شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر عوامی تاثرات۔۔۔

(Hafeez khattak, Karachi)
٢٧دسمبر بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دن ہے اور اس دن پیپلز پارٹی سمیت ہر محب وطن پاکستانی ان کی محنتوں کو یاد کرتا ہے، ان کی ہی حوالے سے اک سروئے کر کے ایک رپورٹ ۔۔۔۔

شہید بے نظیر بھٹو کی یادگار تصویر۔۔۔

27دسمبر 2007وہ تاریخ ہے کہ جسے ہر پاکستانی یاد رکھے گا ۔ اس دن کا ذکر کسی کے سامنے آتا ہے تواس کا چہرہ اس کے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتا ہے ۔بے نظیر بھٹو کو آج سے دس بر س قبل راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اک بڑے عوامی جلسے کے اختتام پر شہید کردیا گیا ۔اس سانحے کے بعد مجموعی طور پر ملک کے حالات ناقابل بیان ہیں۔ اس برس کے بعد سے آج تلک ہر برس محترمہ شہید کی برسی کو بھرپور انداز میں ملکی سطح پر منایا جاتا ہے۔ گڑھی خدابخش میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت موجود ہوتی ہے اور ان کی موجودگی میں برسی کا بڑا جلسہ عام ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر سے قافلوں کی صورت میں عوام شریک ہوت ہیں۔ سابقہ دور میں کہ جب شہید کے شریک حیات آصف علی زرداری اس ملک کے صدر تھے تو قومی سطح پر شہادت کے دن عام تعطیل ہواکرتی تھی۔ 2013کے بعد جب ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو وہ عام تعطیل ختم کردی گئی اور سندھ میں چونکہ پیپلز پارٹی کی ہی حکومت ہے لہذا وہ شہادت کے روز سندھ بھر میں تعطیل ہوتی ہے۔ اس ریت کو اس بار برقرار رکھا گیا ہے۔

بے نظیر بھٹو شہید کے دور میں پیپلز پارٹی ،ان کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کے دورمیں پیپلز پارٹی اور ان کی موجودگی میں ہی بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی ، کیا تھی ، کیا ہے اور مستقبل میں اس کے ماضی اور حال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی رائے کو جاننے کیلئے سروے کیا گیا جس میں اس جماعت کے کارکنوں ، ہمدردوں سے بھی گفتگو ہوئی اس کے ساتھ دیگر سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کثیر تعداد میں زندگی کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں نے اپنے خیالات ، جذبات و تاثرا ت اظہار کیا۔

سینئر صحافی شکیل کا کہنا تھا کہ میں اس برس اک بڑے اخباری گروپ کے نئے ٹی چینل میں ملازم تھا شام کے وقت دفتر میں ہی شہادت کی خبر سنی تو بہت دکھ ہوا ۔ میں اس جماعت کو پسند کرتا تھا اور میری یہ پسند کی وجہ صرف بے نظیر بھٹو کی طرز سیاست تھا۔ ان کی شہادت پر میری حالت ناقابل بیان رہی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میرے گھر میں ہی بری بہن کو شہید کر دیا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ناصرف جماعت کو سنبھالا بلکہ اس ملک کی عوام کیلئے بھرپور انداز میںخدمات سرانجام دیں ۔ اس کی مثال کو امت مسلمہ سمیت اقوام عالم میں بھی نہیں ملی گی۔اب جہاں تک اس جماعت کے حال اور مستقبل کا تعلق ہے تو سچ یہ ہے کہ یہ جماعت اب صرف شہیدوں کے نام پر زندہ ہے اور چل رہی ہے۔

تعلیم کے شعبے سے متعلق پروفیسر منور کا کہنا تھا کہ آپ کے ابتدائی دو سوالات پر تو مثبت جواب ہی دیں گے لیکن موجودہ حالات اور مستقبل کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سے ہمیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ آپ دیکھیں کہ این ٹی ایس کا امتحان پاس کرنے والوں اساتذہ پر اسی جماعت کی حکومت نے کتنا ظلم کیا ہے۔ اساتذہ پر آنسو گیس گرائے ہیں ، پانی سے نہالایا اور ظلم کی نئی داستان رقم کی ۔ حد تو یہ ہے کہ یہ سب ظلم کرنے کے بعدوزیر اعلی کہتا ہے کہ احتجاج سب کا حق ہے اور اساتذہ کے ساتھ ہونے والا سلوک قابل مذمت ہے۔ اس جماعت کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو نے تو ساری زندگی باہر گذاری انہیں یہاں کے حالات کو سمجھنا چاہئے اور اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے، میری نظر میں یہی بہتر ہے اگر وہ سمجھیں۔

تاجر علم دین کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بس ایک نعرہ ہے جئے بھٹو اور روٹی کپڑا اور مکان،بس یہ جماعت اس ایک نعرے تک محدود ہوگئی ہے اس سے بڑھ کر ا ب ان کے پاس کچھ کرنے کو نہیں رہا۔ اس جماعت کے بڑے یہ نہیں دیکھتے کہ دگر سیاسی جماعتیں کس انداز میں دیگر صوبوں میں عوام کیلئے کام کررہی ہیں لیکن یہ لوگ کچھ نہیں کرتے ہیں۔ تھر کا حال دیکھ لیجئے اور وہاں پر سب واضح ہے اور اسی سے ہی ان کی حالت عیاں ہوتی ہے۔ خاتو ن شہنیلا جوکھیو کا کہنا تھا کہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے گھر میں اسی پارٹی کو دیکھا ہے ۔ ہماری نظر میں یہی پارٹی اس ملک کیلئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی بی رانی کو جب شہید کیا گیا تو ان کے شوہر آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا اور آج تک یہ جماعت اسی نعرے پر قائم و دائم ہے۔ میرا خیال ہے کہ آنے والے انتخابات میں بھی اسی جماعت کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوگی۔ رضیہ سلطان کا کہنا تھا کہ آپ شہر قائد کو دیکھئے آج یہاں پینے کا صاف پانی نہیں ، اس کے علاوہ صفائی کے حال سب کے سامنے ہیں ۔صوبائی حکومت کے لوگ صر ف کھاناجانتے ہیں۔ انہی کے ڈاکٹر عاصم کا حال آپ کے سامنے ہیں ، شرجیل میمن کا حال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ میری نظر میں یہ پوری پارٹی عوام کے مفاد کیلئے اب کچھ کرنے کے عزائم نہیں رکھتی ۔ ہاں بی بی شہید کی ہم دل سے عزت کرتے تھے کرتے ہیں اور کرتے رہیں ۔ حکمران جماعت کے کارکن فرمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک اس جماعت کے ماضی کا تعلق ہے تو اس کے ہم قائل ہیں بے نظیر شہید ہوں یا ان کے والد دونوں کی خدمات کو ہم ہماری جماعت کھلے دل سے تسلیم کرتی ہے ۔ لیکن دوسری جانب اب جبکہ اس جماعت پر اصل میں آصف علی زرداری کی حکومت ہے ان کا بیٹا تو بے بس ہے اور ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اب اس جماعت کا حال بہتر نہیں۔ تحریک انصاف گوکہ ہماری جماعت کے بہت خلاف ہے اس کے باوجود ہم پیپلز پارٹی کوان چھوٹی جماعت سمجھتے ہیں ۔

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ نوید کا کہنا تھا کہ ماضی کی باتوں کو ایک جانب رکھئے ،حال اس جماعت کا پوری عوام کے سامنے ہے۔ جس طرح نواز شریف کو سپریم کورٹ نے ناہل قرار دیا ہے ہمیں امید ہے کہ جلد ہی آصف علی زرداری کو بھی ایک جانب کر دیا جائیگا۔ جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے اسے تو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کی پھوپھی فریال بی بی تو ایک جلسے تک میں ان کا نام لیتے ہوئے شہید کا لفظ استعمال کرچکی ہیں۔ کراچی میں آج آپ دیکھئے کم ہی بجلی کے کھمبے آپ کو ایسے نظر آئیں گے کہ جہاں اس پارٹی کا جھنڈا نہ لگاہوا ہو۔ ان کی جماعت کی اس صوبے میں حکومت ہے ان کی کارکردگی کا موازنہ ہمارے صوبے سے کیجئے سب سامنے آجائیگا ۔ دینی جماعت کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ اس جماعت کا ماضی بے نظیر بھٹو کی وجہ سے شاندار تھا اس بی بی کا طرز سیاست ملک کی حالیہ دیگر جماعتوں میں موجود خواتین سے یکسر مختلف تھا ۔ اس جماعت کے مستقبل سے ہم مایوس ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ بڑی جماعت ہے اور اسی جماعت نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت کو پورا کیا ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے دور میں بھی پوری عوام بلاول کو ووٹ دیں گے اور ایک بار پھر ملک میں عوامی جماعت کی حکومت ہوگی ۔ ہماری ماضی میں بھی یہی جماعت تھی ، اب بھی ہے اور یہی رہے گی ۔ سروے کا یہ سلسلہ جاری رہا اور ایسے ہی جوابات مثبت و منفی کی صورت میں آتے رہے۔ بے نظیر بھٹو اب یہاں نہیں تاہم ان کا طرز سیاست ان کی جماعت کیلئے موجود ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما و کارکنان ان کے شخصیت کو مدنظر رکھیں اور ان سے کچھ حاصل کرنے کی اور ان پر عملدرآمد کریں ، ایسا کرنا ان کیلئے ان کی پوری جماعت کیلئے مثبت رہے گا۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafeez khattak

Read More Articles by Hafeez khattak: 190 Articles with 98932 views »
came to the journalism through an accident, now trying to become a journalist from last 12 years,
write to express and share me feeling as well taug
.. View More
28 Dec, 2017 Views: 487

Comments

آپ کی رائے