Poetries by Ahmad Nashat
جب آ کے خوف مرے گھر میں سر اٹھانےااٹھانے لگا جب آ کے خوف مرے گھر میں سر اٹھانے لگا
میں گھر سے دور کہیں جا کے سر چھپانے لگا
میں اپنے آپ سے نکلا تو پنچھیوں کی طرح
ہوا میں اڑنے لگا، گیت گنگنانے لگا
بلا کی کپکپی سی طاری مجھ پہ ہونے لگی
یہ کیسا عکس مری روح میں سمانے لگا
حدودِ کفر میں،میں لوٹنے ہی والا تھا
مرا گمان مجھے راستہ دکھانے لگا
قفس عزیز تھا اس کو اسی لئے تو نشاط
وہ میرے ہاتھ میں آیا تو تھر تھرانے لگا
Ahmad Nashat
میں گھر سے دور کہیں جا کے سر چھپانے لگا
میں اپنے آپ سے نکلا تو پنچھیوں کی طرح
ہوا میں اڑنے لگا، گیت گنگنانے لگا
بلا کی کپکپی سی طاری مجھ پہ ہونے لگی
یہ کیسا عکس مری روح میں سمانے لگا
حدودِ کفر میں،میں لوٹنے ہی والا تھا
مرا گمان مجھے راستہ دکھانے لگا
قفس عزیز تھا اس کو اسی لئے تو نشاط
وہ میرے ہاتھ میں آیا تو تھر تھرانے لگا
Ahmad Nashat
ممکن کسی خیال کا سایہ نہیں ابھی ممکن کسی خیال کا سایہ نہیں ابھی
کیونکہ میں اپنے آپ میں آیا نہیں ابھی
ممکن نہیں کہ سانحہ لفظوں میں ڈھل سکے
ہر لفظ کہہ رہا ہے میں یکجا نہیں ابھی
وہ شخص بے شعور ہے کچھ جانتا نہیں
جس نے کوئی سوال اٹھایا نہیں ابھی
ہم نے کسی کو ذہن پہ چھانے نہیں دیا
چہرے سے کوئی رنج ہویدا نہیں ابھی
اکثر حسین خواب میں یہ دیکھتا ہوں میں
اس نے کوئی حسین بنایا نہیں ابھی
صفحات چھین لے گی یہ وحشی ہوا نشاط
تم نے چراغِ حرف جلایا نہیں ابھی Ahmad Nashat
کیونکہ میں اپنے آپ میں آیا نہیں ابھی
ممکن نہیں کہ سانحہ لفظوں میں ڈھل سکے
ہر لفظ کہہ رہا ہے میں یکجا نہیں ابھی
وہ شخص بے شعور ہے کچھ جانتا نہیں
جس نے کوئی سوال اٹھایا نہیں ابھی
ہم نے کسی کو ذہن پہ چھانے نہیں دیا
چہرے سے کوئی رنج ہویدا نہیں ابھی
اکثر حسین خواب میں یہ دیکھتا ہوں میں
اس نے کوئی حسین بنایا نہیں ابھی
صفحات چھین لے گی یہ وحشی ہوا نشاط
تم نے چراغِ حرف جلایا نہیں ابھی Ahmad Nashat