اِک مظلوم

(Hukhan, karachi)

دنیا میں کئی طرح کے مظلوم پائے جاتے ہیں،،،ہر قسم کے مظلوم کرہ ارض
پر موجود ہے،،،
ہم رنگ،،،شکل،،،قومیت،،،یا قد کاٹھ کی بات نہیں کر رہے،،،بلکہ،،،ہر اس
شخص کی ہم آواز ہیں،،،جس جس پر جہاں جہاں ظلم ہو رہے،،،خواہ،،،وہ
ظالم ،،،بیوی،،،حکمران،،،سیٹھ،،،صنعتکار ہو،،،یا کوئی بادشاہ ہو،،،،ہم ہر
مظلوم کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہیں،،،

کیونکہ ہم ہر مظلوم کی وہ آواز ہیں جسے کوئی نہیں سنتا،،،مطلب ہم
بے سرے نہیں ہیں،،بلکہ ہمارے پاس کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں،،،جہاں
سے ہم مظلوموں کے لیے کچھ کرسکیں،،،
مگر اب ہم ایسے بھی بےضرر یا نکمے نہیں،،،کہ کچھ نہ کر پائیں،،،،

ہمارے پڑوس میں اک کالو رہتا ہے،،،اس کا ایک عدد ابا بھی ہے،،،اک
دفعہ ان کی مسز کالو نے،،،انہیں کپڑے دھونے والے ڈنڈے سے،،،،ایسے
پیٹا ،،،کہ ان کا منہ شرٹ کے ٹوٹے بٹن سا ہوگیا،،،

ہم سے برداشت نہ ہوا،،،ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ،،،ڈنڈے اور
کالو کے ابا کے درمیان آگئے،،،
بس پھر کیا تھا،،،آنکھ ہسپتال میں لے کر کھلی،،،مسز کالو نما،،،کوئی
نرس ہماری مرہم پٹی کررہی تھی،،،
ہمیں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو تھے،،،ہم بولے،،،آپ کی آنکھ
میں آنسو دیکھ کرہمیں یقین ہوگیا،،،،اک دن مظلوم کی فتح ہو گی،،
ظلم ضرور ہارے گا،،،

اس نے ہمیں ایسے دیکھا،،،جیسے آج تک کسی نے نہ دیکھا ہو گا
بولی،،،بس کیا بتاؤں،،،آج آپ بچ گئے ،،،میری بلی کا بچہ مر گیا ہے،،،،
پھر ہماری طرف دیکھ کر ٹھنڈی سی برفیلی آہ بھر کے بولیں،،،کاش
آپکی جگہ،،،،،خیر چھوڑو،،،اب کیا ہوسکتا،،،
ہمیں پہلی دفعہ پتا چلا کہ بعض لوگ اندر اور باہر سے ظالم ہی ہوتے
ہیں،،،

اک دفعہ مرزا صاحب کی بیوی صرف اس وجہ سے ان پر بن برسات،،،
برس رہی تھی،،،
ہم بولے،،،کیا ہوا بھابھی صاحبہ؟؟؟،،!اگر مرزا نے ٹینڈے صحیح نہیں
پکائے،،،انسان ہیں کھا لیں اور کچھ،،،
ابھی ہمارا جملہ آدھورا ہی تھا،،مسز مرزا نے پورا دیگچہ ہمارے سامنے
رکھ دیا،،،گرج کر بولیں،،،یہ پورا نہ کھایا،،،تو تمہیں اک سے دو کر دوں گی
وہ بھی درمیان میں سے،،،

ہمیں ان کی ٹیکنیکل دھمکی ذیادہ سمجھ تو نہیں آئی،،،مگر ان کے
تاثرات کسی تھانے کے ایس ایچ او سے کم نہ تھے،،،ہمیں ٹینڈے کھائے
تین سال ہو گئے مگر ابھی تک ڈکاریں آتی ہیں،،،
ڈکار میں بھی مرررررررر،،،،زززززززز،،،،اااااااا،،،،جیسی آوازیں آتی ہیں،،،

اللہ سب کو ٹینڈوں سے بچائے،،،سب بولو،،،،آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hukhan

Read More Articles by Hukhan: 1124 Articles with 860068 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Dec, 2017 Views: 1147

Comments

آپ کی رائے
Hahah bhot awla
By: Shsheryar Bhatti, Sargodha on Jan, 01 2018
Reply Reply
0 Like
thx for like
By: hukhan, karachi on Jan, 02 2018
0 Like
hehhehe ameeen kia kamal ka likhte ho ap bhai ,,,,, :)
By: Zeena, Lahore on Dec, 31 2017
Reply Reply
0 Like
thx sister
By: hukhan, karachi on Dec, 31 2017
0 Like
real fun you got great fingers
By: khalid, karachi on Dec, 29 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Dec, 30 2017
0 Like
bhut allaa
By: rahi, karachi on Dec, 29 2017
Reply Reply
0 Like
thx
By: hukhan, karachi on Dec, 30 2017
0 Like