تبصرۂ کتاب

(Amna Khatoon, Karachi)

تبصرۂ کتب
ریاض ندیم نیازی
یادوں کے بھنور،راوپنڈی رومیل ہاؤس آف پبلیکیشنز، ۲۰۱۷ء
صفحات: ۲۰۸ قیمت: ۔/۴۰۰روپے رنگین سرورق

زیر تبصر ہ کتاب ریاض ندیم نیازی کا شعری مجموعہ ہے ،نیازی سبی ،بلوچستان کے نوجوان شاعر ہیں ۔اس سے پہلے ان کی کئی شعری تخلیقات پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ ’بحر تجلیات‘ مجموعہ نعت پر انھیں قومی و صوبائی سیرت ایوارڈ مل چکا ہے ۔ نعت گوئی ایک اعزاز بھی ہے اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ثبوت بھی ۔ نیازی کئی نعتیہ انجمنوں اور اداروں سے منسلک ہیں۔’خوشبو تیری جوئے کرم ‘ پر انھیں محسن نقوی ایوارڈ دیا گیا ۔ان کی شاعری میں عشق حقیقی بھی ہے تو عشق مجازی کا پرتو بھی ہے ۔غم جانان ہے تو غم زمانہ بھی ہے ۔موضوعات میں سادگی و سلاست ہے ۔ کہیں بحریں سادہ ہیں تو کہیں مشکل بھی ہیں۔ انھوں نے کئی مشہور شعرا کی ردیف میں بھی اشعار کہے ہیں۔

ایک عمر سے ہے اس دل کو آزار مسلسل
کرنے کو تو وہ کرتے ہیں اقرار مسلسل

ایک عمر سے رہتا ہوں میں بیمار مسلسل
محسو س مگر ہوتا ہے انکار مسلسل

زمانہ کے نشیب و فراز کو بیان کرتے ہوئے سماجی سدھار کی بات بھی کرتے ہیں،ان کی شاعری میں معاشرتی رویوں کی عکاسی نظر آتی ہے ۔محبوب کی جفاؤں پر دل برداشتہ نظر نہیں آتے مگر جفائے دوستاں کا ذکر بھی جابجا پایا جاتا ہے ۔ محبت کی نارسائیوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی تفاوت کے خلاف بھی مسلسل برسر پیکار ہیں ۔ان کے اکثر اشعار میں محبت کی دھیمی دھیمی آنچ کا احساس موجود ہے ۔

غم سے اب آنکھ میں خوں ناب نہیں آتے ہیں
بارشیں جتنی ہوں سیلاب نہیں آتے ہیں

عباس تابش نے ریاض ندیم نیازی کی شعر گوئی پر تبصر ہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے محبت کے روایتی دائرے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ وہ زیست کے دیگر مصائب و آلام کے دائرہ در دائرہ سفر میں بھی ان تلخیوں کا احاطہ کرنے اور ان تلخیوں کا ذائقہ محسوس کرنے کے بعد الفاظ کے روپ میں صفحات پر بکھیرتا چلا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر نسیم فاطمہ نے ان کی شاعری کے بارے میں فرمایا ہے کہ ندیم عمر کے اعتبار سے تو نئے شعرا میں شامل ہیں لیکن احساس لطیف ،غم جاناں، غم دوراں، ذوق شاعری ،نئے اسلوبیاتی آہنگ میں پختہ کار شعرا کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔موضوعات میں تنوع ،اظہار میں سادگی، سلاست، خوش ادائی و خوش نوائی پائی جاتی ہے ۔

دنیا میں راہ راست پہ چلنا نہیں آسان
بت خانے ہزاروں ہیں مگر ایک حرم ہے
پندار زر و مال سے آزاد ہوں صد شکر
سوچوں تو میرے فقر میں بھی جاہ و حشم ہے

ندیم کی شاعری حسن صداقت سے عبارت ہے اور ساتھ ساتھ جذبہ تعمیر بھی ہے ۔

مل گیا وہ راہ میں ہم کو اگر تقدیر سے
اس کو پھر اپنا بنا لیں گے کسی تدبیر سے
ہو نہ مائل دیکھنا تخریب کا ری کی طرف
اپنا دل لبریز رکھنا جذبہ تعمیر سے
بات اچھی ہے کہ بنتی ہے عمل سے زندگی
واقعہ یہ ہے نہیں جیتا کوئی تقدیر سے

غزل گو شاعر کی حیثیت سے ملکی سطح پر جانے اور مانے اور مانے جانے والے اس شاعر کو نئی شعر و سخن کی فکری بستیاں آباد کرنے اور ایک خوبصورت شعری مجموعہ کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔اللہ تعالی ان کی تخلیقی او رفکری صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے ۔آمین
مبصر : ڈاکٹر آمنہ خاتونثث
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna Khatoon

Read More Articles by Amna Khatoon: 17 Articles with 20706 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Jan, 2018 Views: 789

Comments

آپ کی رائے
ماشاءاللہ بہت عمدہ تبصرہ ہے
By: Dr. Nasreen Shagufta , Karachi on Feb, 15 2018
Reply Reply
0 Like