تبصرہ برائے کتاب - ’’ٹھنڈی چھاں‘‘

(Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi, Narowal)

اﷲ تعالیٰ نے کائنات میں رونق اور بہار لانے کیلئے حضرت انسان کی تخلیق فرمائی ۔انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر اپنی خلافت و نیابت کا شرف بخشا ۔ پھر انسان کو آپس میں ایک دوسرے کے خیالات جاننے اور اپنا مافی الضمیر بیان کر نے کیلئے زبان و کلام کی نعمت سے نوازا ۔ مختلف النوع زبانیں انسانیت کو قریب کرنے اور اختلافات کو مٹانے کا سبب بنتی ہیں۔بیان و کلام کے بڑے دو ذریعے دنیا کے سامنے ہیں ۔ایک ذریعہ نثر ہے اور دوسرا نظم۔

اہل علم و ادب نے انہی دو ذریعوں سے دنیا کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے انسان کی خدا شناسی ،عشق رسول ﷺ ،محبت صحابہ رضی اﷲ عنہم، مودت اہلبیت رضی اﷲ عنہم اور عقیدت اولیاء اﷲ رحمۃ اﷲ علیہم اور اپنے رسم و رواج سمیت ہرسطح میں راہنمائی کی ۔

نظم میں ایک صنف نعت کی ہے ۔نعت اُن اشعارکو کہا جاتا ہے جن میں اوصافِ رسول ﷺ بیان ہوں ۔دورِ رسول ﷺ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ عنہ دربار رسالت کے نعت گو شاعر تھے ۔ حضرت امام بوصیری رحمۃ اﷲ علیہ اور شیخ سعدی رحمۃ اﷲ علیہ نے بھی نعت گوئی میں کمال پایا ۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنت ،مجدد دین ملت حضرت علامہ الحافظ القادری الامام الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے تو نعت گوئی کو معراج بخشی۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال رحمۃ اﷲ علیہ بھی نعتیہ اشعار کہنے میں کسی عاشقِ رسول ﷺ سے پیچھے نہیں ۔ یہ سلسلہ نظم کی حسین صنف نعت اور شاعری میں عقیدت کا سلسلہ تا قیامت جار ی رہے گا۔ ہر دور شعراء سے بھرا پڑا ہے ۔ موجودہ دور میں بھی بڑے بڑے با کمال شاعر موجود ہیں ۔جن کو اﷲ تعالیٰ نے کمال حافظہ عطا فرماکرہر پہلو کو اپنی شاعری میں سمونے کا سلیقہ بخشا ہے ۔ شعراء کرام کا گروہ وہ حق پرست گروہ ہے جن کے فکر و شعر کا سر چشمہ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے جو بزبان مصطفےٰ ﷺ انسانیت کے سامنے آیا۔ حدیث قدسی ہے ۔’’الشعرآء تلامیذ الرحمٰن‘‘’’شعراء اﷲ رحمان اور رحیم کے شاگرد ہوتے ہیں۔‘‘

اور سرکار مدینہ ﷺ کا ایک دوسرا فرمان عالی شان ہے کہ ان الشعر لحکمۃ ’’بعض شعر تو سراپا حکمت ہوتے ہیں ۔ ‘‘

انہی بنیادوں پر جب کوئی شاعر اپنی شاعری کو دنیا کے سامنے لاتا ہے تو ان کی زبان سحر بیان اور گفتار حکمت طراز سے بعض ایسے مصرعے ادا ہوئے ہوتے ہیں جو زبان زد عام اور دنیا میں روشنی کی کرن بن کر پھیل جاتے ہیں ۔ایسے ہی فکر بلند اور پرکشش و دلگدازا سلوب کو غیر فانی شعر کا نام دیا گیا ہے ۔ایسے ہی کلام کے بارے عرب کا ایک شاعر کہتا ہے کہ :’’اذا قلت شعر اصبح الدھر منشدا‘‘’’جب میں شعر کہتا ہوں تو اُسے زمانہ گنگنانے لگتا ہے ۔‘‘

اردو کا ایک شاعر اس طرح ایسے با اثر کلام کا تذکرہ کرتا ہے کہ
حسن تاثیر کو صورت سے نہ معنی سے غرض
شعر وہ ہے کہ لگے جھوم کے گانے کوئی

یہاں تک تو شعر کہنے اور اس کے اثرات کا ذکر ہوا ۔اب ذرا اپنے ارد گرد کا بغور مطالعہ کریں تو قدرتِ ربانی کی ہر تخلیق میں خواہ وہ آسمانی ہے یا زمینی، نوری ہے یا خاکی،بازبان ہے یا بے زبان ہر چیز اور ہر تخلیق میں ایک نظم اور ایک معنی خیز تسلسل نظر آتا ہے اور اسی رنگ ڈھنگ و تسلسل کو زبان و کلام میں ڈھالنا ہی تو شعراء کا کمال ہے ۔ صاحبانِ ادب کہتے ہیں کہ کوئی ملت و قوم شاعر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی ۔ بقول شاعر علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ
قوم گویا جسم ہے افراد ہیں اعضائے قوم
شاعرِ رنگین نو ا ہے چہرۂ زیبائے قوم

ایسے ہی بلند فکر، خوفِ خدا عشق مصطفےٰ ﷺکے جذبہ سے سرشار، جملہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمۃ اﷲ علیہم سے محبت و عقیدت رکھنے والے ،خطیب و ادیب اور پاکیزہ سُخن نارووال کے شاعر جناب محمد نواز اختر ؔ جماعتی ہیں۔جنہوں نے موجودہ دور میں اپنی مادری زبان پنجابی کو اپنے اظہار خیال اور اظہار عقیدت کا ذریعہ بنا کر حمد باری تعالیٰ سے لے کر موجودہ حالات تک کو اپنے اشعار میں سجادیا ہے ۔جناب محمد نواز اخترؔ کمبوہ جماعتی جہاں علمی اور ادبی لحاظ سے معاشرے میں ایک مقام رکھتے ہیں وہاں ان کی شاعری میں مذہبی رنگ غالب نظر آتا ہے ۔

جناب محمد نواز اختر ؔ کمبوہ جماعتی علمی اعتبار سے خاصے منجھے ہوئے انسان ہیں ۔پنجابی چونکہ ہماری مادری اور علاقائی زبان ہے اسی مناسبت سے انہوں نے اپنے اظہار خیال اور شاعری کیلئے پنجابی ہی کو ہی ذریعہ کلام بنایا۔پنجابی زبان ویسے تو بڑے وسیع الفاظ رکھتی ہے۔اس زبان کو یہ بھی شرف حاصل ہے کہ رومیٔ کشمیر حضرت میاں محمد بخش رحمۃ اﷲ علیہ کھڑی شریف، سید بلھے شاہ قصوری، وارث شاہ، ہاشم شاہ اور ایسی ہی سینکڑوں بزرگ ہستیوں نے اپنی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا ۔لیکن دیگر زبانوں کے مقابلے میں پنجابی زبان میں شاعری کرتے ہوئے مترادفات اور ہم وزن الفاظ لانا کافی مشکل مرحلہ ہے ۔ لیکن جناب محمد نواز اختر ؔ کمبوہ جماعتی نے بڑی خوش اسلوبی سے پنجابی زبان میں مترادفات اور ہم وزن الفاظ لا کر اہل زبان کو وطرۂ حیرت میں ڈال دیا ہے ۔

شاعری میں جہاں کافیہ ،ردیف شعر کے حسن کو بلندی کی منزل پر فائز کرتے ہیں وہاں اس کے بحر کا مختصر ہونا بھی شعر میں چاشنی پیدا کرتا ہے مگر جناب محمد نواز اختر ؔ کمبوہ جماعتی نے اپنی شاعری میں طویل بحر کا انتخاب کر کے اس کو بھی حسن و خوبی سے آراستہ کر دیا ہے ۔اور پڑھنے والا طوالت بحر بھی خاطر میں نہیں لاتا ۔جہاں شعری محاسن جناب محمد نواز اختر کمبوہ جماعتی کی شاعری میں اپنی جوانی کو پہنچے نظر آتے ہیں وہاں میرے ممدوح نے اپنی شاعری میں ہر رشتے ،معاشرے میں منعقد ہونے والی مختلف تقریبات ،موجودہ معاشرے کے رہن سہن اور رسم و رواج سمیت تقریبا ًہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے ۔ جو کہ شعراء میں بہت کم نظر آتا ہے ۔عنوان ’’ٹھنڈی چھاں‘‘رکھ کر معاشرتی اعتبار اور شرعی و روحانی اعتبار سے جس ہستی کی طرف قدرتی میلان ہے ۔یعنی ’’ماں‘‘کو مزید پرکشش بنادیا ۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ لفظ ماں میں ایک مقناطیسی طاقت موجود ہے ۔جو اولاد و افراد میں باہمی ربط و محبت اور اخوت کا سبب بنتی ہے ۔آج بھی ماں کو وہ عظیم شان حاصل ہے کہ جس سے اُس کا تقدس و احترام معاشرے کو ترقی و بامِ عروج پر پہنچاتا ہے ۔

جناب محمد نوا ز اختر ؔ جماعتی نے جب مجھے اس کتاب پرتقریظ لکھنے کیلئے حکم کیا تو میں نے عنوان کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری کتاب کا مطالعہ کیا ۔اس میں انبیاء کرام کے تذکرے اشعار میں،صحابہ کرام کی عظمتیں اشعار میں، مقام اہلبیت رسول ﷺ اشعار میں،عظمت اولیاء کرام اشعار میں، ماں کی شان اشعار میں ، معاشرتی قدریں اشعار میں، تہذیبی رفعتیں اشعار میں ،قومی بلندی اشعار میں ،ہمارے رسم و رواج اشعارمیں حتیٰ کہ جناب محمد نواز اختر ؔ کمبوہ نے نجی تقریبات تک اور سیاسی مجالس تک کو اشعار میں ذکرکیا اور بڑے با وقار اور اعلیٰ اعتبار سے اشعار کی تسبیح میں پرویا مگر عنوان ’’ٹھنڈی چھاں ‘‘کے ساتھ تب ہی انصاف ہوتا ہے جب اس میں امام العاشقین ،خیر التابعین ،فنافی الرسول ،مقبول بارگاہ رسول ﷺ حضرت سیدنا خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ عنہ جن کی ذات خدمتِ ماں کے حوالے سے اور عشقِ رسول ﷺ کے بے تاج بادشاہ کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے کا بھی ذکر اس میں موجود ہوتا ۔

لہٰذا تقریظ لکھنے کا وعدہ میں نے جناب محمد نواز اختر ؔ جماعتی کمبوہ سے اس شرط پر کیا کہ آپ سیدنا خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ عنہ پر بھی اشعار شاملِ کتاب کریں اس لئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی ذات خدمتِ ماں کے حوالے سے ضرب المثل کی حیثیت رکھتی ہے ۔

جناب محمد نواز اختر ؔ کمبوہ جماعتی جہاں صاحب علم و کلام ہیں وہاں ایک خوش عقیدہ عاشقِ رسول ﷺ بھی ہیں۔ انہوں نے بلا تامل میری اس خواہش پر کہا کہ آپ کو جلد ہی سیدنا خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ عنہ پر اشعار ارسال خدمت کروں گا۔

پھر کیا تھاا بھی چند دن ہی گزرے تھے کہ جناب محمد نواز اختر ؔ کمبوہ جماعتی میرے پاس تشریف لائے اور اپنی جیب سے ایک لمبا چوڑا کاغذ نکالا جس پر امام العاشقین حضرت سیدنا خواجہ اویس قرنی رضی اﷲ عنہ اور خدمتِ ماں اور عشقِ رسولِ ﷺ کے حوالے سے کم و بیش 66اشعار تحریر تھے ۔ میری خوشی کی انتہاء نہ رہی اور جب میں نے ان اشعار کو سُننے کی خواہش ظاہر کی تو کلام شاعر بزبان شاعر نے ایک کیفیت طاری کر دی۔ جس پر میں نے بے ساختہ تقریظ لکھنے کا اعلان کیا اور حسب وعدہ یہ تقریظ لکھ ڈالی۔

معزز قارئین!یقینا جس کلام میں کیف و سرور اور عشقِ مصطفےٰ ﷺ کا رنگ میسر آئے وہ قبولیت سے مزین ہوتا ہے اور یہی رنگ جناب محمد نواز اخترؔ کمبوہ جماعتی کے کلام کے اس گلدستہ میں چھلکتا نظر آئے گا۔

اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا گوہوں کہ وہ اپنے پیارے حبیب لبیب دو عالم کے طبیب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کا صدقہ جناب محمد نواز اخترؔ کمبوہ جماعتی کے اس شعری مجموعہ کو قبولیت دوام بخشے اور عوام و خواص کیلئے یہ ہر لحاظ سے شافع و نافع بنے ۔آمین
خوبصورت ٹائٹل فور کلر ،100صفحات
ملنے کا پتہ
1۔۔۔ محمد نواز اختر کمبوہ محلہ ابو بکر پورہ نارووال0307-6336179
2۔۔۔ادارہ تاجدار یمن پاکستان جامعہ اویسیہ کنز الایمان محلہ رسول نگر نارووال

تبصرہ نگار
علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی
سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال
موبائل نمبر0300-6491308

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi

Read More Articles by Pir Muhammad Tabasum Bashir Owaisi: 40 Articles with 28997 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Jan, 2018 Views: 1129

Comments

آپ کی رائے