اردو باغ ‘انجمن ترقی اردو پاکستان کی نئی عمارت کا افتتاح

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

صدر پاکستان جناب ممنون حسین افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے

انجمن ترقی اردوپاکستان کی نئی عمارت ’’اردو باغ ‘‘ کا افتتاح ہفتہ 20جنوری 2018صدر اسلامی جمہو ریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ برلن میں مقیم اردو کے شاعر و ادیب سید انور ظہیر رہبر ؔ جو معروف ادیبہ و شاعرہ عشرت معین سیما کے شوہرِ نامدار بھی ہیں ان دنوں کراچی میں تھے اور راقم کے ہمراہ اس پروقار تقریب میں شریک ہوئے۔ عشرت معین سیما سے تو علمی و ادبی روابط کو کافی عرصہ ہوا، اب رہبر ؔ صاحب کی کراچی آمد اور ان کے ساتھ مختصر سی سنگت نے ہمیں علمی و ادبی مَراسِم کے مضبوط تعلق میں اس طرح جوڑ دیا کہ ایسا محسوس ہوا کہ ہم برسوں کے شنائی ہیں۔افتتاحی تقریب میں ہم تو مدعوں تھے، اس کی وجہ ا نجمن ترقی اردو کا تاحیات رکن ہونا بھی ہے ، یہ اعزاز ہمیں حال ہی میں حاصل ہوا، بنیادی وجہ انجمن ترقی اردو کی لائبریری میں ہمارے پھیرے لگانا ہے ، وہاں کے خدماتی معروف اور زبیر کا ہمارا شاگرد ہونا بھی ہے۔ ہمارا معاشرہ بے شک بہت سے منفی باتوں کا شکار ہوچکا لیکن ابھی کچھ قدریں باقی ہے استاد کے احترام و توقیر ی کی۔ انور ظہیر صاحب کو انجمن ترقی اردو کے صدر ذوالقرنین جمیل صاحب کو اردو باغ کی تقریب میں شرکت کی خصوصی عوت دی تھی، تقریب میں شرکت کرنے اور اردو سے محبت دیکھئے کہ انور صاحب کو ہفتہ کے دن ہی واپس برلن جانا تھا انہوں تقریب میں شرکت کو ضروری جانا اور اپنا واپس جانا ایک دن کے لیے آگے بڑھا لیا۔ جمعہ کی شب مرتضیٰ شریف صاحب نے فون پر بتا یا کہ صبح اردو باغ کی افتتاحی تقریب میں انور ظہیر صاحب آپ کے ہمراہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انور صاحب کی شمولیت کا اہتمام راجو جمیل صاحب نے کردیا تھا۔ چنانچہ ہم نے انور ظہیر صاحب کو ان کے بھائی جو نوید بنگلوز میں قیام پذیر ہیں سے لے لیا، عجیب اتفاق کہ انور ظہیر کی بیگم عشرت معین سیما شادی سے قبل آصف نگر دستگیر میں رہائش رکھتی تھیں ، ہمارا آبائی گھر بھی وہیں تھا ، اور اب انور ظہیر صاحب نے جب یہ بتایا کہ ان کے بھائی نوید بنگلوز میں رہتے ہیں اور وہ وہیں پر ٹہرے ہوئے ہیں،حسنِ اتفا ق ہے کہ جب نوید بنگلوز آباد ہونا شروع ہوا تھا تب ہم نے بھی ایک اپارٹمنٹ اس میں بک کرایا، کئی سال اس کا قبضہ بھی ہمارے پاس رہا ، اس دوران ہم نوید بنگلوز کے خوب چکر لگاتے رہے تھے لیکن اس میں رہاش اختیارنہیں کرسکے ، بعد میں اسے فروخت کردیا۔

ہم صبح نوید بنگلوز پہنچے اور انور ظہیر صاحب کے ہمراہ جامعہ کراچی اور این ای ڈی کے بالمقابل گلستانِ جوہر بلاک 1 میں قائم ہونے والے اردو باغ روانہ ہوئے، نذدیک پہنچتے ہی احساس ہوا کہ یہاں کسی بڑی شخصیت کی آمد آمد ہے ۔ اردو باغ کے سامنے والی سٹرک تازہ تازہ تیار ہوئی لگ رہی تھی ۔ یہ ہمارامزاج ہے کہ کسی بڑی شخصیت نے کسی جگہ جانا ہوتو اس جگہ کے مقدر جاگ جاتے ہیں، رات دن صفائی ستھرائی، حتیٰ کہ سٹرک کی تعمیر ، لائٹ ، پانی ، بجلی، گیس، فون ہر سہولت پلک جھپکتے فراہم ہوجاتی ۔ ویسے عام لوگ مہینوں نہیں برسوں ان سہولتوں کے حصول میں خوار ہوجاتے ہیں وہ حاصل نہیں ہوپاتیں۔ خوش نصیبی ’اردو باغ ‘جس جگہ تعمیر ہوا اس کے اردگرد رہائشیوں کی قسمت کی دیوی ان پر مہرباں ہوگئی اور وہ علاقہ جو ریت ، مٹی اور گندگی کا ڈھیر تھی ، صدر صاحب کی آمد سے صاف ستھری ہوگئی، منتظمین انجمن نے میئر کراچی کے تعاون کا بھی خصوصی شکریہ اد اکیا۔

اردو باغ ابھی مکمل تعمیر نہیں ہو ا ، اس کے اوپر کی منزل اور آڈیٹوریم کی تعمیر ابھی باقی ہے۔ مرکزی تقریب زمینی منزل پر قائم لائبریری کے مرکزی ھال میں تھی، یہ ھال بہت بڑا نہیں ، مختصر سا ہی ہے لیکن فن تعمیر نمایاں تھا، اس کے درمیان دو بڑے بڑے پلر حائل ہیں ان پلرز کے پیچھے بیٹے لوگوں کو اسٹیج نظر نہیں آرہا تھا، ہم اسی جگہ بیٹھ سکے ، پہنچتے پہنچتے کچھ دیر ہوگئی ، اس ھال کے علاوہ بھی کچھ مہمان دیگر چھوٹے چھوٹے ھال میں بیٹھے تھے جو اسکرین پر صدر صاحب اور دیگر مہمانان کو دیکھ اور سن سکتے تھے، ہم مرکزی حال میں ہونے کے باوجود اسٹیج کی سجھ دھج سے محروم تھے۔ تاہم کبھی کبھار ادھر ادھر سے صدر صاحب اور دیگر کی جہلک دیکھ کر ہی لطف اندوز ہورہے تھے۔ سیکیوریٹی کے پیش نظر دعوت نامنے میں ہدایت درج تھی کہ’ ’پابند�ئ وقت کے ساتھ شرکت کی درخواست ہے، دعوت نامہ اور قومی شناختی کارڈ ہمراہ لائیں اور اپنے ہمراہ کسی بھی قسم کی الیکٹرونکس ڈیوائس ، موبائل فون، کیمرہ ،لیڈیز بیگ ہمراہ نہ لائیں‘‘۔ سیکیوریٹی والوں کی بلاجواز، فضول قسم کی پابندی کے سوا کچھ نہیں، جیسے موبائل کی غیر موجودگی میں سب کچھ شانت رہتاہے، کوئی خوف نہیں، کوئی خطرہ نہیں ہوتا، بہر طور ہم دونوں نے اس پابندی پر عمل کرتے ہوئے اپنے موبائل گاڑی میں ہی چھپا کر رکھے اور اردو باغ کا رخ کیا۔ موبائل کے بغیر آج کل ایساہوتا ہے کہ جیسے آپ کچھ خالی خالی سے ہیں، اوریہ کہ آپ غیر محفوظ بھی۔ موبائل کی جہاں منفی باتیں ہیں وہاں اچھائیاں بھی ہیں۔ اب تو موبائل پر لوگ اپنی تازہ مصروفیت دکھا دیتے ہیں ۔ نیز یہ بھی کہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں ، سن رہے ہیں اسے اپنے پاس محفوظ بھی کر لیتے ہیں ۔ لیکن یہاں کچھ ہو نہیں سکتا تھا، اس کے باوجود اسٹیج سے اعلان بھی سنا گیا کہ جو احباب اپنے ساتھ موبائل رکھتے ہیں وہ اپنے موبائل بند کردیں،گویا انتظامیہ کی درخواست پر مکمل عمل در آمدنہیں ہوا، دوسرے یہ کہ عمارت میں داخل ہوتے وقت کسی نے ہماری تلاشی نہیں لی، پوچھا بھی نہیں کہ آپ کے پاس موبائل ہے یا نہیں، واک تھرو گیٹ سے گزرے تو وہ تو مسلسل ٹوں ٹوں ہی کیے جارہا تھا۔ اگر ہم موبائل رکھ بھی لیتے تو تقریب کے وقت ہمارے پاس ہوتا لیکن انتظامیہ کی ہدایات کا احترام ہم پر فرض تھا ، ہم نے کیا بھی، ہر ایک کو کرنا بھی چاہیے۔ مہذب اور تہذیب یافتہ معاشرے میں تو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پر ہمارا جو حال ہے وہ ہم سب جانتے ہیں۔

تقریب کی اچھی بات یہ تھی کہ صدر مملکت جناب ممنون حسین وقت مقررہ پر تقریب گاہ تشریف لے آئے جو ہمیں میزبان کے اعلان سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ اردو باغ کی تختی کی نقاب کشائی کر رہے ہیں۔ صدر ممنون حسین کراچی کے ہی باسی رہے ہیں جب سے صدر اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے منصب پر فائز ہوئے ہیں وہ اسلام آباد کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج انہیں قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا، ماشا ء اللہ ہشاش بشاش، تندرست و توانا، خوش و خرم، خوش لباس و خوش گفتار۔ دیکھ کر خوشگوار احساس ہوا، خوشی بھی ہوئی ۔اہل کراچی کو فخر ہے کہ اس شہر کا باسی پاکستان کے سب سے اہم اور اعلیٰ منصب پر فائز ہے۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔ھال میں تشریف لائے، ہمراہ مئیر کراچی وسیم اختر ، راجوجمیل، ڈاکٹر فاطمہ حسن اور دیگر تھے، نذدیک سے گزرے مہمانوں نے کھڑے ہوکر معزز مہمان کا استقبال کیا۔ تقریب کا آغازقومی ترانے سے ہوا اور تلاوت کلام پاک سے ہوا،اسٹیج پر صدر مملکت کے علاوہ میئر کراچی وسیم اختر، انجمن کے صدر ذوالقر نین جمیل(راجو جمیل)،پروفیسر سحرؔ انصاری اور ڈاکٹر فاطمہ حسن تشریف فرما تھیں۔ میرے شاگرد محمد زبیر جمیل نے تلاوت قرآن کی سعادت حاصل کی۔ میزبان ڈاکٹررخسانہ صباتھیں جنہوں نے اختصار سے انجمن ترقی اردو کی تاریخ و خدمات پر چند جملے کہیے ، انجمن کی موجودہ معتمد عمومی ڈاکٹر فاطمہ حسن اور انجمن کے صدر راجو جمیل نے صدر گرامی اور مہمانان کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے انجمن کی کارکردگی بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انجمن کی114سالہ تاریخ میں اردو باغ ایک نئے دور کا آغاز ہے، اردو باغ کا خواب بابائے اردو مولوی عبد الحق نے دیکھا تھا ، انہوں نے اونگ آباد میں اپنے دفتر کا نام اردو باغ رکھا تھا ۔ انہوں نے انجمن کے تحت ہونے والے ادبی پروگراموں اور شائع ہونے والی مطبوعات کا ذکر بھی کیا۔ راجو جمیل نے کہا کہ آج انجمن کے سابق معتمد اور صدر جمیل الدین عالی کا یوم پیدائش بھی ہے۔ آج بابائے اور جمیل الدین عالی کی روحیں عالم بالا میں شاد ہوں گی کہ انجمن جس کے فروغ و ترقی میں انہوں نے اپنی زندگی کے اہم ماہ وسال دیے تھے وہ اللہ کے فضل سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اردو باغ کی عمارت کے قیام میں صدر مملکت ممنون حسین کی خصوصی دلچسپی اور عملی معاونت قابل ذکر ہے۔ اردو باغ کی عمارت کے لیے گلستان جوہر میں پلاٹ تو نور الحسن جعفری صاحب کے دور میں حاصل کر لیا گیا تھا لیکن عمارت کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز 2015 ء میں ہوا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے 9مئی 2015ء میں عمارت کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ ڈھائی سال کے عرصے میں اردو باغ کی عمارت کا زیادہ حصہ تعمیر ہوچکا۔ اس کا تمام تر سہرا صدر مملکت کے علاوہ انجمن کی معتمد ڈاکٹر فاطمہ حسن اور صدر ذوالقرنین جمیل کو جاتا ہے جو سابقہ ڈھائی سال تک اردو باغ کی تعمیری مراحل میں مسلسل مصروف عمل رہے۔ اردو باغ کا جس پلاٹ پر قائم ہوا اس کا رقبہ 5335مربعہ گز ہے ۔ پلاٹ پر تعمیری اخراجات کا تخمینہ 22کروڑ 50لاکھ بتا یا گیا ہے۔انجمن ترقی اردو کا اردو باغ ایوان صدر کی خصوصی گرانٹ سے ہی تعمیر ہوا ہے۔

صدرِ مملکت جناب ممنون حسین نے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ غیرت مند قومیں زبان کی حفاظت کر کے اپنے استحکام کو یقینی بنا لیتی ہیں، اردو باغ قومی استحکام کی تحریک کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جدید علمی تحقیق کے اردو میں ترجم بنائے جائیں ، طلبہ اور محققین صرف قومی زبان میں تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتے ہیں، انجمن ترقی اردوجامعات کے تعاون سے اردو کے علمی ذخیرے کا دامن وسیع کرے۔ انہوں نے انجمن کو مشورہ دیا کہ وہ علمی خزانے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اردو ذریعہ تعلیم بنانے سے نوجوان طلبہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوگا اور وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں شاندار کا ر کردگی کا مظاہرہ کرسکیں گے۔ممنون حسین کا کہنا تھا کہ اردو باغ محض ایک عمارت یا تعمیر اتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تحریک کا تسلسل اور اس تحریک کے اگلے مرحلے کا آغاز ہے جس کا تعلق پاکستان کی نظریاتی شناخت اور اس کی ترقی و خوشحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں اپنی زبان ، تاریخ ، ثقافتی ورثے، بود و باش اور تہذیب سے پہنچانی جاتی ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ اہمیت زبان کو حاصل ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ اردو باغ کی تعمیر کے بعد اس تحریک کو نئی توانئی ملے گی۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ اردو باغ کی تعمیر کے بعد پہلی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ اس منصوبے کے باقی ماندہ حصول کی تکمیل پر توجہ دی جائے۔ اس سلسلے میں کراچی کے علم دوست حلقے، صاحباںِ ثروت اور اردو سے محبت کرنے والے اپنا کردار اد کریں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر از حد مسرت ہوئی ہے کہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے سلسلے جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن میں جو علمی کام ہوا تھا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف علوم کی بے شمار کتابوں کے تراجم ہوئے تھے، وہ سب کے سب انجمن کی لائبریری میں محفوظ ہیں، یہ علمی خزانہ ہے جس سے آج بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ وطن عزیز کی بعض جامعات میں اب بھی اس سلسلے میں فکر مندی پائی جاتی ہے ۔ میرے علم میں آیا تھا کہ شعبہ ابلاغ عامہ ، جامعہ کراچی کے ایک ممتاز استاد پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ نے وسائل کی عدم موجودگی کے باوجود اپنے ، اساتذہ اور طلبہ سے ابلاغ عامہ کی جدید تحقیق سے متعلق بہت سے کتب کے تراجم کر کے اردو کا دامن وسیع کیا تھا جس سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ دیگر جامعات کے طلبہ اب بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اردو اور پاکستان کا رشتہ ابدی اور لازوال ہے، اردو باغ کا تعلق پاکستان کی نظریاتی شناخت سے ہے۔ میں یہ بتاتے ہوئے مسرت محسوس کرتا ہوں کہ ایوان صدر میں ذمہ داری سبھالنے کے بعد میں نے نفاذ اردو کے سلسلے میں کئی اقدامات کیے۔سب سے پہلا کام تو میں نے یہ کیا کہ پاکستان کے اندر قومی سطح کا کوئی بھی موقع ہو یا بیرون ملک بین الا قوامی اداروں کی تقریبات اور کانفرنسیں ، میں نے ہر موقع پر اردو میں ہی تقریر کی۔ غیر ملکی مہمانوں ،حتیٰ کہ سربراہان مملکت سے ملاقاتوں اور مذاکرات میں بھی اردو میں ہی بات چیت کو ترجیح دی۔ ایوان صدر کے مختلف ہالز اور کمروں کے نام انگریزی روایت کے مطابق رکھے گئے تھے۔ یہ تمام پرانے نام تبدیل کر کے تحریک پاکستان اور اردو کی خدمت کرنے والے مشاہیر سے منسوب کر دیے گئے ہیں،اس کے علاوہ ایوانِ صدر کے مختلف شعبہ جات میں دفتری امور کی انجام دہی بھی اردو میں ہونے لگی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سلسلہ مزید بڑے گا اور وطن عزیز کے دیگر اداروں میں بھی اسی جذبے کے ساتھ اردو کو فروغ دیا جائے گا۔صدر مملکت نے کہا آج ہم اردو کی جو بھی خدمت کرنے کے قابل ہوہے ہیں اس کا سہرا سرسید احمد خان، علامہ محمد اقبال، قائد اعظم ، مولانا محمد علی جوہر اور بابائے اردو مولوی عبدا لحق جیسے بزرگوں کے سر ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس کام کے لیے وقف کردیں۔ خوشی کے اس موقع پر آج ہم خادمِ اردو جمیل الدین عالی مرحوم کو بھی یاد کرتے ہیں جنہوں نے انجمن ترقی اردو کو اپنی پوری علمی روایت کے ساتھ صرف زندہ رکھا بلکہ اس کام کو مزید آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر ڈاکٹر فاطمہ حسن ، جناب ذو القرنین جمیل ان کے رفقائے کار اور ایوان صدر کے ان ساتھیوں کو بھی مبارک باد دیتا ہوں جنہوں نے نہایت خلوص، لگن اور ایمانداری کے ساتھ اس منصوبے کو خواب سے حقیقت میں بدلنے میں اپنی توانائیاں صرف کیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی میں ایک آڈیٹوریم کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ کی گرانٹ فراہم کردی گئی ہے ، اس آڈیٹوریم کو انجمن ترقی اردو بھی استعمال کرسکے گی۔ انجمن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ انجمن اور اردو کی ترقی کے لیے جناب جمیل الدین عالی کی خدمات کے پیش نظر’ یونیورسٹی روڈ ‘کا نام جمیل الدین عالی روڈ رکھ دیاجائے، اس تجویز کی تائید میئر کراچی وسیم اختر نے کی جس پر صدر مملکت دوبارہ مائک پر تشریف لائے اور اس بات کا اعلان کیا کہ مئیر کراچی وسیم اختر صاحب نے اعلان کیا ہے کہ کراچی یونیورسٹی روڈ کا نام جمیل الدین عالی روڈ رکھنے کی تائید کرتے ہیں۔ حاضرین نے اس تجویز کی حمایت تالیاں بجا کر کی۔ تقریب کے اختتام پر مہمان کو انجمن کی جانب سے یادگاری نشان پیش کیے گئے۔ طعام کا انتظام تھا۔ انور ظہیر صاحب تو پانی بھی نیسلے کا پیتے ہیں ، باہر کا کھانے سے ہم بھی دور ہی رہتے ہیں ۔ چنانچہ ہم دونوں دیگر احباب سے میل ملاقات کرتے رہے۔ اس دوران گاڑی سے اپنے اپنے موبائل بھی لے آئے تاکہ تقریب اور اردو باغ کی یاد گار کو موبائل میں محفوظ کر لیں۔ کراچی کے بے شمار شاعر، ادیب اور صحافیوں سے ملاقات رہی اور یہ دن ایک یاد دن کے طور پر یاد رہے گا۔ انجمن ترقی اردو کی علمی و ادبی سرگرمیوں میں بہتری اور تیزی آئے گی۔ اردو باغ کو کراچی کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک مرکز کی حیثیت حاصل ہونی چاہیے،ایسے ہی جیسے صحافیوں کا مرکز پریس کلب ہے، ڈاکٹروں کا مرکز پی ایم اے ہاؤس اسی طرح اردو باغ شاعروں اور ادیبوں کا ادبی کلب ہو جہاں ادیب و شاعر آزادی سے علمی وادبی سرگرمیوں میں مصروف رہیں۔ ادبی ادارے اگر چاہیں تو یہاں علمی و ادبی پروگرام بھی منعقد کر سکیں۔ (21جنوری2018ء)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 753 Articles with 640190 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
21 Jan, 2018 Views: 429

Comments

آپ کی رائے