رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے لیے آ

Poet: Ahmad Faraz By: نجیب الرحمان, Lahore

رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے لیئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ
تُو بھی تو کبھی مُجھ کو منانے کے لیے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی، پھر بھی کبھی تو
رسم و رہِ دنیا ہی نِبھانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جُدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

اِک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم
اے راحتِ جاں! مجھ کو رُلانے کے لیے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں اُمیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بُجھانے کے لیے آ

Rate it:
Views: 3269
31 May, 2009
Related Tags on Ahmed Faraz Poetry
Load More Tags
More Ahmed Faraz Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets