امریکہ، اسرائیل اور عالم اسلام

(مہر ساجد بلال, )

یہ خبر سن کر کے امریکہ نے قابض عرب علاقوں پر قائم غیر قانونی ریاست اسرائیل کے دارلحکومت تل ابیب سے اپنا سفارتحانہ یروشلم منتقل کرنے اعلان کر دیا ہے یرو شلم تاریخی اعتبار سے مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصٰی کا مقام ہے یروشلم اور اس کی عبادت گاہ جس کی بنیاد حضرت داؤدؑ نے رکھی اور تکمیل حضرت سلمان ؑ نے کی عام طور پر یروشلم کو بھی بیت المقدس ہی کہا جاتا ہے یہ ان شہروں میں سے ایک ہے جنہیں نوع انسانی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے جس کا ذرہ ذرہ مقدس ہے اکثر انبیاؑ اسی شہر میں مبعوث ہوئے جب آپ ؐ معراج کے لیے گئے تو یہی مقام آپ ؐ کی پہلی منزل بنا ۔اس مقام پر آپ ؐ نے انبیاؑ کی امامت فرمائی ۔حضرت سلمان ؑ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل دو حصو ں میں بٹ گئے اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل فواحش، حرامکاری اور عیاشی میں مبتلہ ہوگئے اور انہوں نے ایک اﷲ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا شروع کر دی۔ اسرائیل فلسطینی علاقے یر وشلم پر بھی قابض ہو گیاغیر قانونی بستیوں کی تعمیر اوربے گناہ فلسطینی مسلمانوں کا قتل ِعام اور اسرائیل روز بروزفلسطینی علاقوں پر قبضہ کرتا جا رہا ہے امریکہ کے اس اسلام دشمنی فیصلے سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور اسلامی ممالک میں غم و غصہ کی لہر نے جنم لیا ہے عوام اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی پوری دنیانے امریکہ کے اس فیصلے کو اقومِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور کھلی بدمعاشی قرار دیا ہے اقومِ عالم اور اقوام متحدہ کی مخلصانہ کوششوں کو امریکہ اوراسرائیل نے پاؤں تلے روند ڈالا ہے عرب ممالک اور عرب علاقوں پر قبضہ اور انتشار کوئی نئی بات نہیں ہے امریکہ ہر جگہ اسرائیل کے غلط اقدام کی حمایت کرتا ہے اور کھلے عام ساتھ بھی دیتا ہے آپ یوں بھی فرض کر سکتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا دوسرا نام ہے اور ہم اسرائیل کو امریکہ کا لاڈلہ بھی کہہ سکتے ہیں اسلامی ممالک میں امریکہ کے فیصلے سے غصہ کی لہر نے جنم لیا ہے کیونکہ مسلمانوں کا قبلہ اول یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھ جارہا ہے ایک مسلمان ہونکے ناطے مسلم ممالک کی حالت کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے مگر کیونکہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ اﷲ مالک نے کیا ہے اس لیے فتح انشاء اﷲ مسلمانوں کی ہوگی ۔آج ہٹلر کی یہ بات سچ ثابت ہوتی نظر آتی ہے جب جنگ عظیم میں ہٹلر نے یہودیوں کا قتل ِ عام کیا اور کچھ یہودی اس نے زندہ چھوڑ دیئے کہ دنیا کو پتا چل سکے کہ یہودی دنیا کی تباہی اور انتشار کی علامت ہیں اور ہٹلر کیوں ان کو مٹا دینا چاہتا تھا؟یہودی دماغ نے عیسائیت مذہب میں چالاکی کے ساتھ یہ بات بیٹھا دی ہے کہ کوئی بھی قوم خصوصاً مسلمان اگر یہودیوں پر حملہ کریں تو دفاع عیسائی کریں گے اپنے اس مفروضے کی بنیاد پر مسلمانوں کا مقابلہ یہودی اورعیسائی ممالک سے ہونے کا خدشہ لازمی ہے اور یہ بات ذہن نشین رہنا ضروری ہے کہ اسرائیل کا مقابلہ دفاع میں امریکہ اور عیسائی ممالک کا گٹھ جوڑ لازمی ہوگا ۔اسرائیل مسجد اقصیٰ کو خدانخواستہ گرا کر عظیم قبلہ اول (عیسائیوں اور یہودیوں کی مشترکہ عبادت گاہ)کی تعمیر کی طرف بڑھ رہا ہے امریکہ ،یورپ اور اسرائیل سے مل کرراستے کے تمام کانٹے ایک طرف کرتے ہوئے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔مسلمانوں کی حالت قابل رہم ہے مسلم ممالک جمہوریت ،مذاکرات، اقوامِ متحدہ کی بدولت یرغمال بنے ہووے ہیں شام فلسطین سمیت دیگر عرب علاقوں پرسب جانتے ہیں کہ اسرائیل قابض ہے۔امریکہ ،اسرائیل یورپ نے بڑی چالاکی سے عربوں کو عیاشی کی زندگی میں دھکیلا ہے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرکے اسلامی ممالک میں جمہوریت امریکی عیسائی نظام کو پر وان چڑھایا ۔عراق،مصر، لیبیا، صومالیہ، یمن، شام، افغانستان فلسطین پربراہ راست عیسائی اور یہودی حملہ آور ہوئے اور آج بھی ان کی بمباری کا محور بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان،مصر،ترکی اور عرب ممالک میں آئے روز کے انتشاراور نام نہاد دہشت گردی کا تحفہ ان امریکی اور یہودی سازشی ذہن کی چال ہے بڑی عقلمندی سے اس نے اسلامی ممالک کو آپس میں لڑایاہے(یا ) ان کو خانہ جنگی کا شکار کر کے کمزور کیا ہے تاکہ ان ممالک کی طرف سے مزاحمت کا ڈر نہ ہو۔اسلامی ممالک کی حکومتیں یا تو کمزور حالت میں ہیں یا ان کے حکمران بکاؤ مال بن چکے ہیں حکمرانوں کو اسلامی ممالک کی عوام کا پیسہ لوٹ کر عیسائی اور یہودی ممالک کی بنکوں میں رکھنے کے علاوہ کوئی کام نہیں اسی وجہ سے وہ معاشی طور پر مضبوط ہوئے ۔مگر اسلام کی فتح یقینی ہے یہ جنگ صلیبی جنگ ہے جس کا آغاز عیسائی اور یہودی کئی دہائیوں پہلے سے کر چکے ہیں۔مگر ہم عالم اسلام ابھی تک بھی نیند کی حالت میں ہیں اب ہمیں بیدار ہونا ہوگا اسلام کی بقاء اور اسلامی ممالک کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہوگا داخلی انتشار کی جنگ سے باہر نکلنا ہوگا اپنی عوام کو جہادی اصولوں کی روشنی میں تیار کرنا ہوگا ۔یورپی ،یہودی ،عیسائی مصنوعات اور منڈیوں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا روس ،چین،شمالی کوریاجن کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکی نظام کے مخالف ہیں انکی طرف راغب ہو کراپنے آپ کو مضبوط کرنا ہوگااسلامی ممالک کی مشترکہ گٹھ جوڑہر میدان میں مدد لازمی ہے غدار حکمرانوں اور اپنے آقاؤں امریکہ اسرائیل کے نام لیواؤں کی روک تھام کرنا ہوگی ۔داعش جیسی تنظیمیں ہمارے دشمنوں کی بنائی ہوئی ہیں انکی جڑ کو پکڑنا ہوگااسلامی دنیا کو فتنے سے نکالنے کا وقت ہے اسلامی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے جہادی نظریئے پراپنی اپنی عوام کواسلحہ کی تربیت اور دفاع کی طرف سوچنا ہوگا۔مذاکرات کی میز اقوام متحدہ کے اصولوں کی کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی دشمن گھر میں داخل ہوکر حالت جنگ میں ہے اور ہم غافل بنے بیٹھے ہیں عرب ممالک کو متحد ہونا ہوگا عمارتوں کی تعمیر کو چھوڑ کراصلحہ اور جنگ و حرب کا شوق دوبارہ زندہ کرنا ضروری ہو گیا ہے ورنہ یہ صلیبی جنگ تباہی کی علامت ہے نقصان زیادہ مسلمانوں کا ہوگا فلسطین پر امریکہ کی پشت پناہی پراسرائیل کا قبضہ ہے کشمیر پر امریکہ کی پشت پناہی پر بھارت کا قبضہ ہے عالم اسلام کے لیے لمحہ فکریا ہے امریکہ کھلم کھلا اسلام دشمنی میں سب سے آگے ہے ہماری بقاء اسلامی اصولوں کے مطابق ہے اسلامی اصولوں کی روشنی میں جنگی تیاری ہی ہماری فتح کی علامت ہے اور جسم پوشی موت ہوگی۔امریکہ اور سامراجی نظام کو چھوڑ کراﷲ کے دیئے ہوئے نظام کی طرف راغب ہونا کامیابی ہے جانوروں سے محبت کرنیوالا امریکی ،اسرائیلی اور یورپی معاشرہ دوسرے ممالک خصوصاً اسلامی ممالک میں انسانوں کا قتل ِ عام کرنے میں سب سے آگے ہے اقوام ِ متحدہ سے یرغمال بنانے اور اپنے مقاصد کے علاوہ کچھ نہیں ہے کوے کے مرجانے سے کوؤں کی طرح اکٹھے ہونے سے شور مچاکر اسلامی ممالک امن و سلامتی اور اپنے حقوق کا کبھی دفاع نہیں کر سکتے ۔بیان بازیوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہونگے دشمن بیان بازیوں سے راہ راست پر آنیوالا نہیں ہے جس کی مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے میڈیا اور اسلامی درد رکھنے والے دانشور بار بار لکھے جا رہے ہیں اور بولے جا رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے حامی ممالک کی جنگ سے باہر نکلو اسلامی ممالک اپنے اپنے علاقوں سے ان شیطانی کارندوں کو نکالیں ان ممالک کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوں بلکہ ان کا معاشی ،سماجی و ثقافتی ہر طرح سے بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ورنہ آنکھیں بند کر کے کبوتر کی طرح بلی کا شکارنہ ہو جائیں ۔امریکہ کے اس اقدام سے جہادی قوتیں زور پکڑیں گی حکمرانوں اور اسلامی ممالک کو اس طرح تقسیم ہونے کی بجائے ایک پلٹ فارم پر اکٹھا ہوکرعوام کو دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کرنا ہوگا
(حوالہ قرآن)
اے ایمان والوں تم یہودو انصار کودوست نہ بناؤیہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو انکے ساتھ دوستی کریگا وہ انہیں میں سے ہے ظالموں کو اﷲ پاک ہرگزراہ ِ راست نہیں دکھاتا۔
سورۃالمائدہ۔آیات نمبر 51
یہودو انصار اگرچہ آپس میں عقائد کے لحاظ سے شدید اختلافات اور باہمی بغض و عناد ہے لیکن اس کے باوجود یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کے معاون بازو اور محافظ ہیں۔امریکہ اور اسرائیل اس کی مثال ہیں
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مہر ساجد بلال

Read More Articles by مہر ساجد بلال: 2 Articles with 820 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Dec, 2017 Views: 514

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ