Poetries by Syed Ahmar Hassan Rizvi
ادھورا سراب یہ کبھی کبھی دل میں کھو جنا
کبھی ان کی یادوں کو سوچنا
کبھی گذری باتوں کو کھولنا
کبھی اپنے اشکوں کو تولنا
یہ جو گزری باتوں کا خواب ہے
یہ فقط ادھورا سراب ہے
میری زیست کی ہے یہ بے بسی
یہ تو جگ کا طالم جواب ہے
کہ وہ شخص ظالم و بے وفا
جو وفا کے معنی تھا جانتا
کسی اور کے گھر اتر گیا
میری راتیں سونی وہ کر گیا
میرا دل مچلتا ہے اس طرح
کہ چراغِ شب جلے جس طرح
اِسے کچھ کہوں تو میں کیا کہوں
اسے کچھ بتاؤں تو کس طرح
میں نے اپنے دل سے جو یہ کہا
کہ وہ شخص اپنا نہیں رہا
میرے دل نے رو کے یہ خود کہا
اسےُ بھول جا، اسےُ بھول جا
یہ جو گزری باتوں کا خواب ہے
یہ فقظ ادھورا سراب ہے Syed Ahmar Hassan Rizvi
کبھی ان کی یادوں کو سوچنا
کبھی گذری باتوں کو کھولنا
کبھی اپنے اشکوں کو تولنا
یہ جو گزری باتوں کا خواب ہے
یہ فقط ادھورا سراب ہے
میری زیست کی ہے یہ بے بسی
یہ تو جگ کا طالم جواب ہے
کہ وہ شخص ظالم و بے وفا
جو وفا کے معنی تھا جانتا
کسی اور کے گھر اتر گیا
میری راتیں سونی وہ کر گیا
میرا دل مچلتا ہے اس طرح
کہ چراغِ شب جلے جس طرح
اِسے کچھ کہوں تو میں کیا کہوں
اسے کچھ بتاؤں تو کس طرح
میں نے اپنے دل سے جو یہ کہا
کہ وہ شخص اپنا نہیں رہا
میرے دل نے رو کے یہ خود کہا
اسےُ بھول جا، اسےُ بھول جا
یہ جو گزری باتوں کا خواب ہے
یہ فقظ ادھورا سراب ہے Syed Ahmar Hassan Rizvi
حق تمھارے کچھ نہیں تھے پھر بھی تم پر حق تو رکھتے تھے
بہت روٹھے مگر ملنے کی کوئی شق تو رکھتے تھے
ہزاروں بار ہم نے تم پہ اپنا حق جتایا تھا
بہت بدنام تھیں پھر بھی تمہں اپنا بنایا تھا
مگر یہ کیا کیا تم نے کہ سب کچھ لوٹ کر جانم
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا ڈالا
کہ جییسے بادلوں کے بیچ سب کچھ ہار کر اپنا
چکو ری نے فلک کے چاند کو اپنا بنا ڈالا
نہ اب میں چاند ہوں تیرا نہ تو میری چکوری ہے
بس اتنا جان لے اسِ شبَ ہی میری سینہ زوری ہے
سحر کل کی نہ جانے کتنے ہی دل پھر اجاڑے گی
چکوری چاند پر پہلے کی طرح حق جمالے گی
سہانی زندگی کے خواب کو لے کر کوئی لڑکی
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا لے گی
کہانی یہ یونہی چلتی رہے گی روزِ محشر تک
یہاں تک کہ لحد اک دن ہمیں مہماں بنا لے گی Syed Ahmar Hassan Rizvi
بہت روٹھے مگر ملنے کی کوئی شق تو رکھتے تھے
ہزاروں بار ہم نے تم پہ اپنا حق جتایا تھا
بہت بدنام تھیں پھر بھی تمہں اپنا بنایا تھا
مگر یہ کیا کیا تم نے کہ سب کچھ لوٹ کر جانم
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا ڈالا
کہ جییسے بادلوں کے بیچ سب کچھ ہار کر اپنا
چکو ری نے فلک کے چاند کو اپنا بنا ڈالا
نہ اب میں چاند ہوں تیرا نہ تو میری چکوری ہے
بس اتنا جان لے اسِ شبَ ہی میری سینہ زوری ہے
سحر کل کی نہ جانے کتنے ہی دل پھر اجاڑے گی
چکوری چاند پر پہلے کی طرح حق جمالے گی
سہانی زندگی کے خواب کو لے کر کوئی لڑکی
اخیری داو کے پتوں پر اپنا حق جتا لے گی
کہانی یہ یونہی چلتی رہے گی روزِ محشر تک
یہاں تک کہ لحد اک دن ہمیں مہماں بنا لے گی Syed Ahmar Hassan Rizvi
دشتِ فرقت میں ترا ساتھ نبھانے نکلے دشتِ فرقت میں ترا ساتھ نبھانے نکلے
رات تارے بھی ترا روپ چرانے نکلے
تیرے چہرے کی دھنک دیکھ کہ ہو سکتا ہے
حسنِ فطرت تجھے ہر حال میں پانے نکلے
ایک ہی راہگزر انکے نگر جاتی ہے
اسُ ڈگرمیں جو چلا تھا کہ فسانے نکلے
ناخدا میرے سفینے کا بہت اچھا تھا
ڈوب کر ہم کو بھی لے ڈوبا زمانے نکلے
آرزو اب بھی اُسی کوئے ستم کی ہے تجھے
دل سے پوچھا ہی تھا اور لاکھ بہانے نکلے
کل کی طرح سے ترے عاشقی کے غم احمر
عنبریں کوچہ و گلزار کو جانے نکلے Syed Ahmar Hassan Rizvi
رات تارے بھی ترا روپ چرانے نکلے
تیرے چہرے کی دھنک دیکھ کہ ہو سکتا ہے
حسنِ فطرت تجھے ہر حال میں پانے نکلے
ایک ہی راہگزر انکے نگر جاتی ہے
اسُ ڈگرمیں جو چلا تھا کہ فسانے نکلے
ناخدا میرے سفینے کا بہت اچھا تھا
ڈوب کر ہم کو بھی لے ڈوبا زمانے نکلے
آرزو اب بھی اُسی کوئے ستم کی ہے تجھے
دل سے پوچھا ہی تھا اور لاکھ بہانے نکلے
کل کی طرح سے ترے عاشقی کے غم احمر
عنبریں کوچہ و گلزار کو جانے نکلے Syed Ahmar Hassan Rizvi
اب تو تارے بھی ترے رخ پہ سفر اب تو تارے بھی ترے رخ پہ سفر کر تے ہیں
اپنی راتیں ترے کوچے میں بسر کرتے ہیں
مجھ پہ کچھ ایسی ترے عشق میں گزری کہ یہ لوگ
مجھ کو پاگل نہیں کہتے ہیں مگر ڈرتے ہیں
دوستی شمع سے مہنگی ہی پڑی ہے ہر بار
جانتے ہیں سبھی پروانے مگر مرتے ہیں
چاندنی رات ہے،تنہائی ہے،کچھ ہجر بھی ہے
شہر سے اٹھ کے کہیں دشت میں گھر کرتے ہیں
ہمارے اپنے قرینے ہیں کچھ محبت کے
کہ جس کو مار کے رکھا ہے اسُ پہ مرتے ہیں
ٹمٹماتے ہوئے تاروں سے کوئی پو چھے ذرا
ہجر کی شبَ کو یہ کس طور سحر کرتے ہیں
با وفا میں رہوں گا ہی مگر وہ احمر
زندگی اپنی جفاوں کی نذر کر تے ہیں Syed Ahmar Hassan Rizvi
اپنی راتیں ترے کوچے میں بسر کرتے ہیں
مجھ پہ کچھ ایسی ترے عشق میں گزری کہ یہ لوگ
مجھ کو پاگل نہیں کہتے ہیں مگر ڈرتے ہیں
دوستی شمع سے مہنگی ہی پڑی ہے ہر بار
جانتے ہیں سبھی پروانے مگر مرتے ہیں
چاندنی رات ہے،تنہائی ہے،کچھ ہجر بھی ہے
شہر سے اٹھ کے کہیں دشت میں گھر کرتے ہیں
ہمارے اپنے قرینے ہیں کچھ محبت کے
کہ جس کو مار کے رکھا ہے اسُ پہ مرتے ہیں
ٹمٹماتے ہوئے تاروں سے کوئی پو چھے ذرا
ہجر کی شبَ کو یہ کس طور سحر کرتے ہیں
با وفا میں رہوں گا ہی مگر وہ احمر
زندگی اپنی جفاوں کی نذر کر تے ہیں Syed Ahmar Hassan Rizvi
تیرے غم میں سمو لیا خود کو تیرے غم میں سمو لیا خود کو
آنسوؤں میں بھگو لیا خود کو
رات شانے پہ میرے سر رکھ کر
اُسکی آنکھوں نے دھو لیا خود کو
ایک مدت ہوئی گناہ کئے
پھر شرابوں میں کھو لیا خود کو
تجھ کو بھولا تھا ایک پل کے لئے
ظلمتوں میں پُرو لیا خود کو
کاٹ کر ہاتھ ٹٰیرا نام لکھا
اور لہو میں ڈبو لیا خود کو
اسقدر بے بسی بھی کیا احمر
آپ مرقد میں بو لیا خود کو Syed Ahmar Hassan Rizvi
آنسوؤں میں بھگو لیا خود کو
رات شانے پہ میرے سر رکھ کر
اُسکی آنکھوں نے دھو لیا خود کو
ایک مدت ہوئی گناہ کئے
پھر شرابوں میں کھو لیا خود کو
تجھ کو بھولا تھا ایک پل کے لئے
ظلمتوں میں پُرو لیا خود کو
کاٹ کر ہاتھ ٹٰیرا نام لکھا
اور لہو میں ڈبو لیا خود کو
اسقدر بے بسی بھی کیا احمر
آپ مرقد میں بو لیا خود کو Syed Ahmar Hassan Rizvi
ترے قدموں پہ سر جھکانے کے تیرے قدموں پہ سر جھکانے کے بعد
کتنا رویا میں مسکرانے کے بعد
مجھ کو اک پل میں آزما بیٹھا
بے وفائی کے گرُ سکھا نے کے بعد
آج پھر دل کو تیری یاد آئی
اپنے کچھ شعر گنگنانے کے بعد
آج پھر میں نے اک غزل لکھی
اپنے اشکوں میں ڈوب جانے کے بعد
رات بھر مانگتا رہا رب سے
اسکی چاہت میں اک زمانے کے بعد
یوں تو ہنستے نہیں ہو تم احمر
مسکراتے ہو زخم کھانے کے بعد Syed Ahmar Hassan Rizvi
کتنا رویا میں مسکرانے کے بعد
مجھ کو اک پل میں آزما بیٹھا
بے وفائی کے گرُ سکھا نے کے بعد
آج پھر دل کو تیری یاد آئی
اپنے کچھ شعر گنگنانے کے بعد
آج پھر میں نے اک غزل لکھی
اپنے اشکوں میں ڈوب جانے کے بعد
رات بھر مانگتا رہا رب سے
اسکی چاہت میں اک زمانے کے بعد
یوں تو ہنستے نہیں ہو تم احمر
مسکراتے ہو زخم کھانے کے بعد Syed Ahmar Hassan Rizvi