مقبوضہ کشمیر کب تک جلتا رہیگا۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, کراچی)

برصغیر پاک و ہند میں کئی دہائیوں سے ہندو اور مسلم نظریئے پر جنگ قائم رہی ہے ، ہندوستان پر قابض ہونے والے برطانوی انگریز جب واپس ہورہے تھے تو اس خطے پر ہندو اور مسلم قوم کے مستقبل کا معاملہ طول پکڑ گیا، ایک جانب ہندوؤں کے سیاسی رہنما پنڈت ہنرو نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہندوؤں کے مستقبل کیلئے آواز اٹھائی تو دوسری جانب مسلمانوںکے حقوق کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کا پلیٹ فارم فراہم کیا، لارڈ ماؤنٹ بینٹن سے معاہدہ طے پایا کہ اکثریتی علاقوں پر الگ الگ ملک قائم کیا جائے گا جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے وہاں ہندوستان اور جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں پاکستان بننے گا لیکن اس معاہدے کے مطابق بھی ہندوؤں اور انگریزوں نے مسلمانون کیساتھ دھوکہ دیا کیونکہ مسلم اکثریت کے علاقوں میں یوپی، سی پی ،بنگال،راجستان کے علاقے بھی تھے جنہیں شامل نہیں کیا گیا جبکہ کشمیر کے معاملے میں بھی دھوکے بازی اور مکارپن اختیار کیا گیا، جاتے جاتے برطانوی انگریزوں نے مسلم دشمنی کا ثبوت اس طرح کا کہ کشمیر کے معاملے کو متنازعہ کردیا بحرکیف مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی عدالت اور یو این او میں جانے کے بعد بھی آج ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا کوئی حل نہ ہوا، بھارتی ھکومتوں کے مسلسل انسان سوز عوامل جاری رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیناؤں نے ظلم و بربریت کےتاریخ رقم کردی ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا بھارت کے اس ظالمانہ بہمانہ انسان سوز رویہ پر آج تک خاموش ہے ۔۔۔ معزز قارئین!!گزشتہ ستربرسوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی عروج پر ہے بھارتی افواج اور فورسزکی جانب سے روزانہ سترہ زیر حراست افراد کو قتل کرنا ، ہزاروں لوگوں کو لاپتہ کردینا، بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کو نظربندکرنا ، بھارتی ایجنٹوں کا کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر انھیں زبح کرنا،کشمیری نوجوانوں کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کرکے برہنہ لاش کو درختوں سے لٹکا دینا ، کشمیریوں کی ناک ، زبان اورکان کاٹنا ، عورتوں کی عزتوں کو پامال کرنا ، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو شہید کرنا ، کشمیری چرواہا بچوں کو جاسوس قرار دے کر ان پر گولیاں برسا کرقتل کرنا،کشمیری خاندانوں کو دیوارکے ساتھ جمع کرکے ان پر برسٹ کے برسٹ چلاکر ان کی زندگیاں چھین لینا ، راہ چلتے کشمیریوں کو تلاشی کے بہانے ہراساں کرنا، ان پر تشدد کرنا ، کشمیری لیڈروں کے گھروں پر گرینیڈ بم سے حملہ کرنا،کشمیریوں کو ان کے گھروں سمیت بم سے اڑدینا، آگ لگاکر خاکسترکردینا ، بلڈوزر کے ذریعے مسمارکرنا،گھرگھر تلاشی کی آڑ میں شہریوں کو حراست میں لینا انھیں گھروں سے اٹھا کر غائب کردینا،کشمیریوں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کو کھیتوں میں پھینک دینا،کشمیری نوجوانوں کوگرفتارکرکے انھیں پاکستانی ایجنٹ قرار دے کر شہید کرنا،کشمیری شہریوںکوگائے کی طرح زبح کرنا، نام نہاد قتل کے الزام میں گرفتاریاں کرنا،کریک ڈاؤن کرکے جھڑپوں میں کشمیریوں کو حراست میں لے کر شہیدکرنا، صحافیوں کو دوران ڈیوٹی تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کرنا، متعدد خواتین اوربچوں کو شہید کرنا ،علاقوں میں خوف و دہشت پھیلانا ، جیلوں میں کشمیری قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز مظالم ڈھانا، بستیوں کا محاصرہ کرکے اندھا دھند فائرنگ کرکے دہشت پھیلانا، گھروں میں گھس کر خواتین کو ہراساں کرکے گھروں میں توڑ پھوڑکرنا،کشمیری رہنماؤں کو قتل کرکے الزام کشمیریوں پر لگا دینا،کشمیری قائدین مابین دوریاں پیدا کرکے کشمیرکازکوکمزور کرنے کی کوشش کرنا ، طلبا وطالبات کو تشدد کا نشانہ بناکر انھیں شہید وزخمی کرنا ، نوجوانوں کوگرفتارکرکے انھیں جنگ بندی لائن پر لاکر شہید کرکے درانداز قرار دینا ، مساجد کے پیش اماموں ، دکانداروں اور ان کے ملازمین کو شک کی بنیاد پر گرفتار کرکے بعد ازاں انھیں قاتل قراردینا اور شہید کرنا،کشمیری رہنماؤں کو شہداء کے جنازؤں میں شرکت سے روکنے کے لیے انھیں نظر بند کرناروز کا معمول ہے، موجودہ انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر سمیت اب پورے بھارت میں اقلیتوں کیساتھ ظالم و تشدد کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں، بھارتی میڈیا اور شوشل میڈیا بھی اپنی حکومت کے ان نا سوز مظالم پر چیخ اٹھے ہیں کہیں گاؤ ماتا کےالزام میں مسلمانوں کو زندہ جلایا جارہا ہے توکہیں تشدد کرکے ہلاک کیا جارہا ہے، مسلم خواتین کو جبرا ہندو بنایا جارہا ہے یہی نہیں عیسائی اور سکھ مزہب بھی غیر محفوظ ہوکر رہ گئے ہیں، سوائے ہندو مذہب کے تہوار پر آزادی ہے لیکن دیگر مذہب کے تمام تہوار پر بندش لگادی گئی ہے اب تو بھارتی میڈیا بھی خبر دے رہا ہے کہ بھارت سمیت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی مساجد پر آذان دینے پر بھارتی حکومت سے اجازت طلب کرنی پڑے گی، بھارت بھول گیا ہے کہ وہ جس ڈگر پر چل پڑا ہے وہ خود اس کی تباہی کیلئے کافی ہے کیونکہ ظلم بپا کرنے والی ریاستیں کبھی بھی قائم و دائم نہیں رہتیں، رہی بات مقبوضہ کشمیر کی تو یاد رکھنا چاہیئے کہ جب کشمیریوں نے تہیہ کرلیا کہ وہ مسلم سپہ سالار ٹیپو سلطان کے مطابق گیڈر کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے کے عمل پر پیرا ہوگئے تو پھر مقبوضہ کشمیر نہیں جلے گا بلکہ خود بھارت مکمل جل کر راکھ ہوجائیگا، جا بجا خود کش دھماکے، بم بلاسٹ بھارت کے ہر شہر ، ہر گاؤں میںپھٹنا شروع ہوجائیں گے ، بھارت اسرائیل اور امریکہ کیساتھ مل کر جو افغانستان میں سازشیں ابل رہا ہے اور مسلسل پاکستان کو بزدلی کیساتھ نقصان پہچانےپر تلا ہوا ہے وہ یاد رکھ لے کہ خود بھارت سے ان کے انتہا پسندؤں کے خلاف تحریکیں امنڈنے والی ہیں پھر بھارت تن تنہا ہوکر رہ جائیگا کیونکہ اسرائیل اور امریکہ اب دنیا کے سامنے ننگا ہوچکا ہے دنیا جان چکی ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے بدمعاش غنڈے یہ ممالک ہیں، انہیں ممالک کی وجہ سے خاص کر مسلم ممالک تباہی کا شکار رہے ہیں، دنیا جان چکی ہے کہ امریکہ ،اسرائیل، برطانیہ اور بھارت نے دنیا بھر میں انتشار، فساد اور تباہی کو فروغ دیا ہے حتیٰ کہ یونائیٹڈ یونین آرگنائزیشن کو اپنے مقاصد کیلئے ڈھال بنائے رکھا، یہی وجہ ہے کہ یو این او آج تک نہ فلسطین کے مسلہ کو حل کرسکی اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ کو حل کیا، جنوبی ایشیا میںبڑھتے ہوئے فساد کو بھی انہیں ممالک کو فروغ دیا، مشرقی وسطیٰ ہو یا مشرقی بعید کے ممالک کسی کو بھی نہیں بخشا،حالیہ دنوں میں انہیں ملکوں نے پاکستان کو اپنا ہدف بنانے کی کوشش کیں ہیں لیکن پاکستان وہ مسلم ملک ہے جو ان چاروں ممالک کو اچھی طرح جواب دے سکتا ہے، پاکستان قانون کا احترام کرتا ہے اسی لیئے یو این او کے چارٹر کے مطابق مقبوضہ کشمیر کےتنازعہ کو حل کرنا چاہتا ہے،ان چاروں ممالک کو اب سمجھ لینا چاہیئے کہ زن کی بدمعاشی، غنڈہ گردی دنیا بھر میں اور بلخصوص فلسطین و مقبوضہ کشمیر میں زندہ عرصہ نہیں چل سکتی ہے ، اگر امریکہ ،اسرائیل، برطانیہ اور بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لیئے تو انہیں بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی، وہ وقت اب دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر اور فلسطین اپنی آزادی کے شیانے بجانے والا ہے ۔ ۔۔۔۔اللہ پاکستان کی سلامتی کو قائم رکھے اور دشمانان پاکستان کو حواریوں کو نامراد و ناکام کرے آمین ثما آمین۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 308 Articles with 157352 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Jan, 2018 Views: 296

Comments

آپ کی رائے