پرانی کار ٤

(Hukhan, karachi)

ہم نے سن رکھا تھا ،،،مرا ہوا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے،،،بس ہماری کار
تو ابھی خیر سے زندہ تھی،،،
ہم اپنے دوست کو دیکھ رہے تھے اور وہ ہماری کارکو دیکھے جارہا تھا،،،وہ
اس بات پر حیران تھاکہ ننھی منی معصوم سی گاڑی میں بدروحوں سی آواز
کیونکر پیدا ہورہی تھی،،،

اور ہمیں یہ خوف کھائے جارہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو ،،کہ ہماری کار ہمیشہ
کے لیے خاموش ہو جائے،،،

اتنے میں کالو کے ابا جو خود بھی کسی ڈیزل گاڑی کے کالے سیاہ دھویں سے
کسی بھی طرح سے کم نہ تھے،،،ہماری کار کے بالکل قریب آکر دیکھنے لگے،،،
بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انکی کار گاڑی کو ٹچ کر رہی تھی،،،،جیسے وہ کار کو
سونگھ رہے ہوں،،،

ہمیں انکی اپنی کار سے ایسی بے تکلفی کجا پسند نہ آئی،،،مگر کیا کرتے،،،ان
کے پاس گھر میں اک ٹینک نما عورت موجود تھی،،جس سے سوائے موت کے
فرشتے کے سب ڈرتے تھے،،،
مگر ناجانے کیوں فرشتہ جانے کہاں مصروف تھا،،،زمین کو اس بوجھ سے آزاد
ہی نہیں کر رہا تھا،،،
ہمیں یہ ڈر تھا کہ کہیں وہ ہماری کار سے ٹکرا گئیں تو کار کا چالیسواں بہت
جلد ہو جائے گا،،،

ہم نے اشارے سے کالو کے ابا سے اس قربتِ کار کی وجہ پوچھی تو منہ کھول
کے پیلے دانتوں کی بھرپور نمائش کرتے ہوئے بولے،،،،دیکھ رہا ہوں،،،،،،بلکہ
سونگھ رہا ہوں کہ کار ہے،،،یا،،،کوئی بارودی آرمرڈ وہیکل ہے،،،
آواز تو ایسی ہے جیسے کوئی ایک ہزار کلوگرام مواد بھرا ہوا ہو،اتنا شور تو ہماری
نیشنل اسمبلی میں بھی نہیں ہوتا،،،جبکہ وہاں تو اس سےبھی پرانے ماڈل کے
لوگ ہیں،،،

وہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کررہے تھے،،،ویسے میں اک
مشورہ دوں،،،،
ہم نے انہوں بہت غصے سے دیکھا ،،،جسے وہ ہماری اجازت سمجھے،،،
دیکھو بھائی! کیونکہ اس کی آواز مہناز ،،،لتّا کی طرح نہیں ہے،،،بلکہ بانکے
میاں عرف بے سرے خان جیسی ہے،،،تو بھائی اسے آبادی سے بارہ کلومیٹر
دور لیجا کر اسٹارٹ کرنا،،،
جب واپس آؤ،،اول تو آپ کی واپسی مشکل ہے،،اگر خدا نہ کرے آپ باخیریت
آ ہی جائیں،،،تو وہی سے انجن بند کردینا،،،اگر اس میں انجن نام کی کوئی چیز
موجود ہے،،،

اس طرح سے آپ بھی سکھی رہو گے،،،اور آپ کا پڑوسی بھی خوش،،،اب بات یہ
ہے کہ وہاں تک کار جائے گی کیسے،،،
تو بھائیا!! اک رسی لو،،،گاڑی کے ساتھ باندھو،،،اور سائیکل سے گھسیٹ کر
لے جاؤ،،،مگر دھیان رہے آپکی سائیکل اس گاڑی سے بہت قیمتی ہے،،اس لیے
کار پر سائیکل قربان نہ کیجئے گا،،،
یہ کہتے ہوئے چپس کھاتے ہوئے سیدھا کمرے میں گھس گئے،،،ہمیں انکے
گھر موجود توپ کا ڈر نہ ہوتا ،،،تو کالو صاحب کی طبیعت ہم بالکل صاف کر
دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 861033 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Dec, 2017 Views: 683

Comments

آپ کی رائے
amazing humor no one can judge during reading what could be next
By: khalid, karachi on Dec, 22 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Dec, 24 2017
0 Like