مختصر مگر اہم بات ( تیسری کہانی " جنتی بیوی " )
(محمد یوسف میاں برکاتی, کراچی)
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
( مختصر مگر اہم بات )
( جنتی بیوی ) ( تیسری کہانی )
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کی اہم بات بھی پچھلی باتوں کی طرح بڑی اہم اور روزمرہ زندگی میں ہونے والے معاملات سے جڑی ہوئی ہے اور یہ تیسری کہانی بڑی گہری اور زندگی سے قریب ترین ہے ایک نوجوان جس کا نام مبشر علی تھا کم و بیش ہر ہفتہ اپنے گھر کے قریبی قبرستان میں جاتا اور وہاں پر موجود اپنے والد کی قبر پر فاتحہ خوانی کرتا کچھ دیر بیٹھتا اور پھر واپس گھر چلا جاتا اور یہ اس نوجوان کا ایک معمول تھا اسی طرح ایک دن جب وہ قبرستان پہنچا اور قبرستان کے دروازے سے جیسے ہی اندر داخل ہوا تو اسے بڑی عجیب خوشبو آنے لگی ایسی خوشبو اس نے زندگی میں اس سے پہلے نہ کہیں سونگھی اور نہ ہی محسوس کی وہ جیسے تیسے اپنے والد کی قبر تک پہنچا فاتحہ خوانی کی لیکن خوشبو پھیلتی چلی گئی اس سے رہا نہ گیا اور وہ قبرستان کا چکر لگانے لگا کہ آخر یہ خوشبو کہاں سے آرہی ہے یہاں وہاں گھومتے گھومتے آخر اسے وہ قبر مل ہی گئی جہاں سے وہ حیرت انگیز خوشبو محسوس ہورہی تھی قبر بالکل تازہ تھی اس نے مٹی کو اٹھا کر سونگھا تو اس میں بھی وہی خوشبو آرہی تھی اس نے یہاں وہاں دیکھا لیکن اس وقت یہاں اس کے علاوہ کوئی نہ تھا وہ کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھا اور باہر نکل گیا لیکن خوشبو اس کا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھی اگلی صبح جب وہ آفس پہنچا تو ہر کوئی اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اخر ایک شخص نے پوچھ ہی لیا کہ مبشر علی یہ خوشبو کونسی لگائی ہے آج تو تمہاری لگائی ہوئی خوشبو سے پورا آفس مہک رہا ہے لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا بس مسکرا کر وہ آگے بڑھ جاتا ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس کی بیچینی بڑھتی گئی اور وہ ایک ہفتہ کا انتظار کئے بغیر اگلے ہی دن واپس قبرستان پہنچ گیا لیکن اس مرتبہ اسے اس خوشبو والی قبر پر ایک بڑی عمر کا شخص بیٹھا ہوا نظر آیا اس نے ہمت کی اور اس شخص کے پاس پہنچ کر پوچھا جناب کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ یہ قبر کس کی ہے تو اس شخص نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہا کہ تم کیوں پوچھ رہے ہو تو مبشر نے کہا کہ دراصل جو خوشبو اس قبر سے آرہی ہے وہ آج تک نہ تو کبھی میں نے سونگھی ہے اور نہ ہی محسوس کی ہے بلکہ یہ خوشبو ہماری اس دنیا کی خوشبو ہے ہی نہیں اس لیئے میں سوچنے لگا کہ آخر یہ قبر کس کی ہے مبشر علی کی بات سن کر اس شخص کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور کہنے لگا کہ یہ قبر میری وفا شعار بیوی کی ہے یہ سن کر مبشر علی کچھ دیر چپ رہا اور پھر کہا کہ انہوں نے ایسا کونسا عمل کیا تھا جس کے سبب انہیں یہ مقام ملا تو اس شخص نے کہنا شروع کیا کہ دراصل میں اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور میرے ماں باپ کو میری شادی کی بڑی فکر تھی جبکہ میں نامرد تھا اور میری اس کمزوری کے بارے میں صرف مجھے اور میری ماں کو علم تھا باقی کسی کو علم نہیں تھا میں اپنی ماں کو ہمیشہ منع کرتا رہا کہ کسی لڑکی کی زندگی کو میں اپنے ہاتھوں برباد نہیں کرسکتا لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے بس پھر میں نے بھی سوچ لیا کہ مجھے کیا کرنا ہے اور اپنی ماں کو شادی کے لیئے ہاں کردی ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس شخص کی بات سن کر مبشر علی نے پوچھا کہ آپ ایسا کیا کرنے والے تھے تو اس نے کہا کہ جب میری امی نے میری شادی کی تو میں نے پہلی رات اپنی بیوی سے صاف الفاظ میں کہ دیا کہ میں شوہر ہونے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوں اگر تمہیں منظور ہے اور تم اس بات کا پردہ رکھتے ہوئے میرے ساتھ گزارہ کرسکتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ تم آج اور ابھی جا سکتی ہو تو میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ آپ جیسے بھی ہیں اب میرے شوہر ہیں اور آپ کی ہر خامی میری خامی ہے بس یہ عورت میرے ساتھ پچھلے تیس سال سے بیوی کے حقوق نبھانے میں مصروف رہی اس نے لوگوں کے طعنے سنے بانجھ جیسے لفظ کا طعنہ سنا مگر کبھی اپنی زبان سے کسی کو حقیقت نہ بتائی بس میری اور میرے والدین کی خدمت میں اپنی زندگی گزار دی اور یوں بیمار ہوگئی پھر آہستہ آہستہ ڈھلتی گئی اور بالآخر اسی بیماری میں وہ مجھے تنہا چھوڑ کر چلی گئی اتنا کہتے ہوئے اس شخص کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور سسکیاں لیتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر میرا رب ایسی عورت کو یہ مقام نہیں عطا کرے گا تو پھر کس کو عطا کرے گا ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس مختصر کہانی میں بڑی اہم بات ہمیں سبق کے طور پر ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بنائی ہوئی اس کائنات میں کئی لوگوں کو اولاد جیسی نعمت عطا کی ہوئی ہے اور کئی لوگوں کو اپنی منشاء سے بے اولاد رکھا لیکن اوپر دی گئی کہانی میں جس طرح ایک عورت نے اپنی ممتا کی قربانی صرف ایک مرد یعنی اپنے شوہر کی کمزوری کا پردہ رکھتے ہوئے دی ایسی مثالیں کم کم ملتی ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی مثال قائم کرنے کے لیئے اپنے صرف ان بندوں کو چنتا ہے جنہیں کوئی نہ کوئی مقام عطا کرنا چاہتا ہے اور اس قبرستان میں موجود اس شخص کی بیوی کی قبر سے جو خوشبو مبشر علی نے محسوس کی وہ کوئی عام خوشبو نہیں بلکہ جنت کی خوشبو تھی جو صرف جنتی لوگوں کو عطا ہوتی ہے جیسے اس جنتی بیوی کو ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس مختصر مگر اہم بات میں ان عورتوں کے لیئے بھی سبق ہے جو مرد کی نا مردانگی کے عیب کو ظاہر کرکے طلاق جیسی تہمت اپنے لیئے پسند کرتی ہیں اور اس مرد سے الگ ہو جاتی ہیں اور ایسے مردوں کے لیئے بھی سبق ہے جو بچاری بانجھ عورتوں کے اس کو دنیا میں اچھال کر ایسی عورتوں کی زندگیوں کو تباہ کردیتے ہیں لیکن جو مرد اور عورتیں ایسے عیب کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء سمجھ کر زندگی گزارتے ہیں تو انہیں پھر جنت کی خوشبو ان کے قبر سے ہی ملنا شروع ہو جاتی ہے ایسی ہی مختصر مگر اہم بات کو لیکر آئندہ بھی حاضر ہوتا رہوں گا انشاء اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ رب مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ |
|