عہد معصوم شہیدہ سے شمع علم کی روشن رہے گی
ہر شعبہ زندگی کےعوام خاص و عام تما م کہتے ہیں
مقصود ہے دُعاگو نعمتَ امن کے لئے دھرتی پہ
نہ خاک و خون میں نہالے کوئی صبح و شام کہتے ہیں maqsood nazir omi
وطن میں امن اے خدا میرے وطن کو پُر امن بنا دے
میرے وطن میں امن کی فضل اُگا دے
برسے رحمت کی برکھا اس پاک دھرتی پہ
ہر باسی کے چہرے پہ مسکراہٹ لا دے
پاکستان ہے گلدستہ ہر رنگ کے پھولوں کا
اس چمن کو اک مخلص مالی عطا دے
دُعا ہے اے خدا تیری بارگاہ الہیٰ میں
دہشتگردی سے پاک و صاف بنا دے
حیوان بنے بیٹھے ہیں حکمران اب تو
مقصود کو انسان کا اصلی چہرہ دیکھا دے Maqsood Nazir OMI
میرے وطن میں امن کی فضل اُگا دے
برسے رحمت کی برکھا اس پاک دھرتی پہ
ہر باسی کے چہرے پہ مسکراہٹ لا دے
پاکستان ہے گلدستہ ہر رنگ کے پھولوں کا
اس چمن کو اک مخلص مالی عطا دے
دُعا ہے اے خدا تیری بارگاہ الہیٰ میں
دہشتگردی سے پاک و صاف بنا دے
حیوان بنے بیٹھے ہیں حکمران اب تو
مقصود کو انسان کا اصلی چہرہ دیکھا دے Maqsood Nazir OMI
جسم پالنے کے لئے جسم بیچتی ہوں میں جسم پالنے کے لئے جسم بیچتی ہوں میں
مسکراہٹ سے اپنے غم بیچتی ہوں میں
ہوں دلوں کی دھڑکن رات کے پہر میں
عاشقوں کو دن میں باوضو دیکھتی ہوں میں
پدائش میری خدا کی رحمت نہیں تھی کیا
سوال یہ سب سے ہر روز پوچھتی ہوں میں
کب تک رہوں گی گود گود میں اے خدا
لحمہ لحمہ مرجھاتی اور لمحہ لمحہ کھلتی ہوں میں
آج جوان کل بوڑھی پھر مر جائوں گی میں
مقصود نہ ملے یہ جگہ کسی کو یہ سوچتی ہوں میں
Maqsood Nazir OMI
مسکراہٹ سے اپنے غم بیچتی ہوں میں
ہوں دلوں کی دھڑکن رات کے پہر میں
عاشقوں کو دن میں باوضو دیکھتی ہوں میں
پدائش میری خدا کی رحمت نہیں تھی کیا
سوال یہ سب سے ہر روز پوچھتی ہوں میں
کب تک رہوں گی گود گود میں اے خدا
لحمہ لحمہ مرجھاتی اور لمحہ لمحہ کھلتی ہوں میں
آج جوان کل بوڑھی پھر مر جائوں گی میں
مقصود نہ ملے یہ جگہ کسی کو یہ سوچتی ہوں میں
Maqsood Nazir OMI
نگاہوں میں سرِشام وہ مقام آگیا ہے نگاہوں میں سرِشام وہ مقام آگیا ہے
ایسے ہی لبوں پہ اُس کا نام آگیا ہے
ہمیشہ خود کو بادشاہ جانا محبت کا ہم نے
وفا مانگنے کا اب تو مقام آگیا ہے
اہل دل بتا دو سب محبت کرنے والوں کو
یہ تھا خیال میں جو وہ انجام آگیا ہے
مقصد محبت کا کامیت اور پاکیزگی ہے
خود عرضی شخی کا پھر کیا کام آگیا ہے
بے یقینی تو مقصود توہین ہے محبت کی
کیوں محبت میں عمل یہ سرِعام آگیا ہے Maqsood Nazir OMI
ایسے ہی لبوں پہ اُس کا نام آگیا ہے
ہمیشہ خود کو بادشاہ جانا محبت کا ہم نے
وفا مانگنے کا اب تو مقام آگیا ہے
اہل دل بتا دو سب محبت کرنے والوں کو
یہ تھا خیال میں جو وہ انجام آگیا ہے
مقصد محبت کا کامیت اور پاکیزگی ہے
خود عرضی شخی کا پھر کیا کام آگیا ہے
بے یقینی تو مقصود توہین ہے محبت کی
کیوں محبت میں عمل یہ سرِعام آگیا ہے Maqsood Nazir OMI
ہر شے میں عکس اُس کا ضرور ہوتا ہے ہر شے میں عکس اُس کا ضرور ہوتا ہے
اُس کا چہرہ اآنکھوں سے دور نہیں ہوتا
محبت تو الہیٰ جذبہ ہے انسان کے اندر
پےار کرنا تو کرنے والے کاقصور نہیں ہوتا
قدرت نے نوازا ہے محبت سے سب کو
ہر صورت مےں کبھی بھی محبوب نہیں ہوتا
جو بن جائے دل کی ڈھرکن کا مالک
اُس جےسا کبھی بھی کوئی اور نیےں ہوتا
پےکر حُسن و وفا کے بہت ہیں جہاں میں
ملے مطلوب تو مقصودکچھ اور نہیں ہوتا Maqsood Nazir OMI
اُس کا چہرہ اآنکھوں سے دور نہیں ہوتا
محبت تو الہیٰ جذبہ ہے انسان کے اندر
پےار کرنا تو کرنے والے کاقصور نہیں ہوتا
قدرت نے نوازا ہے محبت سے سب کو
ہر صورت مےں کبھی بھی محبوب نہیں ہوتا
جو بن جائے دل کی ڈھرکن کا مالک
اُس جےسا کبھی بھی کوئی اور نیےں ہوتا
پےکر حُسن و وفا کے بہت ہیں جہاں میں
ملے مطلوب تو مقصودکچھ اور نہیں ہوتا Maqsood Nazir OMI
رہے گا قائم یہ عہد اُس سے ہمیشہ رہے گا قائم یہ عہد اُس سے ہمیشہ
تادم خواہش نگاہیں نیچی رکھنی ہے
کہ میں نے جب آنکھ اُٹھنی ہے
تصویر سامنے تیری ہی پانی ہے
اپنے لیے کچھ نہیں مانگنا خدا سے
جھولی صرف تیرے لیے پلھنی ہے
تیری زندگی کے جیتے ہیں ہم
ہر سانس اپنی تیرے نام لگانی ہے
اُسے میر ے پیار کی خبر تک نہ ہو
آرزو یہ اپنی دل ِصنم میں لانی ہے
مقصود جو دُینا کو عجب لگے پیار میں
وہ انوکھی وفا محبت میں کر دکھانی ہے Maqsood Nazir OMI
تادم خواہش نگاہیں نیچی رکھنی ہے
کہ میں نے جب آنکھ اُٹھنی ہے
تصویر سامنے تیری ہی پانی ہے
اپنے لیے کچھ نہیں مانگنا خدا سے
جھولی صرف تیرے لیے پلھنی ہے
تیری زندگی کے جیتے ہیں ہم
ہر سانس اپنی تیرے نام لگانی ہے
اُسے میر ے پیار کی خبر تک نہ ہو
آرزو یہ اپنی دل ِصنم میں لانی ہے
مقصود جو دُینا کو عجب لگے پیار میں
وہ انوکھی وفا محبت میں کر دکھانی ہے Maqsood Nazir OMI
میں نے جب بھی تجھے یاد کرنا چاہا میں نے جب بھی تجھے یاد کرنا چاہا
دل نے تیرے آنگن میں اُترنا چاہا
تیری صورت کو سیرت نے جلا بخشی
تیری قربت میں زندگی کو بسر کرنا چاہا
حالات نے بڑا مسل کر رکھ دیا ہم کو
ورنہ ہم نے تجھے آئینہ دل میں اُترنا چاہا
رکھا کر دل پہ پتھر جدائی کا
ہمیشہ یاد یوں میں ملنا چاہا
مقصود سدا خوش رہو اپنی حیات میں
سوا اس کے نہ کچھ خدا سے مانگنا چاہا
maqsood Nazir OMI
دل نے تیرے آنگن میں اُترنا چاہا
تیری صورت کو سیرت نے جلا بخشی
تیری قربت میں زندگی کو بسر کرنا چاہا
حالات نے بڑا مسل کر رکھ دیا ہم کو
ورنہ ہم نے تجھے آئینہ دل میں اُترنا چاہا
رکھا کر دل پہ پتھر جدائی کا
ہمیشہ یاد یوں میں ملنا چاہا
مقصود سدا خوش رہو اپنی حیات میں
سوا اس کے نہ کچھ خدا سے مانگنا چاہا
maqsood Nazir OMI
کھیت کا ہر گوشہ آنیئہ ہے کھیت کا ہر گوشہ آنیئہ ہے
پھلوں میں مزدور کا خون پسینہ ہے
پیداوار کے ہر طرف نظارے ہیں
امیر ہیں لٹیرے مزدور بچارے ہیں
دیا ہے خالق نے مخلوق کے منہ میں نوالہ
ذخیرہ زدوں نے لگایا ہے اناج کو تالہ
کون بنے گا موسیٰ اب دُورَ فرعون میں
توڑے گا گوداموں کو خوراک عام کرے گا
تقسیم چیزوں میں مساوات کب ہوگا
پھر غریب بھی پیٹ بھر کر سوئے گا
چکھے گا مزدور بھی اپنی محنت کا پھل
غریب امیر سے کم انسان نہ رہے گا
مقصود ہے رزق سب کا الہیٰ ہاتھ میں
تو انسانوں کو خدا بننے سے کون روکے گا Maqsood Nazir OMI
پھلوں میں مزدور کا خون پسینہ ہے
پیداوار کے ہر طرف نظارے ہیں
امیر ہیں لٹیرے مزدور بچارے ہیں
دیا ہے خالق نے مخلوق کے منہ میں نوالہ
ذخیرہ زدوں نے لگایا ہے اناج کو تالہ
کون بنے گا موسیٰ اب دُورَ فرعون میں
توڑے گا گوداموں کو خوراک عام کرے گا
تقسیم چیزوں میں مساوات کب ہوگا
پھر غریب بھی پیٹ بھر کر سوئے گا
چکھے گا مزدور بھی اپنی محنت کا پھل
غریب امیر سے کم انسان نہ رہے گا
مقصود ہے رزق سب کا الہیٰ ہاتھ میں
تو انسانوں کو خدا بننے سے کون روکے گا Maqsood Nazir OMI
جنگ صفتَ حیوان ہے جنگ صفتَ حیوان ہے
امن قدرَ انسان ہے
انسان اشرف المخلوقات تھا
کیوں بن گیا یہ شیطان ہے
بندہ بندے کا درو تھا
لیتا اب انسان کی جان ہے
امن کا بازار گرم ہوتا تھا
بارود عہدَ عصر کی آن ہے
ثقافتی علامتیں ہوتی تھیں چوراہوں پر
میزائل کا اب وہاں نشان ہے
انسان اور حیوان میں فرق تھا
صفتَ جنگ اب شانَ انسان ہے Maqsood Nazir OMI
امن قدرَ انسان ہے
انسان اشرف المخلوقات تھا
کیوں بن گیا یہ شیطان ہے
بندہ بندے کا درو تھا
لیتا اب انسان کی جان ہے
امن کا بازار گرم ہوتا تھا
بارود عہدَ عصر کی آن ہے
ثقافتی علامتیں ہوتی تھیں چوراہوں پر
میزائل کا اب وہاں نشان ہے
انسان اور حیوان میں فرق تھا
صفتَ جنگ اب شانَ انسان ہے Maqsood Nazir OMI
جن کے لیے جاگے ہم ساری رات جن کے لیے جاگے ہم ساری رات
وہ سوئے رہے ہماری آغوش میں
وہ جن کے لیے قلم کروا دیا سر اپنا
وہ بنتے رہے گے سو ہماری ہوش میں
خون دے کر روشن کیے تھے چراغ
وہ کرتے رہے گُل ان کو اپنے جوش میں
ہم تڑتے رہے کانٹوں کی نوک پر
وہ رہے مد ہوش خوابَ خرگوش میں
ان کی یہ ادا بھی ہمیں بہت پسند آئی
ہم چل بسے وہ رہے ڈھونتے ہواؤں کے دوش میں
مقصود عشق کی یہی معراج ہوتی ہے
عاشق اجڑ جائے مشعوق پھرے اپنے شور میں Maqsood Nazir OMI
وہ سوئے رہے ہماری آغوش میں
وہ جن کے لیے قلم کروا دیا سر اپنا
وہ بنتے رہے گے سو ہماری ہوش میں
خون دے کر روشن کیے تھے چراغ
وہ کرتے رہے گُل ان کو اپنے جوش میں
ہم تڑتے رہے کانٹوں کی نوک پر
وہ رہے مد ہوش خوابَ خرگوش میں
ان کی یہ ادا بھی ہمیں بہت پسند آئی
ہم چل بسے وہ رہے ڈھونتے ہواؤں کے دوش میں
مقصود عشق کی یہی معراج ہوتی ہے
عاشق اجڑ جائے مشعوق پھرے اپنے شور میں Maqsood Nazir OMI
میں اک آشیانہ بنانا چاہتا ہوں میں اک آشیانہ بنانا چاہتا ہوں
خوشیوں سے سجانا چاہتا ہوں
مضبوط ہوں اُس کی دویواریں امن سے
چھت عزت کی ڈالنا چاہتا ہوں
بسیرہ ہو وہاں پریوں اور فرشتوں کا
انسانوں کا اک ایسا گھر بنانا چاہتا ہوں
سدا نگہبان ہو خدا میری پناگاہ کا مقصود
نعمتِ آنگن کے لیے ہاتھ اُٹھانا چاہتا ہوں Maqsood Nazir OMI
خوشیوں سے سجانا چاہتا ہوں
مضبوط ہوں اُس کی دویواریں امن سے
چھت عزت کی ڈالنا چاہتا ہوں
بسیرہ ہو وہاں پریوں اور فرشتوں کا
انسانوں کا اک ایسا گھر بنانا چاہتا ہوں
سدا نگہبان ہو خدا میری پناگاہ کا مقصود
نعمتِ آنگن کے لیے ہاتھ اُٹھانا چاہتا ہوں Maqsood Nazir OMI
جب کسی سے سچا پیار ہوتا ہے جب کسی سے سچا پیار ہوتا ہے
دل اپنے صنم کے پاس ہوتا ہے
اپنی ہو جاتی ہے آوارگی ختم
پھر حکم جان اور عملی خاکسار ہوتا ہے
آنکھوں میں اُسی کی صورت ہوتی ہے
دل اُسی پہ صدقہ واری و قربان ہوتا ہے
بُھول جاتے ہیں اپنی خواہشات ساری
مبحوب کے اشارے سر خمدار ہوتا ہے
اسی لے تو مشہور ہیں قصیدے پیارے کے
مقصود وفاؤں سے چاہتوں کا اظہار ہوتا ہے Maqsood Nazir OMI
دل اپنے صنم کے پاس ہوتا ہے
اپنی ہو جاتی ہے آوارگی ختم
پھر حکم جان اور عملی خاکسار ہوتا ہے
آنکھوں میں اُسی کی صورت ہوتی ہے
دل اُسی پہ صدقہ واری و قربان ہوتا ہے
بُھول جاتے ہیں اپنی خواہشات ساری
مبحوب کے اشارے سر خمدار ہوتا ہے
اسی لے تو مشہور ہیں قصیدے پیارے کے
مقصود وفاؤں سے چاہتوں کا اظہار ہوتا ہے Maqsood Nazir OMI
تیرے حُسن کا بیان کروں تیرے حُسن کا بیان کروں
یہ کام صبح و شام کروں
لکھ کر تیرا نام زمیں پہ
لکھوں سجدے تیرے نام کروں
تیری زندگی سے سانسیں رواں ہیں
ہمہ وقت سب کو یہ بیان کروں
قائم رہے دلوں کا سنگم سدا
درخواست یہ دررِ جان کروں
تو اعلٰی شہکار ہے خالق کا
تیرے نام دل و جان کروں
تو سراپا خوش و شاد رہے
مقصود یہ دُعا سرعام کروں Maqsood Nazir OMI
یہ کام صبح و شام کروں
لکھ کر تیرا نام زمیں پہ
لکھوں سجدے تیرے نام کروں
تیری زندگی سے سانسیں رواں ہیں
ہمہ وقت سب کو یہ بیان کروں
قائم رہے دلوں کا سنگم سدا
درخواست یہ دررِ جان کروں
تو اعلٰی شہکار ہے خالق کا
تیرے نام دل و جان کروں
تو سراپا خوش و شاد رہے
مقصود یہ دُعا سرعام کروں Maqsood Nazir OMI
پاگل ہے انسان جو زندگی کے خواب دیکھتا ہے پاگل ہے انسان جو زندگی کے خواب دیکھتا ہے
خود ہی سارے بگڑے ہوئے حالات دیکھتا ہے
مشکل سے وقت گزارہ ہوتا ہے اب تو
ہر بشر موت کو اپنے آس پاس دیکھتا ہے
چیزیں آسمان سے کرتی باتیں اب تو
نوالہ بھی ایک منہ سے دور جاتا دیکھتا ہے
ہے جنگ کے قانون کا راج ہر طرف اب تو
انسان ہی انسان کو اپنا قاتل دیکھتا ہے
شکر ہے سایہ خدا کا قائم ہے مقصود
آدمی قاتل کو مسیحا اور مسیحا کو قاتل دیکھتا ہے Maqsood Nazir OMI
خود ہی سارے بگڑے ہوئے حالات دیکھتا ہے
مشکل سے وقت گزارہ ہوتا ہے اب تو
ہر بشر موت کو اپنے آس پاس دیکھتا ہے
چیزیں آسمان سے کرتی باتیں اب تو
نوالہ بھی ایک منہ سے دور جاتا دیکھتا ہے
ہے جنگ کے قانون کا راج ہر طرف اب تو
انسان ہی انسان کو اپنا قاتل دیکھتا ہے
شکر ہے سایہ خدا کا قائم ہے مقصود
آدمی قاتل کو مسیحا اور مسیحا کو قاتل دیکھتا ہے Maqsood Nazir OMI