سیاسی قائدین پر اعتماد بحال کرنا لازمی !

(Parwaz Alam, )

تین طلاق بل کے راجیہ سبھا میں دم توڑدینے کے بعد جو سیاسی اور عوامی منظرنامہ سامنے آیا ، وہ ایک اعتبار سے مسلمانوں کے لیے باعث اطمینا ن ہے تو دوسری طرف لمحہ فکریہ ۔ باعث اطمینا ن اس لیے کہ بروقت ہمارے ملی قائدین اور چند ایک سیاسی رہنماؤں نے دور اندیشی کا ثبوت دیا ۔ لمحہ فکریہ اس لیے ہے کہ ایسے نازک وقت میں ہم اپنے رہنما ؤں کا احتساب اس انداز میں کرنے لگے ہیں ، جو حالات کے مدنظر مناسب نہیں ہے ۔ غلط انداز سے احتساب کرنے اور غیر ضروری طور پر کیچڑ اچھالنے کی وجہ سے ہی مسلمانوں میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔فی الوقت ہم مولانا اسرالحق قاسمی (ایم پی) اور مولانا بدرالدین اجمل کے پس منظر میں تجزیہ کررہے ہیں ، تاکہ یہ اندازہ ہو کہ ہمارا رویہ کس حد تک منفی ہوتا جار ہے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی نہ صرف ممبر آف پارلیمنٹ ہیں ، بلکہ ہمارے ایک تعلیمی اور ملی رہنما بھی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے نہ صرف ایم پی رہتے ہوئے ہماری رہنمائی کی ، بلکہ گذشہ چالیس پچاس سال کا عرصہ گواہ ہے کہ انھوں نے ہر موقع پر ہماری رہنمائی کی ۔ چنانچہ صرف وقتی فایدہ اٹھانے والے سیاسی افراد کے بہکاوے میں آکر ایسے رہنما پر انگلی اٹھانا کسی بھی سطح پر زیب نہیں دیتا ہے۔ ہمارے درمیان بے شمار قائد ایسے ہیں ، جن کی نگاہ میں فقط پارلیمینٹ ہی اہم ہے ۔ سیاسی مفادات ہی عزیز ہیں ، مگر اسرارالحق قاسمی نے گزشتہ برسوں میں جو کارنامہ انجام دیا ، اس کے مدنظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ملی مسائل کے تئیں ہمدرد ہیں ۔ وہ جہاں اپنے پارلیمانی حلقہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں ، وہیں قومی سطح پر ملت کی فلاح کے لیے سرگرم رہتے ہیں ۔ اسی طرح وہ ہمیشہ دوراندیشی کا ثبوت دیتے ہیں، تاکہ مسلمانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے رکھا جاسکے ۔ مولانا قاسمی کی یہی سنجیدگی بگڑتے کام کو بھی بنادیتی ہے ۔ الجھا ہوا معاملہ سلجھ جاتا ہے ۔ راجیہ سبھا میں ٹرپل طلاق بل کے دم توڑدینے میں جہاں دیگر عوامل شامل ہیں ، وہیں مولانا اسرارالحق قاسمی کی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا بھی عمل دخل ہے ۔ اگر وہ چاہتے تو جذباتی طور پر اس معاملہ کو الجھا کر ایک ہیر و بن جاتے ہیں ، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا ۔کیوں کہ مولانا اسرارلحق قاسمی آگاہ ہیں کہ آر پار کا رویہ اپنا کر کوئی مثبت کام مشکل سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔ اعتدال کی کیفیت کو ہی مستحسن قراردیا گیا ہے ۔ آر پا رمیں دور اندیشی کم اور جذباتیت کی کارفرمائی زیادہ ہوتی ہے ۔ اس لیے وہ کام بھی بگڑ جاتا ہے، جو بنا بنایا ہو ۔

ایک جمہوری ملک میں دور اندیشی زیادہ ضروری ہے ۔ جذباتیت سے پرہیز کرنا اور دوراندیشی کا ثبوت دینا اس طبقہ کے لیے اور بھی ضروری ہے ، جو اقلیت میں ہو۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی جو صورتحال ہے ، اس کے مدنظر نہ صر ف ملی اور سیاسی قائدین کو دوراندیشی کا ثبوت دینا لازمی ہے ، بلکہ عوام کو بھی قائدین پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے ۔ کیوں کہ اقلیتی طبقہ کے قائدین کے سامنے کئی مسائل ہوتے ہیں ۔ ایک طرف وہ حکومتی ایوان میں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے بڑی جد وجہد کرتے ہیں ۔ ایوانوں میں نت نئے مسائل سے انھیں سابقہ پٖڑتا ہے۔ دوسری طرف کبھی کبھی اپنے عوام سے وہ دلجوئی حاصل نہیں کرپاتے ہیں ، جس کے وہ حق دار ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایک جمہوری ملک کے قائدین کو دہرے خوف میں مبتلا رہنا پڑتا ہے ۔ظاہر ہے وہ دہرے خوف میں مبتلا ہوں گے تو بہتر قدم نہیں اٹھا سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں لازم ہیں کہ ہم اپنے قائدین کو حوصلہ دیں ۔ انھیں کھل کر دور اندیشی کا مظاہرہ کرنے دیں ۔اپنے ایک انٹرویو میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم نے بھی مولانا اسرارالحق قاسمی ایم پی کے قدم کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے عین موقع پر دانش مندی کا ثبوت دیا ہے۔یہ سچی بات ہے کہ مولانا قاسمی نے کانگریس پارٹی کو انتہائی دوراندیشی سے ایک سبق دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کو راتوں رات ٹرپل طلاق پر موقف تبدیل کرنا پڑا ہے ۔ کیوں کہ کانگریس کو خوف ہوگیا کہ اگر اس سے اس نازک موقع پر مولانا اسرارالحق قاسمی کی بات پر توجہ نہ دی تو بڑا سیاسی خسارہ اٹھانا پڑے گا ۔

یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ ٹرپن طلاق بل کو رکوانے میں مولانا اسرا رلحق قاسمی کا اہم کردار ہے ۔ کیوں کہ انھوں نے نہ صرف لوک سبھا میں بل پاس ہونے کے بعد زمینی سطح پر محنت کی ، بلکہ اس سے پہلے بھی باضابطہ اپنے مضمون میں اس بل کی سخت مخالفت کی ۔ اگر انھیں سیاسی مفادات عزیز ہوتے تو وہ قطعاً اس بل کے خلاف مضمون نہیں لکھتے ہیں اور نہ لوک سبھا میں اس بل کے پاس ہوجانے کے بعد بڑی سختی سے اس بل کے خلاف پریس ریلیز جاری کرتے ہیں ۔ ان کا یہی رویہ ثبوت کے لیے کافی ہے کہ وہ دور اندیشی سے ہرکام انجام دیتے ہیں ۔

مولانا اسرارلحق قاسمی لوک سبھا میں ٹرپل طلاق بل پاس ہونے سے قبل پارلیمنٹ گئے اور پھر مثبت فکر رہنے والے اپنے احباب سے مشورہ کرنے کے لیے واپس آگئے ۔ اس صورتحال میں لوگوں کو ان سے مثبت انداز میں بات کرنی چاہیے تھی ، مگر ان پر نکیر کرنے کا انداز انتہائی منفی رہا ہے۔ اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لیڈر شپ کو پنپنے دینے میں اور اسے مشکوک بنانے میں عوام کا بھی کردار اہم ہوتا ہے ۔ اگر ہم مولانا اسرارالحق قاسمی جیسے رہنماؤں کی سیاسی بصیرت کو نشانہ ٔ تنقید بنائیں گے تو کئی حل نہ ہونے والے مسائل ہمارے سامنے آئیں ۔ اس کا منفی نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ سیاسی پارٹیاں بھی ہمیں فقط ہنگامہ کرنے والا مان لے گی ۔ پارٹیاں یہ سوچے گی کہ مولانا اسرارلحق قاسمی ہمیشہ عوام اور ملت کے مفاد میں قدم بڑھاتے ہیں ، اس کے باوجود ان پر لوگ طعن وتشنیع کررہے ہیں ۔ان کا رویہ ہمیشہ عوامی فلاح کے لیے وقف ہوتا ہے ، اس کے باوجود بھی ان کی لیڈر شپ پر لوگوں کا اعتماد متزلزل ہے تو ہم سیاسی پارٹیوں کی نیت مسلمانوں کو کب صاف نظر آئے گی ۔ اس طرح دیکھیں تو ہم نہ صرف سیاسی رہنماؤں پر نشانہ سادھتے ہیں ، بلکہ سیاسی پارٹیوں کی نگاہ میں خود اپنی اہمیت کم کرتے ہیں اور ان کی نگاہوں میں ہم فقط ایک اشتعال انگیز طبقہ بن کر ابھرتے ہیں۔ اس لیے مولانا اسرارلحق قاسمی جیسے رہنماؤ ں کو وقت پر فیصلہ لینے کے لیے آزاد چھوڑ دیں ، تاکہ وہ آزادانہ طور پر ملت کے مسائل کو سلجھانے پر توجہ دے سکیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم فقط رہنماؤں پر طعن وتشنیع کرتے رہیں اور وہ ہماری تنقید کا جواب دیتے رہیں ۔ وہ فقط ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور ہمارے سیاسی مسائل جوں کے توں رہیں۔ اس لیے ملک کا جو منظر نامہ ہے ، اس میں اپنے اہم امور پر توجہ دیں ، نہ فقط مثبت کردار ادا کرنے والے رہنما ؤں پر کیچڑ اچھالیں ۔

ہماری یہ بھی بد قسمتی ہے کہ جذباتی تقریر وں میں الجھ جاتے ہیں اور دواندیشی کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں ۔ ٹرپل طلاق بل پر جذباتی تقریر کرنے والے لیڈر کا نام ہم باربار لیتے ہیں ، مگر دوراندیش رہنماؤں اور مثبت تقریر کرنے والوں کو مکمل طور پر فراموش کردیتے ہیں ۔ اس ضمن میں مسلم لیگ سے ممبرآف پارلیمنٹ ای ٹی محمد بشیر کی مثال پیش کرسکتے ہیں۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں جس انداز سے اپنی بات رکھی ، وہ ایک مستحسن طریقہ اور مثبت رویہ تھا ، مگر مسلمانوں کی جذباتیب نے انھیں فراموش کردیا ۔ ان کی تقریر کو مثالی تقریر نہیں مانا ۔ اس لیے یہ کہنا پڑتا ہے کہ دوراندیشی کا ثبوت دینے والے مولانا اسرارالحق قاسمی اور ای ٹی بشیر جیسے مثبت رویہ رکھنے والوں کو بھی حوصلہ دینا چاہیے ، تاکہ مزید ایسے افراد پیدا ہوسکے جو بہتر طریقے سے ایک جمہوری ملک میں اپنے حقوق حاصل کی لڑائی لڑسکے ۔
 
قحط الرجال کے دور میں اسرارالحق قاسمی جیسا بیدار مغز سیاسی لیڈر انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف وہ سیاسی مسائل حل کرانے میں تدبر کو اہمیت دیتے ہیں ، دوسری طرف ملی مسائل کے تئیں ہمیشہ حساس رہتے ہیں ۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اپنے جیسے افراد پیدا کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں ، تاکہ ان کے بعد لوگ ان کی طرح ملی مسائل پر سنجیدہ رہیں ۔ اس کی مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ مولانا اسرارلحق قاسمی نے اپنے پارلیمانی حلقہ میں بے شمار ایسے نوجوانوں کو سیاسی اعتبار سے مضبوط کیا ، جو مستقبل میں بہتر طریقے سے ملت کی رہنمائی کرسکیں گے ۔ آج کے دور میں یہ ضروری ہے کہ افراد سازی کی جائے ، تاکہ سیاسی اور ملی مسائل پر غور وفکر کرنے والے مولانا اسرارلحق قاسمی جیسے بے شمار ہوں ، امید ہے کہ مولانا قاسمی کے ساتھ کام کرنے والوں میں ایسے لاتعداد افراد تیار ہوں گے ، جو ان کی طرح ہماری رہنمائی کرسکیں ۔ ایسے مثبت فکر کے حامل رہنما کے تئیں ہمارا ریہ ہمیشہ مثبت ہونا چاہیے ۔ ان پر اعتماد بحال کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ ان جیسے رہنما پر اعتماد بحال کرکے ہی ہم سیاسی اعتبار سے مضبوط ہوں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Parwaz Alam

Read More Articles by Parwaz Alam: 3 Articles with 959 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2018 Views: 336

Comments

آپ کی رائے