ولادتِ علیؑ: حق کی دائمی دلیل
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
|
ولادتِ علیؑ: حق کی دائمی دلیل تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان ۔۔۔۔۔ تاریخِ انسانیت میں کچھ دن محض تاریخ نہیں ہوتے، وہ عقیدہ بن جاتے ہیں۔ کچھ شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں، وہ معیارِ حق بن جاتی ہیں۔ اور کچھ ولادتیں محض ایک بچے کی آمد نہیں ہوتیں، وہ نظامِ فکر کی بنیاد رکھتی ہیں۔ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولادت بھی انہی عظیم حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ وہ ولادت ہے جو چار دیواری کے اندر نہیں، بیت اللہ کے اندر ہوئی؛ یہ وہ ولادت ہے جو خاموشی میں نہیں، تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہوئی؛ یہ وہ ولادت ہے جس نے بتا دیا کہ جو کعبہ میں پیدا ہو، وہ عمر بھر توحید کا نگہبان ہی ہو سکتا ہے۔ بیت اللہ میں آپ کی ولادت ہونا ایک منفرد اعزاز ہے۔ مورخینِ اسلام اس حقیقت پر متفق ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام 13 رجب 30 عام الفیل کو خانۂ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ یہ شرف نہ اس سے پہلے کسی کو حاصل ہوا، نہ اس کے بعد کسی کو نصیب ہوا۔ حاکم نیشا پوری لکھتے ہیں: "تواتر کے ساتھ یہ روایت ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد نے علی بن ابی طالب کو خانۂ کعبہ کے اندر جنم دیا۔" (المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 483) یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ الٰہی انتخاب کا اعلان ہے۔ اللہ نے علیؑ کو کعبہ میں پیدا کر کے یہ بتا دیا کہ یہ وہ انسان ہے جس کا رشتہ براہِ راست مرکزِ توحید سے جڑا ہے۔ حضرت علیؑ کی عظمت صرف ولادت تک محدود نہیں، بلکہ ان کی پرورش بھی غیر معمولی ہے۔ وہ رسولِ اکرم ﷺ کی آغوش میں پلے، نبوت کے سائے میں پروان چڑھے، اور وحی کے نزول کے عینی شاہد بنے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: "أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا" ترجمہ: "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔" (جامع ترمذی، حدیث: 3723) یہ حدیث محض فضیلت نہیں، بلکہ علمی و فکری قیادت کا اعلان ہے۔ یعنی جو علمِ نبوی تک پہنچنا چاہے، وہ علیؑ کے دروازے سے گزرے بغیر نہیں پہنچ سکتا۔ آپ کو نبی اکرم ﷺ کے بعد مردوں میں ایمان و صداقت میں سبقت حاصل ہے۔ حضرت علیؑ وہ ہستی ہیں جنہوں نے بچپن میں اسلام قبول کیا، مگر شعور کے ساتھ، بصیرت کے ساتھ، اور بغیر کسی تردد کے۔ ابنِ اسحاق کے مطابق: "وَكَانَ أَوَّلَ ذَكَرٍ آمَنَ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ" ترجمہ: "سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں علی بن ابی طالب شامل ہیں۔" (سیرت ابن ہشام، ج 1، ص 262) یہ سبقت بتاتی ہے کہ علیؑ کا ایمان موروثی نہیں، انتخابی تھا۔ وہ حق کو پہچانتے تھے، اس لیے قبول کرتے تھے۔ علیؑ کی تلوار پیمانۂ حق و میزان رہی، آپ ہر میدان میں فاتح و ثابت قدم رہے۔ مولا علیؑ کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں بھی عادل ہیں اور محرابِ عبادت میں بھی عادل۔ ان کی تلوار ظلم کے خلاف اٹھی، مگر کبھی انتقام کے لیے نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ، يَدُورُ مَعَهُ حَيْثُمَا دَارَ" ترجمہ: "علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے، وہ جدھر بھی جائے حق اسی کے ساتھ گھومتا ہے۔" (المستدرک للحاکم، جلد 3، ص 124؛ الترمذی، حدیث:3714) یہ جملہ علیؑ کو محض ایک صحابی نہیں، بلکہ میزانِ حق بنا دیتا ہے۔ آج ہم علیؑ کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر علیؑ کے کردار کو اپنانے سے گھبراتے ہیں۔ ہم علیؑ کو بہادر مانتے ہیں، مگر ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے۔ ہم علیؑ کو عادل کہتے ہیں، مگر اپنے فیصلوں میں عدل نہیں کرتے۔ ہم علیؑ کو علم کا دروازہ مانتے ہیں، مگر علم سے رشتہ کمزور رکھتے ہیں۔ مولا علیؑ کی ولادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علیؑ سے محبت کا تقاضا نعروں میں نہیں، کردار میں ہے۔ حضرت علیؑ کی ولادت کوئی الگ واقعہ نہیں، یہ ان کی زندگی، قیادت اور شہادت کا منطقی آغاز ہے۔ کعبہ میں آنکھ کھولنے والا سجدے میں سر رکھ کر دنیا سے گیا۔ حق کے ساتھ پیدا ہونے والا حق کے ساتھ جیا اور حق کے ساتھ شہید ہوا۔ آج اگر امت کو عدل چاہیے، علم چاہیے، جرأت چاہیے، اور کردار چاہیے تو اسے علیؑ کی طرف پلٹنا ہو گا۔ کیونکہ علیؑ صرف تاریخ کا باب نہیں، امت کے لیے نجات کا نصاب ہیں۔ ۔۔۔۔۔ (ڈاکٹر طالب علی اعوان) |
|