انٹرویو سے جاب تک (قسط نمبر 1 )

(Shoukat Ullah, Banu)

ہماری ویب (Hamariweb ) ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو نہ صرف لکھاریوں کی سوچ اور اُن کی تحریروں کو شائع کرتا ہے بلکہ نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ جہاں اس پلیٹ فارم پر ایک طرف لکھاری ہیں تو دوسری طرف کثیر تعداد میں قارئین بھی موجود ہیں۔ ہم نے بھی اسی پلیٹ فارم کو بہترین پایا۔ چند ماہ میں درجنوں تحریریں شائع ہوئیں۔ لیکن میرے ذہن میں ایک سوچ جو کافی عرصے سے موجود تھی کہ اپنی ڈائری میں قید کئی ایک تحریریں جن سے قارئین استفاد کرسکتے ہیں، اُن کو اسی پلیٹ فارم سے شائع کروں۔ پس ’’انٹرویو سے جاب تک‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ وار کہانی شروع کرنے جا رہا ہوں۔ اُمید ہے کہ قارئین اس کو پسند کریں گے۔

اپنی کہانی شروع کرنے سے پہلے طالب علمی کے زمانے کا تذکرہ مناسب سمجھتا ہوں۔تو آئیے ۔۔۔ اور پڑھیں۔
اسلام میں تعلیم کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی کی پانچ آیات میں پانچ الفاظ علم کے بارے میں ہیں۔ ذرا اُس معاشرے کا تصور بھی کریں جس میں یہ آیاتِ کریمہ نازل ہو رہی تھیں۔یعنی اُمیّون کا معاشرہ تھا۔جہاں بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ جہالت کا گھپ اندھیرا ہر سُو چھایا تھا، کوئی سائنس نہ تھی اور نہ ہی کوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی تھی۔ایسے دور میں پہلی وحی کا نزول اور اُس میں علم اور ذرائع علم پر فوکس ‘ اسلام میں تعلیم کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ارشاد ربانی ہے۔ ’’ھوالذی بعث فی الامین رسولاً منھم یتلوا علیھم اٰیاتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ‘‘ ۔ اس ایت کریمہ میں رسول اکرمﷺ کا کردار بحیثیت معلم ایک جامع انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ یعنی معلم کو تدریس کے ساتھ تزکیہ (زندگی کو بُرائیوں سے پاک کرنا) کے بارے میں بتایا جارہاہے۔ مزید یہ کہ حکمت کے ساتھ تعلیم دی جائے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم صرف معلومات کے سمندر میں غوطے لگانا سکھاتے ہیں۔صرف یاد کرنے یعنی رٹہ پر زور دیتے ہیں۔یہ نہیں سکھاتے کہ عمل کیسے کرنا چاہیئے۔ مولانا مفتی شفیع ؒ فرماتے ہیں۔ ’’علم وہ روشنی ہے جو آپ کو عمل پر اُکساتی ہے‘‘۔ بد قسمتی سے جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ، ہم تعلیم کے شعبہ میں باقی اقوام سے پیچھے ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارے ملک کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی ایک ہزار ٹاپ یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل نہیں۔اگر ہم نے اقوام عالم کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اپنے تعلیمی نظام پر سوچ کرنا ہوگا۔

جب میں اپنی طالب علمی کے زمانے کا موازنہ آج اکیسویں صدی کے ساتھ کرتا ہوں، تومجھے بڑا فرق استاد کے معاشرے میں گرتے ہوئے مقام کی صورت میں ملتا ہے۔ شاید جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم نے معاشرے میں استاد کی عزت اور وقار کے لئے مقرر پیمانہ تبدیل کردیا ہے۔ یعنی جس کے پاس دولت زیادہ ہے، اُس کی عزت و قدر بھی زیادہ۔۔۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ہمیں یہ بات بالکل نہیں بھولنی چاہیئے کہ معلمی کا پیشہ پیغامبرانہ پیشہ ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔

ہم نے جب اسکول کی دہلیز پر پہلا قدم رکھا تو ایک مخلص ، محنتی اور ایماندار استاد ’جبارالدین‘سے واسطہ پڑا۔ یہ 80 کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔جبارالدین ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل نصاب اور مدرسہ بھی تھا۔ یقینا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ وہ کیسے؟ اُس کا گھر اسکول کے قریب تھا، اس لئے جیسے وہ صبح اسکول آتا اور اپنا لکڑی کا بڑا سا صندوق کھولتا تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ اسکول کے کھلنے کا وقت ہوگیا ہے(اُس دور میں اسکولوں میں شاذ و نادر الماریاں اور فرنیچرہوا کرتاتھا)۔ ہم میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کبھی صندوق کے اندر کی اشیاء کے متعلق جان کاری کریں۔ البتہ اتنا ضرور علم تھا کہ جیسے صندوق کھلے گا، ایک چھڑی نمودار ہوگی۔اور سارے بچے خاموشی کے ساتھ اپنی نشستوں پر کمرۂ جماعت میں بیٹھ جائیں گے۔ یقین جانیں ، ہم نے کبھی جبارالدین کی اسٹک ورک کا عملی مظاہرہ نہیں دیکھا لیکن اُس کا جادو ہم روزانہ دیکھتے تھے۔چھڑی لئے اسکول میں اُس کا گشت ‘ ایک سکوت کی علامت تھی ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ استاد ایک چھپا نصاب (Hidden Curriculum ) ہوتا ہے، تو جبارالدین بھی ایک نصاب کا نام تھا۔ وہ اپنے تعلیمی مقاصد سے بخوبی آگاہ تھا ، اورآج ہم اُس کی تعلیم و تربیت سے آراستہ بہت سے طالب علموں کو اعلیٰ عہدوں پر فائزہ دیکھتے ہیں۔اس کے علاوہ اُن میں ایسی اقدار دیکھتے ہیں کہ دل دعائیں دینے لگتا ہے۔ یعنی وہ تعلیم کے ساتھ تربیت کا عنصر بھی شامل رکھتا تھا۔جبارالدین ایک مکمل مدرسہ بھی تھا، جیسے ہم نے اوپر اُس کے صندوق کا تذکرہ کیا ہے۔ تو ہمارے اسکول کی چُھٹی اس کے صندوق کے ڈھکن کے بند ہونے سے مشروط تھی۔ استاد ایک فلاسفر ہو تاہے، ایک دانش ور ہوتاہے، ایک دوست ہوتا ہے، ایک رہنما ہو تا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک روحانی باپ ہوتا ہے۔بلا شبہ جبارالدین بھی ایک فلاسفر، دانش ور ، دوست ، رہنما اور روحانی باپ تھا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 128873 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Jan, 2018 Views: 683

Comments

آپ کی رائے