سلطان حیدر ---- ایڈوانس کامیابی مبارک ہو

(Javed Iqbal Anjum, Chakwal)

ضمنی انتخاب حلقہ پی پی 20 کی انتخابی مہم بامِ عروج کو چھو رہی ہے، کارنر میٹنگز کی بھرمار ہے۔ پورا شہر بینرز اور پوسٹرز سے سجا دیا گیا ہے۔ اس وقت جو لوگ کانٹے دار مقابلہ قرار دے رہے ہیں وہ دراصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ زیر بحث نہیں ہے کہ یہ انتخاب کون جیتے گا؟ زیر بحث یہ ہے کہ چوہدری سلطان حیدر علی کتنی بھاری لیڈ حاصل کریں گے۔ سیاسی حلقوں میں لیڈ 15 ہزار سے لے کر 35 ہزار تک تصور کی جا رہی ہے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ لیڈ 25 ہزار سے 30 ہزار کے درمیان ہو گی۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار چوہدری سلطان حیدر علی بھرپور انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں مگر اُن کی انتخابی مہم کو اہم موڑ ایم این اے میجر (ر) طاہر اقبال اور سابق ضلعی ناظم سردار غلام عباس دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دونوں سر توڑ محنت کر رہے ہیں۔ یقینا اس کے مثبت ثمرات ملیں گے۔ حلقہ پی پی 20 کا ضمنی انتخاب اس لحاظ سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا۔ ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا اور جس جماعت نے دھرنا دیا وہ اس حلقے میں اپنا اُمیدوار بھی سامنے لائی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ایک دینی جماعت کو داڑھی والا اُمیدوار بھی نہ مل سکا البتہ اس ضمنی انتخاب میں واضح ہو جائے گا کہ اُن کو کتنے ووٹ ملتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ بیلٹ بریلوی بیلٹ کہلاتی ہے اور تحریک لبیک بھی اس مکتب فکر کی جماعت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کو اس حلقے میں کتنے ووٹ ملتے ہیں۔ دُوسری طرف پانامہ کے ہنگامے اور نیب ریفرنسز کے شور و غول کے بعد یہ ضمنی انتخاب ہو رہا ہے اور اس سے بھی یقینا اندازہ ہو جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے ووٹ بینک میں کتنی کمی ہوئی ہے اور کتنا اضافہ ہوا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کا بھی بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ یعنی اس ضمنی انتخاب میں بہت سی باتیں واضح ہو جائیں گی۔ حلقہ پی پی 20 میں بہت سی باتیں مسلم لیگ (ن) کے حق میں گئی ہیں۔ ایک تو سردار غلام عباس کا اس جماعت میں شامل ہونا بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، یقینا اُن کا بہت بڑا ووٹ بینک ہے۔ پھر چوہدری علی ناصر بھٹی کو پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ نہ ملنا یقینا شہر میں اُن کا بڑا ووٹ بینک تھا جو اب اُن کے ساتھ نہیں رہا۔ پہلوان گروپ کے شیخ وقار علی کی خاندانی لڑائی۔ چوہدری ایاز امیر کا کھل کر سامنے نہ آنا اور امیر تحریک خدام اہلسنت قاضی ظہور الحسین اظہر کا ایک اہم موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا اعلان کرنا یقینا اُن کے چاہنے والوں کی کمی نہیں، اُن کا بہت بڑا ذاتی ووٹ بینک اس حلقے میں موجود ہے۔ ان محرکات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات کس کے حق میں جا رہے ہیں۔

قارئین محترم! حلقہ پی پی 20 کا نتیجہ ہی 2018ء کے انتخابات کا راستہ بھی بتائے گا۔ جن جن جماعتوں کو عام انتخابات کی جلدی ہے اُن کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ 2018ء کے عام انتخابات میں کیا نتیجہ آئے گا۔ کوئی اچھا سمجھے یا بُرا سمجھے یہ بات ماننا پڑے گی کہ مسلم لیگ (ن) پاکستان کی سب سے مقبول جماعت ہے اور اس کے قائد میاں محمد نواز شریف پاکستان کے سب سے مقبول رہنما ہیں اور ان تمام نشیب و فراز میں اُن کی مقبولیت میں ذرا برابر بھی کمی واقع نہیں ہوئی اور اس کا اندازہ ضمنی انتخاب کے بعد 2018ء کے انتخابات میں بھی ہو جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 35494 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2017 Views: 434

Comments

آپ کی رائے