سوگ

(Gulzaib Anjum, Kotli-a.kashmir)
ملکی حالات کے پیش نظر لکھی گئی ایک تحریر

آج بھی فوجیوں کی ایک جیپ اور ایک ٹرک آیا ٹرک سے لکڑی کا ایک صندوق اتارا جس پر پاکستانی پرچم لیپٹا ہوا تھا ۔ بڑے لوگ تو اس پرچم لیپٹے صندوق کا مطلب تو صندوق کھلے بغیر ہی سمجھ گے تھے لیکن جو چھوٹی عمر کے بچے تھے ان کو اس صندوق سے پرچم کھلنے کا بڑا تجسس تھا ۔ دو فوجی آگے بڑھے صندوق کے شمال والے کونے سے ایک دو فٹ تک پرچم ہٹا دیا بچے جو پہلے ہی ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اس طرف دیکھ رہے تھے اب آہستہ سے آگے سرکنے لگے لیکن ان کے ارمان اس وقت چکنا چور ہو گئے جب وہاں کھڑے لوگوں میں سے کسی نے کہا اوے یہ بچے کیا ڈھونڈتے ہیں؟ بچے یہ سنتے ہی دل میں صلواتیں سناتے ہوئے پیچھے ہٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں تو صندوق کے پاس وہ لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں جن کا صندوق والے سے کچھ تعلق ہوتا ہے ان کے رونے سے بچوں کو پتہ چلتا ہے کہ صندوق میں چھپا فوجی ہے جسے اوپر لگے شیشے سے دیکھ دیکھ کر اس کے گھر والے رو رہے ہیں ۔ بچے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ فوجیوں کو صندوق میں چھپا کر کیوں دفن کیا جاتا ہے ۔ جنازے سے پہلے بہت سارے لوگ باری باری بہت ساری باتیں کہہ رہے تھے سرکاری بندے بھی تو کچھ کہتے تھے لیکن ان کی سمجھ بچوں کے علاوہ ان لوگوں کو بھی نہیں آتی جو گھر سے باہر کہیں بھی گے نہ تھے ۔ البتہ اپنی مسجد کے مولوی جی جو کچھ کہہ رہے تھے ان کی سمجھ سب کو آرہی تھی تبھی تو بوڑھے بابے اللہ میری توبہ کہتے تھے۔ سبھی مر جائے والے کی باتیں کرتے پھر مولوی صاحب قبلہ رخ ہو جاتے نماز جنازہ پڑھاتے اور پھر منہ دیکھنے والوں کی قطار بن جاتی لیکن چھوٹے پھر دیکھنے سے رہ جاتے۔ جنازگاہ سے قبرستان مرنے والے کو لایا جاتا جہاں قبر پہلے سے تیار ہوتی ہر کوئی قبر کو دیکھتا خواتین پھر صندوق کے پاس اگھٹی ہونا شروع ہوتی سو سو بین کرتی قریبی رشتے دار مرد بھی روتے ہوئے صندوق والے سے قرابت داری ظاہر کرتے مولوی صاحب اور محلے کے کچھ لوگ آگے ہوتے کچھ مسئلہ بتاتے ہوئے قبر کو زیادہ انتظار نہ کرانے کا کہتے اور صندوق جلدی رکھنے کا کہتے ۔ کیا ہی واویلا ہوتا جو کوئی ابھی تک نہیں رویا تھا وہ بھی اب رونے لگتا ہے سب ہی رو رہے ہوتے ہیں ماسوائے مولوی صاحب کے ۔ مولوی صاحب وقفے وقفے سے کہتے رونا نہیں چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے شاید ان کی یہ بات کوئی سن رہا ہوتا ہو گا لیکن زیادہ تر یہ آواز آہوں سسکیوں اور بینوں میں دب جاتی ۔

پتھر کی سیلیں رکھ کر ان کو باہم جوڑنے کے لیے گارے کا استعمال کرتے پھر مٹی ڈالنا شروع کر دیتے یہاں تک ایک ڈھیر سا بن جانے کے بعد پھر اس کی ڈھلوان بنائی جاتی اس عمل کے بعد پانی کا چھڑکاو کرتے جب یہ کام بھی ختم ہو جاتا تو دعا کے بعد گھر کی طرف اس حالت میں سبھی جانے لگتے کے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ کا شائبہ تک نہ ہوتا بلکہ بعض کو دیکھ کر یہ لگتا کہ باقی زندگی میں یہ ہنسی مسکراہٹ سدا کے لیے بھول جائیں گے۔

یہ روز ہی ہوتا رہتا لیکن ہر روز کی طرح دکھ ہنسی مسکراہٹ میں بدل جاتا اور ہنسی مسکراہٹ دکھوں میں ۔
آج پھر سکول میں دھماکہ ہوتا ہے سکول فرنیچر کے ساتھ ساتھ خون اور گوشت کے لتھڑے بھی ایک بار آسمان کی طرف جا کر واپس آتے ہیں لوگ ان لتھڑوں کو کیسے پہچان سکتے ہیں ان کے ساتھ تو کوئی کپڑا بھی نہیں پھر بھی ایک ماں کہیں سے ایک بازو اٹھا کر اپنے بچے کی لاش کے پاس رکھتی ہے جس کا ایک بازو کٹ گیا ہے یوں وہ لاشوں کے ڈھیر میں سے ایک بازو اٹھا کر اپنے بچے کے اعضاء مکمل کر لیتی ہے لیکن یہ جانے بغیر کے دوسری مائیں بھی اسی انبار سے کچھ ڈھونڈ رہی ہیں ۔ شام کا خبر نامہ اور حکومتی نمائندوں کو سننے کے بعد یوں لوگ شانت ہو جاتے جیسے سب مرے ہوئے لوٹ آئیں گے۔

موسم قدرے اچھا تھا سرشام ہی لوگوں نے چارپائیاں اٹھا کر صحن میں ڈال لی دادا ابو سرہانہ اونچا کرنے کی غرض سے یا سر کو تھوڑی ہوا لگانے کے لیے سر پر پگڑی نما بندھا کپڑا اتار کر رکھتے ہوئے کہتے آج موسم قدرے بہتر ہے یہ کہتے ہوئے ایک ہاتھ سے تہبند کو درست کرتے ہیں اور ایک ٹانگ دوسری کے اوپر رکھ کر چولہے کے پاس بیٹھی خواتین کی طرف دیکھتے تو بڑی بہو ان کا یوں دیکھنا فورا سمجھ جاتی ہے اور بیٹے کو آواز دیتے ہوئے کہتی دادا ابو کا حقہ تو اٹھا لاو بیٹا جس کی عمر تیرہ چودہ سال ہے جلدی سے حقہ اٹھا کر دادا ابو کے پاس رکھتا ابھی اس نے حقہ ہی رکھا کہ دوسرا حکم اسے مل گیا حقے کی ٹوپی مجھے دے دو بچہ ماں کو ٹوپی تھما کر واپس دادا ابو کے پاس بیٹھ جاتا ہے ۔ ماں چمٹے کے ساتھ آگ کے آنگارے ٹھیک کرتے کرتے پاس آتی ہے اور حقے پر لگا کر حقہ دادا ابو کے پاس کرتے ہوئے کہتی ہے چارپائی درخت کے نیچے سے تھوڑی ادھر کر لیں مبادا اوپر سے کچھ آ گرے ۔ جاتے جاتے یادہانی کے طور پر کہتی ہاں ذرا کش بھی لگا لینا تا کہ تمباکو آگ پکڑ لے ۔ بہو یہ کہہ کر پھر چولہے کے پاس چلی گئی تو دادا پوتا چارپائی پکڑ کر درخت کے نیچے سے ہٹا لیتے ہیں ابھی دوبارہ چارپائی پر بیٹھ ہی رہے تھے کہ پرندوں کا ایک جھنڈ درخت پر آ بیٹھتا ہے ان کے بیٹھنے سے فضا میں ایک شور سا برپا ہو جاتا ہے پوتا پرندوں کے اس طرح چہچانے اور ایک ڈال سے دوسرے ڈال پر بیٹھتے دیکھتا ہے کچھ دیر چہچانے کے بعد پرندے یوں خاموش ہو جاتے ہیں جیسے یہاں ہیں ہی نہیں ۔

دادا ابو حقے کی نے پکڑے آنکھیں موندے ہوئے ہلکا ہلکا کش لگا رہے تھے کہ پوتے نے دادا ابو کہہ کر جو مخاطب کیا تو ایسے چونکے کہ کہیں بہت ہی دور کی سوچوں کے بحر میں غوطہ زن تھے، ہوں کہہ کر پوتے کی طرف دیکھتے ہیں ۔ پوتے نے دادا ابو کو متوجہ پا کر کہا دادا ابو یہ پرندے شام کے وقت درختوں پر بیٹھتے ہوئے شور کیوں کرتے ہیں ۔ یہ سوال پا کر دادا ابو نے آنکھوں کی بھنویں درست کرتے ہوئے پوتے کو غور سے دیکھا یہ یہ وہ وہ کرتے ہوئے جواب ترتیب دے ہی دیا تو کہنے لگے یہ جو درخت ہوتے ہیں نا یہ ان پرندوں کے گھر ہوتے ہیں اور ایک درخت پر بیٹھنے والے تقریبا" ایک ہی خاندان کے ہوتے ہیں یہ رات بسیرا کرنے کے بعد صبح گھر سے نکل یعنی اڑ جاتے ہیں۔ جس طرح ہم لوگ صبح ہوتے ہی کسی کام کاج کی غرض سے نکل جاتے ہیں ، پورا دن آب و دانے کی تلاش میں گزارنے کے بعد شام گھروں کو لوٹ آتے ہیں اتنا کہہ کر دادا ابو نے حقے کا کش لینے کے لیے توقف کیا تو پوتے نے اپنے سوال کی طرف توجہ دلانے کے لیے کہا یہ تو ہوا لیکن میں نے شور کے متعلق پوچھا تھا، ہاں تو وہی بتا رہا ہوں کہ جیسے ہم شام گھر لوٹنے کے بعد سب کی خیر خیریت دریافت کرتے ہیں نا اسی طرح یہ بھی ایک دوسرے سے حال احوال پوچھتے ہیں ۔ گھر میں رہنے والے باہر سے آنے والوں کا اور باہر سے آنے والے گھر والوں سے دن کی برتانت پوچھتے ہیں تو ان کی یہی پوچھ گچھ ہمیں شور لگتی ہے ۔ دادا ابو پرندوں کی یہ کتھا سنانے کے بعد خود ہی مطمئن ہوتے ہوئے حقے کی ٹوپی جس میں آنگارے رکھے تھے اتار کر پھونکنے لگے تو بچے نے کچھ سوچتے ہوئے لمبی سے لے میں کہا دا۔۔۔۔۔۔دا ابو تو پھر یہ اچانک خاموش کیوں ہو جاتے ہیں ؟۔ دادا ابو جو شور کی وجہ بتا کر کچھ ریلکس ہوئے تھے پوتے کا دوسرا سوال سن کر کچھ بڑبڑائے اور تہبند کو درست کرتے ہوئے آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہی مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے تمہیں ٹیچر ہوم ورک کرنے کو نہیں دیتے ؟ وہ وہ دیتے ہیں اور میں نے کر بھی لیا ہے۔ اچھا اب بتائیں نا کہ اچانک خاموش کیوں ہو جاتے ہیں ۔ ہاں بتاتا ہوں ، ان کا چپ ہونا سوگ یا خوف کی علامت ہوتی ہے وہ کیسے؟ پوتے نے دادا ابو کی بند آنکھوں سے اندازہ لگایا کے دادا ابو کہیں دوسری بات کی طرف چل پڑے ہیں لیکن انہوں نے وہی سے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب یہ پرندے ایک دوسرے کا پوچھ رہے ہوتے ہیں تب ہی ہمیں انکا شور و غل لگتا ہے اسی سمے ان کو ایک دوسرے کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ آج ہمارا فلاں ساتھی واپس نہیں آیا پہلے تو اس کی گمشدگی کی اطلاع ساتھ والے درختوں تک پہنچاتے ہیں جب وہاں سے بھی اس گمشدہ کا پتہ نہیں چلتا تو پھر اس کی موت کو یقینی بناتے ہوئے زار وقطار رونا شروع کر دیتے ہیں روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ جاتی ہیں پھر ان پر موت کا خوف طاری ہوتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لیے ساکت ہو جاتے ہیں جب خوف کے سحر سے نکلتے ہیں تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور سرگوشیاں کرتے ہیں جدا ہونے والوں کا ذکر کرتے ہیں پھر ان کا سوگ مناتے ہیں ۔۔۔۔۔ دادا ابو۔ کچھ سانسیں ترتیب دینے کے لیے رکے تو پوتے نے بنا انتظار پوچھ لیا وہ سوگ کیسے مناتے ہیں ؟۔ دادا ابو نے گردن ڈھیلی کرتے ہوئے ٹھوڑی سینے کے ساتھ لگا کر آنکھیں موندھتے ہوئے کہا یوں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

سر شام کی گئی ہوئی لائٹ نو بجے کے قریب آتی ہے تو انتظار میں بیٹھے لوگ فورا" ہی ٹی وی کا بٹن آن کر دیتے ہیں شاید نو بجنے میں کچھ سکینڈ رہ رہے ہوتے ہیں کے ابھی لیپٹن چائے کا کمرشل چل رہا ہوتا ہے ابھی چائے چینک سے پیالے میں پڑ ہی رہی ہوتی ہے کہ خبر نامے والا میوزک بج اٹھتا ہے میوزک کے ساتھ ہی سبھی گھر والے الرٹ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں باتیں کرنے والے کو شی شی کر کے چپ کرایا جاتا ہے خبریں سنیے کے الفاظ کان پڑتے ہیں وہ دن والے دھماکے کے متعلق بتایا جا رہا ہے لاشوں کے انبار کے پاس عورتیں آپس میں توں توں میں میں کرتی دکھائی گئی جو ایک کٹے ہوئے بازو پر الجھ رہی تھیں جس نے بازو اٹھا کر اپنے بچے کے پاس رکھا ہوا تھا وہ اس پر بضد تھی کہ میرے بیٹے کا بازو ہے جب کے دوسری اپنے بیٹے کا بتا رہی تھی آخر ٹی وی رپورٹر عورت سے پوچھ لیتا ہے کہ آپ کے پاس ایسی کیا خاص نشانی ہے جو پہچان رہی ہیں وہ کہتی ہے کہ میرے بیٹے کا ایک بازو نہیں ہے تو یہ اسی کا ہوگا رپورٹر گھوم کر پہلی سے پوچھتا ہے آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ یہ غلط کہتی ہیں وہ بازو اٹھا کر دکھاتے ہوئے کہتی ہے اس لیے کہ دونوں بازوں ایک طرف(یعنی دائیں جانب) کے نہیں ہو سکتے۔ ۔ خبروں کے دوران ہی بریکنگ نیوز کی پٹی چلتی ہے اور حکومت کی طرف سے دو دن کا سوگ "موم بتیاں جلا" کر منانے کا بتایا جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gulzaib Anjum

Read More Articles by Gulzaib Anjum: 61 Articles with 36987 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jan, 2018 Views: 208

Comments

آپ کی رائے