Poetries by HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
تعمیری سوچ انجانی راہوں پہ چل رہا ہے کوئ
موسم سرما میں ابل رہا ہے کوئ
کہنے کو ساغر مگر دلکا ہے بخیل
بخیلوں میں بہلا ایسا بخل رہا ہے کوئ
بہتے ہیں دریا آنکھوں سے کسی کے مگر
ہے شادمان کوئ تو مچل رہا ہے کوئ
ماحول خوشگوار ہے اور نور سا نظر میں
سانچے میں کسی کے ڈھل رہا ہے کوئ
خوشیوں میں دوسروںکی بہت خوشہے کوئ
نار تعصب میں جل رہا ہے کوئ
رنج و غم ہے نہ ڈر ہے موت کا
قسمت میں مری اچھا عمل رہا ہے کوئ
تعمیری سوچ گر ہو تری تو کہے احمد
واہ ارے واہ بدل رہا ہے کوئ MOHAMMED AHMAD SIDDIQUI
موسم سرما میں ابل رہا ہے کوئ
کہنے کو ساغر مگر دلکا ہے بخیل
بخیلوں میں بہلا ایسا بخل رہا ہے کوئ
بہتے ہیں دریا آنکھوں سے کسی کے مگر
ہے شادمان کوئ تو مچل رہا ہے کوئ
ماحول خوشگوار ہے اور نور سا نظر میں
سانچے میں کسی کے ڈھل رہا ہے کوئ
خوشیوں میں دوسروںکی بہت خوشہے کوئ
نار تعصب میں جل رہا ہے کوئ
رنج و غم ہے نہ ڈر ہے موت کا
قسمت میں مری اچھا عمل رہا ہے کوئ
تعمیری سوچ گر ہو تری تو کہے احمد
واہ ارے واہ بدل رہا ہے کوئ MOHAMMED AHMAD SIDDIQUI
نازک سی کلی صبح ہوتے اک نازک سی کلی نکلی
جس طرح دروزے سے من چلی نکلی
خد و خال ادئیں اسکی واہ واہ
جنسے دل میں مرے کھلبلی نکلی
جب روداد جو پوچھی تو علم ہوا
وہ بیچاری میری طرح من جلی نکلی
پڑی یکدم نظر تو لگی وہ اپنی سی
قریب آئ تو وہ ظالم اجنبی نکلی
ماحول تازہ ہوا اور دل مہک اٹھا
جیسے جنت سے پری ابھی ابھی نکلی
پیار ملے گا ان سے یہ سوچا تھا
کیا ملتا کہ الفت کی تجوری خالی نکلی
چپ رہنا تو کرتا ہے بیمار احمد
شعر جو لکھے تو جگر کی گرمی نکلی MOHAMMED AHMAD SIDDIQUI
جس طرح دروزے سے من چلی نکلی
خد و خال ادئیں اسکی واہ واہ
جنسے دل میں مرے کھلبلی نکلی
جب روداد جو پوچھی تو علم ہوا
وہ بیچاری میری طرح من جلی نکلی
پڑی یکدم نظر تو لگی وہ اپنی سی
قریب آئ تو وہ ظالم اجنبی نکلی
ماحول تازہ ہوا اور دل مہک اٹھا
جیسے جنت سے پری ابھی ابھی نکلی
پیار ملے گا ان سے یہ سوچا تھا
کیا ملتا کہ الفت کی تجوری خالی نکلی
چپ رہنا تو کرتا ہے بیمار احمد
شعر جو لکھے تو جگر کی گرمی نکلی MOHAMMED AHMAD SIDDIQUI
Tameeri Soch Anjani Rahon Pay Chal Raha Hai Koi
Mosam A Sarma Men Bhi Obal Raha Hai Koi
Kehnay Ko Sagar Magar Dil Ka Hai Bakheel
Bakheelon Men Aysa Bukhal Raha Hai Koi?
Ankhon Say Behtay Hen Darya Kisi K Magar
Hay Shadman Koi To Machal Raha Hai Koi
Samnay Jis K Ojray Umedon Ka Chaman
Phir Na Roay Bhala Aysa Dil Raha Hai Koi?
Mahol Khosh Gawar Aur Noor Sa Nazar Men
Sanchay Men Kisi K Dhal Raha Hai Koi
Khoshon Men Kisi Ki Bohat Khosh Hai Koi
Nar A Tassab Men Jal Rah Hai Koi
Ranj O Gum Hai Na Dar Ahi Mot Ka
Qismat Men Mari Acha Amal Raha Hai Koi
Tameeri Soch Gar Ho Tari To Kahay Ahmed
Wah Aray Wah Vo Badal Raha Hai Koi
HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
Mosam A Sarma Men Bhi Obal Raha Hai Koi
Kehnay Ko Sagar Magar Dil Ka Hai Bakheel
Bakheelon Men Aysa Bukhal Raha Hai Koi?
Ankhon Say Behtay Hen Darya Kisi K Magar
Hay Shadman Koi To Machal Raha Hai Koi
Samnay Jis K Ojray Umedon Ka Chaman
Phir Na Roay Bhala Aysa Dil Raha Hai Koi?
Mahol Khosh Gawar Aur Noor Sa Nazar Men
Sanchay Men Kisi K Dhal Raha Hai Koi
Khoshon Men Kisi Ki Bohat Khosh Hai Koi
Nar A Tassab Men Jal Rah Hai Koi
Ranj O Gum Hai Na Dar Ahi Mot Ka
Qismat Men Mari Acha Amal Raha Hai Koi
Tameeri Soch Gar Ho Tari To Kahay Ahmed
Wah Aray Wah Vo Badal Raha Hai Koi
HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
کیسے انسان یہ کیسے انسانوں سے مرے پالے پڑے ہیں
رحم نہیں آتا دلوں پہ تالے پڑے ہیں
عیش و عشرت کی گزاریں زندگی امراء
بیچارے غریبوں کو روٹی کے لالے پڑے ہیں
تاریکی نظر آتی نہیں اس لیئے ان کو
ان کے توگردروشنوں کے ہالے پڑے ہیں
کھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوا انکا
منٹوں کے سفر سے پاؤں میں مرے چھالے پڑے ہیں
بجلی ہو یا نہ ہو چلتے ہیں جنریٹر انکے
تپش سورج سے قوم کے رنگ کالے پڑے ہیں
کوئ کام ہے نہ آٹا ہے نہ چینی نہ پانی
سڑکوں پہ کس پارٹی کے جیالے پڑے ہیں
جب مانگو کہ کھانے کو ہی دیدو تو کہیں
سب خزانے تلہارے لئے سنبھالے پڑے ہیں
اک طبقے کی مٹھی میں ہو جس قوم کی قسمت
دکھائیں دودھ کی نہریں خاکی پیالے پڑے ہیں
مرے وطن کو نظر بد کس کی لگی احمد
دوسروں کو بچانے والے خود نڈھالے پڑے ہیں HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
رحم نہیں آتا دلوں پہ تالے پڑے ہیں
عیش و عشرت کی گزاریں زندگی امراء
بیچارے غریبوں کو روٹی کے لالے پڑے ہیں
تاریکی نظر آتی نہیں اس لیئے ان کو
ان کے توگردروشنوں کے ہالے پڑے ہیں
کھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوا انکا
منٹوں کے سفر سے پاؤں میں مرے چھالے پڑے ہیں
بجلی ہو یا نہ ہو چلتے ہیں جنریٹر انکے
تپش سورج سے قوم کے رنگ کالے پڑے ہیں
کوئ کام ہے نہ آٹا ہے نہ چینی نہ پانی
سڑکوں پہ کس پارٹی کے جیالے پڑے ہیں
جب مانگو کہ کھانے کو ہی دیدو تو کہیں
سب خزانے تلہارے لئے سنبھالے پڑے ہیں
اک طبقے کی مٹھی میں ہو جس قوم کی قسمت
دکھائیں دودھ کی نہریں خاکی پیالے پڑے ہیں
مرے وطن کو نظر بد کس کی لگی احمد
دوسروں کو بچانے والے خود نڈھالے پڑے ہیں HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
غم غم نہ کھا کہ یہ آدمی کو کھاتا ہے
منزل دور ہے اور دل اڈا جاتا ہے
اعتبار نہ سبھی پہ کہ پچھائے گا تو
یہاں ہر کوئ کہاں وعدے اپنے نبھاتا ہے
ہے سرائے یہ ہر کوئ آتا جاتا ہے
ہے آج کون یہاں اور کل کون آتا ہے
زمانے بھر کی خوشیاں دیدے پل میں کوئ
آکے زندگی میں کوئ عمر بھر رلاتا ہے
وہ تو چھہڑ گئے تمہیں اور دنیاں کو
رہا اب کوئ نہیںنخرے جو ترے اٹھاتا ہے
گڑر جکا میں زندگی کے نشیب و فراز سے
اب کوئ کیوں مجھے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے
اب تو بس یاد کر اس ذات پاک کو احمد
غم اگر دیتا ہے تو خوشیاں وہی دکھاتا ہے HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
منزل دور ہے اور دل اڈا جاتا ہے
اعتبار نہ سبھی پہ کہ پچھائے گا تو
یہاں ہر کوئ کہاں وعدے اپنے نبھاتا ہے
ہے سرائے یہ ہر کوئ آتا جاتا ہے
ہے آج کون یہاں اور کل کون آتا ہے
زمانے بھر کی خوشیاں دیدے پل میں کوئ
آکے زندگی میں کوئ عمر بھر رلاتا ہے
وہ تو چھہڑ گئے تمہیں اور دنیاں کو
رہا اب کوئ نہیںنخرے جو ترے اٹھاتا ہے
گڑر جکا میں زندگی کے نشیب و فراز سے
اب کوئ کیوں مجھے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے
اب تو بس یاد کر اس ذات پاک کو احمد
غم اگر دیتا ہے تو خوشیاں وہی دکھاتا ہے HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
تمہارا نام بڑے ادب سے تمہارا نام لیتا ہوں
ستائے یاد جب تیری دل کو تھام لیتا ہوں
حیال آیا اسکا تو نیند ہی اڑ گئی میری
بیچارگی سے غمکی چادر تان لیتا ہوں
ابھی تک مل نہ سکل یہ میری بد نصیبی
نہیں ان سے گلہ سر الٹے الزام لیتا ہوں
ہزاروں لوگ پھرتے ہیں وفا کا لبادہ اوڑھے
ان کے پاس جاؤں تو بہت نقصان لیتا ہوں
ہے ہم نے پیار مانگا دلکے بدلے احمد
یہ میں کب کہا جاناں تیری جان لیتا ہوں
HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
ستائے یاد جب تیری دل کو تھام لیتا ہوں
حیال آیا اسکا تو نیند ہی اڑ گئی میری
بیچارگی سے غمکی چادر تان لیتا ہوں
ابھی تک مل نہ سکل یہ میری بد نصیبی
نہیں ان سے گلہ سر الٹے الزام لیتا ہوں
ہزاروں لوگ پھرتے ہیں وفا کا لبادہ اوڑھے
ان کے پاس جاؤں تو بہت نقصان لیتا ہوں
ہے ہم نے پیار مانگا دلکے بدلے احمد
یہ میں کب کہا جاناں تیری جان لیتا ہوں
HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
آغاز سخن آغاز سخن تھا مقصود تو اقراء آواز آئ
زبان مصطفے بسم اللہ بنکے الفاز آئ
ابتدائے کار گر ہے شروع ربکے نام سے
تو کامیابی بصد احترام عز و نیاز آئ
آگ ہوا پانی اور مٹی چار عناصر جب ملے
الفاظ بھی بننے لگے سوچوں بھی پرواز آی
کوئ ظالم و جابر تھا تو گناہوں مین مبتلا
جھومی دنیا کہ اک ہستی بخشش کا لیکے راز آی
سینوں میں اضطراب قلب و جگر ہے بھلا کیوں
راب گناہ ہے دل تو آنکھ بھی نہ باز آئ
مرے دل کے اجڑے نگر کو مہکاء دیا جس نے وہ
کبھی حبشی کو کبھی رومی و جامی کو نواز آئ
بگڑیں صورتیں پہلی امتوں کی بوجہ عصیاں
مکر اب کہ شرم خدا کو حبیب ناز آئ
مقدر میں کسی کے داد تو شہرت کسی کے احمد
ترے حصے میں مکر ثناء رسول ممتاز آئ HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
زبان مصطفے بسم اللہ بنکے الفاز آئ
ابتدائے کار گر ہے شروع ربکے نام سے
تو کامیابی بصد احترام عز و نیاز آئ
آگ ہوا پانی اور مٹی چار عناصر جب ملے
الفاظ بھی بننے لگے سوچوں بھی پرواز آی
کوئ ظالم و جابر تھا تو گناہوں مین مبتلا
جھومی دنیا کہ اک ہستی بخشش کا لیکے راز آی
سینوں میں اضطراب قلب و جگر ہے بھلا کیوں
راب گناہ ہے دل تو آنکھ بھی نہ باز آئ
مرے دل کے اجڑے نگر کو مہکاء دیا جس نے وہ
کبھی حبشی کو کبھی رومی و جامی کو نواز آئ
بگڑیں صورتیں پہلی امتوں کی بوجہ عصیاں
مکر اب کہ شرم خدا کو حبیب ناز آئ
مقدر میں کسی کے داد تو شہرت کسی کے احمد
ترے حصے میں مکر ثناء رسول ممتاز آئ HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
وہ کیسی ہوگی پتہ نہیں وہ کیسی ہوگی کیسی ہوگی
اپنے آنگن کے کونے میں بیٹھی ہوگی
بیتابی سے میرا رستہ تکتے ہوئے
آجا آجا دل ہی دل میں کہتی ہوگی
میری یادوں کے دل مین طوفان لیے
مضطرب بیچین وہ ہوکر روتی ہوگی
یہ نہ ہو جائے وہ نہ ہو جائے
اگر مگر کے تنے بانے بنتی ہوگی
کمپیوٹر خراب ہے اس کا اف اللہ
ریڈیو پہ وہ انڈین گانے سنتی ہوگی
ظاہری حسن تو چار دنوں کا مہماں ہے
ہاں یہ سچ ہے دل کی وہ شہزادی ہوگی
زیادہ سوچ و فکر نہ کر اس کا احمد
دل کے فون سے تیری باتیں سنتی ہوگی HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
اپنے آنگن کے کونے میں بیٹھی ہوگی
بیتابی سے میرا رستہ تکتے ہوئے
آجا آجا دل ہی دل میں کہتی ہوگی
میری یادوں کے دل مین طوفان لیے
مضطرب بیچین وہ ہوکر روتی ہوگی
یہ نہ ہو جائے وہ نہ ہو جائے
اگر مگر کے تنے بانے بنتی ہوگی
کمپیوٹر خراب ہے اس کا اف اللہ
ریڈیو پہ وہ انڈین گانے سنتی ہوگی
ظاہری حسن تو چار دنوں کا مہماں ہے
ہاں یہ سچ ہے دل کی وہ شہزادی ہوگی
زیادہ سوچ و فکر نہ کر اس کا احمد
دل کے فون سے تیری باتیں سنتی ہوگی HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
عمل یقیں آؤ کہ مل کے سارے دلکے جہان کھولیں
عمل یقیں میں ہم سب اک دوسرے کے ہولیں
پیکر اخلاق بن جا آساں نہیں ہے گرچہ
گالی بھی دیدے کوئ غصے کو اپنے پی لیں
کام کریں ایسے کہ فائدہ ہو جہاں کا
بچیں بد گمانیوں سے سب کی دعائیں لےلیں
ہوسکے تو نفرتوں کو پھینکو نکال دل سے
دلوں سے دل ملا کر بلندیوں کو چھولیں
لہلہاتے پھول بوٹے جنت کا ہیں نظارہ
رقص جہاں میں ملکر بیخودی میں ہم بھی جھولیں
بات کرنے کا گر آتا نہ ہو سلیقہ
ایسے میں چپ ہی اچھی ہوٹوں کو اپنے سی لیں
شغل جہاں میں گر ہو چاروں طرف ناکامی
گبھرائیں نہ شرمائیں مشورہ کسی سے لے لیں
احمد عزیز کر لے عزت کرے جو تیری
ہو جائے کوئ ہمارا ہم بھی کسے کے ہولیں HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
عمل یقیں میں ہم سب اک دوسرے کے ہولیں
پیکر اخلاق بن جا آساں نہیں ہے گرچہ
گالی بھی دیدے کوئ غصے کو اپنے پی لیں
کام کریں ایسے کہ فائدہ ہو جہاں کا
بچیں بد گمانیوں سے سب کی دعائیں لےلیں
ہوسکے تو نفرتوں کو پھینکو نکال دل سے
دلوں سے دل ملا کر بلندیوں کو چھولیں
لہلہاتے پھول بوٹے جنت کا ہیں نظارہ
رقص جہاں میں ملکر بیخودی میں ہم بھی جھولیں
بات کرنے کا گر آتا نہ ہو سلیقہ
ایسے میں چپ ہی اچھی ہوٹوں کو اپنے سی لیں
شغل جہاں میں گر ہو چاروں طرف ناکامی
گبھرائیں نہ شرمائیں مشورہ کسی سے لے لیں
احمد عزیز کر لے عزت کرے جو تیری
ہو جائے کوئ ہمارا ہم بھی کسے کے ہولیں HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
لذت آشنائی اے خدا مجہ کو وہ ذوق شناسائی دے
میرے چہرے سے سے محبت تری دکھائی دے
تجھ سے ہو پیار کا ایسا پیارا رشتہ
زباں کرے ذکر ترا اور دل مرا گواہی دے
میرے دل میں تری یاد رہے میرے مولی
تیرا بندہ ترے حضور یہی دہائی دے
نکال کر غیروں کی غلامی دلوں سے اپنے
بنا کر ملت واحد سوچوں کو سچائی دے
تذکرہ جمال جہاں گرچہ برا نہہیں احمد
ذکر کر اس کا جو ہمہ جہت تذیرائی دے HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI
میرے چہرے سے سے محبت تری دکھائی دے
تجھ سے ہو پیار کا ایسا پیارا رشتہ
زباں کرے ذکر ترا اور دل مرا گواہی دے
میرے دل میں تری یاد رہے میرے مولی
تیرا بندہ ترے حضور یہی دہائی دے
نکال کر غیروں کی غلامی دلوں سے اپنے
بنا کر ملت واحد سوچوں کو سچائی دے
تذکرہ جمال جہاں گرچہ برا نہہیں احمد
ذکر کر اس کا جو ہمہ جہت تذیرائی دے HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI