’خرم دستگیر‘حافظ محمد سعید ۔۔۔اورمجھے کیوں نکالا

(Munzir Habib, )

 (نسیم الحق زاہدی)
وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر کا حالیہ بیان ’’جماعت الدعوۃ کے خلاف کاروائی سوچ سمجھ کر کی جائے تاکہ آئندہ دہشت گرد سکول میں بچوں کو گولیاں نہ مار سکیں‘‘ اور وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کا امریکہ کی گود میں بیٹھ کر سابقہ بیان ’’کہ حافظ محمد سعید وائٹ ہاؤس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے سے یاد آیا کہ فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی ؒکہتے ہیں کہ دشمن سے پہلے غدار کو قتل کرنا ضروری ہے ۔مسلم لیگ (ن)اس دئیے کے مانند ہے جو بجھنے سے پہلے پھڑپھڑاتا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے نا اہلی کے بعد عدلیہ اور فوج کو کو اپنا ہدف اورکھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے انکی صاحبزادی مریم نوازنے تو پورا محاز کھول رکھا ہے ۔خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کہتے ہیں کہ ’’قائد اعظم زندہ ہوتے تو موجودہ صورتحال دیکھ کر ان پر کیا گزرتی ؟’’تھانوں میں غریبوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوتا ‘‘ غریبوں کو انصاف نہ ملا توخونی انقلاب آئے گا ‘‘ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ اگر غریبوں کو انصاف نہ ملا تو خونی انقلاب آئے گا اور اپنے ساتھ ظالموں‘اور وقت کے فرعونوں کو بہالے جائے گا ۔کہتے ہیں کہ فرعون اس وقت تک اتنا ظالم نہ تھا جب تک اسے نجومیو ں اور کاہنوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ بنی اسرائیلی قوم میں پیدا ہونے والا ایک بچہ اس کی بادشاہت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے گا وہ جھوٹا خدائی دعویٰ کرتا تھا اسے علم تھا مگر وہ اپنی جھوٹی بادشاہت کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہتا تھا اسی خوف کے پیش نظر اس نے بنی اسرائیلوں کے ہزاروں لڑکوں کو قتل کروادیا مگر اﷲ تعالیٰ کی قدرتیں ناقابل فہم ہیں انسانی عقل اس کا احاطہ نہیں کر سکتی یہ وہ اس کی قدرت کا عظیم معجزہ تھا کہ اس کی حضرت موسی ؑ کو فرعون کے گھرپناہ دی انکی شاہانہ پرورش ہوئی ۔مسلمانوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کے ہاتھوں ہی پہنچا ہے ۔کرسی (تخت )کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے ہر فرعون ‘بادشاہ‘حاکم یہی سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ تخت نشین رہے گا یہی خوش فہمی اسے ظلم وستم کرنے پر اکساتی ہے اور پھر اﷲ تعالیٰ کی ذات برحق اسے اس کے انجام سے بے خبر کردیتی ہے اور اسکے دل‘زبان اور آنکھوں پر مہر لگا دیتی ہے ۔پھر اسے وہ مٹی نگل لیتی ہے جس پر کبھی وہ اس تکبر سے چلا کرتا تھا کہ جیسے وہ اسے پھاڑ کے رکھ دے گا ۔ٹرمپ اور مودی کا تو حافظ محمد سعید اور جماعت الدعوۃ کے خلاف بولنا بنتا ہے کیونکہ حدیث مبارکہ ہے کہ کفر ایک ملت ہے اور وہ مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے ۔وہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں مانتا ہوں کہ سانجھے مفادات ہیں مگر اس کا ہر گز تو یہ مطلب نہیں کہ تم اپنے ہی محسنوں پر انگلیاں اٹھانا شروع کردو غلامی کا کھاتے ہیں تو وفاداری کرو مگر اپنی قوم و ملک سے تو غداری نہ کرو ۔حافظ محمد سعید کا قصور یہ ہے ؟ کہ وہ بلا امتیاز رنگ ونسل ومذہب انسانیت کی خدمت کرتے ہیں وہ انسانی حقوق کی آزادی کی بات کرتے ہیں وہ لاکھوں کشمیروں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ‘وہ غلامی کے کشکول توڑنے کی بات کرتے ہیں جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی کرپشن یہ ہے اس نے گذشتہ برس فلاحی کاموں پر سواپانچ ارب روپے خرچ کیے ہیں ‘سندھ بلوچستان اور گلگت بلتستان کے دشوار گزار علاقوں میں بھی ایمبولینس سروس ‘اسپتال اور فری دسترخوان چل رہے ہیں ہزاروں لاوارث لاشوں کی تجہیز وتکفین کے فرائض سرانجام دئیے ۔فلاح انسانیت فاؤنڈیشن وہ واحد تنظیم ہے جو کسی ملکی اور بین الاقوامی فورم پر اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کرانے کے لیے تیار ہے ۔حافظ محمد سعید اور انکی جماعت پر آئے دن پابندیاں ‘نظربندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن کتنا خوف زدہ ہے ۔ایسی صورت حال میں تو پاکستانی حکومت کو چاہیے تھا کہ ایسے محب وطن انسان دوست حافظ محمد سعید کو انکی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتی کیونکہ حافظ محمد سعید بغیر حکومتی تعاون کے لوگوں کے مدد سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں جوکہ بذمہ حکومت وقت ہوتا ہے ۔خرم دستگیر اور خواجہ کیا جانیں کی بھوک کس عفریت کا نام ہے جن کے ایک دن کا کھانا مزدور کی سال بھر کی کمائی سے زیادہ کا ہوتا ہے ۔یہ جماعت الدعوۃ والے واقعی دہشت گرد ہیں کبھی کسی جماعۃ کے مرکز میں جا کر دیکھیں کہ یہ لوگ کس طرح دہشت گردی پھیلا رہے ہیں؟ ان کے دسترخوان سب کے لیے کھلے ہیں وہاں کسی سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ کس مذہب کے ماننے والا ہے ؟اور کہاں سے آیا ہے ؟وہاں آنے والوں کو سلامتی کی دعا اسلام علیکم اور خندہ پیشانی کے ساتھ بغل گیر ہو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور پھر پوچھے بغیر کھانا پیش کیا جاتا ہے -

بیماروں ‘بیواؤں ‘یتیموں ‘مسکینوں ‘بوڑھوں ‘بچوں اور خواتین کو کھانے سے لیکر فری طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔ ان مجاہدوں کے پروٹوکول نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے پروٹوکول نے کبھی کسی معصوم بچے کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر سیاسی شہید کا لقب دیا ہے ۔کبھی حکومتی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا ‘کبھی کرپشن نہیں کی‘ملکی وغیر ملکی دہشت گردی کی کسی واردات میں ملوث نہیں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد لیگی وزاء شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں شاید ان کو بھی اپنا انجام نظر آرہا ہے نوازشریف عوام سے یہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا۔۔۔۔۔؟حضور بحثیت ایک مسلمان جو میری نظر میں ناقابل معافی گناہ ہیں ان میں سب سے پہلا تو یہ ہے کہ آپ کی دور حکومت میں ایک عاشق رسول ﷺکو پھانسی ہوئی آپ حاکم وقت تھے غازی علم الدین شہید ؒ کو کفر پر قائم نظام حکومت میں پھانسی دی اور ممتاز قادری کو نا انصافی پر قائم نظام حکومت نے دوسرااس سے بڑاگناہ ختم نبوتﷺشق میں ترمیم ہے اس سے بڑا جھوٹ کیا ہوگا کہ آپ پارٹی کے سربراہ ہوں اور پس پرداہ وزیر اعظم بھی اور آپ کا ایک وزیر ختم نبوت ﷺ شق میں ترمیم کردے ’’کعبہ کس منہ سے جاتے ہو‘‘طاہر القادری اور انکے نظریات سے لاکھ اختلاف سہی مگر سانحہ ماڈل ٹاؤن حکومتی دہشت گردی کی ایک ان مٹ داستان ہے کہ کس طر ح نہتے مرد وخواتین کو دن دھاڑے قوم کے محافظوں نے گولیوں نے بھون ڈالا رحمت کائنات حضرت محمدﷺ جب تیرہ سال کے بعد ایک فاتح کی حیثیت سے مدینہ سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے ایک چیونٹی کو بھی نقصان نہ پہنچایا آپ کا فرمان مبارک ہے کہ دوران جنگ بھی دشمن کی عورتوں‘بوڑھوں‘بچوں‘کھیتوں‘جانوروں اور حتیٰ کہ جو ہتھیار ڈال دیں ان کو نقصان مت پہنچانا قوم ’’عاد‘‘ایک ایسی قوم تھی جو بڑے طاقتور چالیس ہاتھ جتنا قد آٹھ سوسے نو سوسال کی عمر نہ بوڑھے ہوتے نہ بیمار ہوتے نہ دانت ٹوٹتے نہ نظر کمزور ہوتی جوان تندرست واتوانا بس صرف انہیں موت آتی قوم ’’عاد‘‘ نے تکبر اور غرور سے اﷲ کو للکارا اور کہا کہ ہم سے زور آور کون ہے ؟اﷲ تعالیٰ سورۃ الفجر آیات 6تا8میں فرماتے ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے قوم ’’عاد‘‘کے ساتھ کیسا سلوک کیا جو اہل ارم تھے اور بڑے بڑے ستونوں کی طرح دراز قد اور اونچے محلات والے تھے جن کا مثل دنیا کے ملکوں میں کوئی بھی پیدا نہیں کیا تھا اﷲ تعالیٰ نے کو تنکوں کی طرح ہوا میں اڑادیا ہوا ان کے سروں سے ٹکراتی تو اتنی زور سے کے بھیجے نکل نکل کر منہ پر لٹک گئے اور ان کا نام ونشان تک مٹ گیا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munzir Habib

Read More Articles by Munzir Habib: 184 Articles with 71492 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2018 Views: 286

Comments

آپ کی رائے