مذہبی انتہا پسندی کا گڑھ

(عابد محمود عزام, Lahore)

نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے بھارت میں مسلسل مذہبی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ مودی کی حکومت بننے سے پہلے ہی بھارت کے روشن خیال دھڑوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر مودی برسراقتدار آئے تو سیکولر بھارت کی پہچان کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بات سچ ثابت ہوئی اور آج مودی سرکار اپنے داخلی بحران سے آنکھ چرا کر بھارتی عوام کو جنگی جنون کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہے۔ بھارتی اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں مسلمانوں پر مظالم میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی تاریخ میں سال 2017ء ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، گائے کے نام پر تشدد کے دل دہلا دینے والے 52 فیصد واقعات محض افواہوں کی بنیاد پر ہوئے۔ گائے کے نام پر سرعام تشدد اور قتل وغارت سے لگتا ہے کہ بلوائیوں کو مودی سرکار کی مکمل حمایت حاصل ہے، ایسے میں مسلمانوں کا بھارت میں جینا محال ہوتا جارہا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی داستان کوئی نئی بات نہیں، کبھی مذہب کے نام پر قتل کیا جاتا ہے تو کبھی ذاتی انا کے مسائل میں تشدد پر قوم پرستی کے بھاشن کو دلیل کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں رہنے کا حق نہیں۔ سیکولرازم کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں مسلمان ظلم کی چکی میں پسنے لگے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے بھارت کا بھیانک چہرہ چھپانے کے لیے اکا دکا واقعات کی دبے الفاظ میں مذمت بھی کی، مگر انہیں روکنے کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا، افسوس ناک طور پر بھارتی قانون میں آج تک ایسے واقعات میں ملوث افراد کے لیے کسی سزا کا تعین نہیں کیا گیا۔

ہندوستان میں انتہا پسندی کوئی نئی بات نہیں ہے، ہندوستان میں انتہا پسندی کا آغاز 1925ء میں آر ایس ایس (راشٹریہ سیوک سنگھ) کی بنیاد رکھے جانے کے ساتھ ہی ہوگیا تھا، اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں کا حق ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات نے بہت سی انتہا پسند تنظیموں کو جنم دیا، جن میں وشوا ہندو پرشید، بجرنگ دل، راشٹریہ سیوک سنگھ، ہندو سویام سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی قابل ذکر ہیں۔ 1984ء میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر حملہ کر کے سکھ رہنماؤں سمیت 3000سکھوں کو قتل کرنے اور 1992ء میں بابری مسجد کو مسمار کرنے اور اس دوران 1200مسلمانوں کو قتل کرنے میں یہی آر ایس ایس اور اس کی بچہ جماعتیں شامل تھیں۔ گجرات میں 2002ء کے فرقہ وارانہ فسادات میں دو ہزار مسلمان مارے گئے تھے، جن میں مودی کے ملوث ہونے کی بنا پر 2005ء میں امریکا نے انہیں ویزہ دینے سے انکار کردیاتھا۔

نریندر مودی کی نظریاتی اور سیاسی پرورش آر ایس ایس کی سر پرستی میں ہوئی ہے اور انہیں ایک ہندو قوم پرست اور سخت گیر رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی جانب سے کبھی اقتدار میں آنے کے بعد تمام بنگلا دیشی مسلمانوں کو ملک سے بے دخل کرنے کے اعلانات کیے جاتے رہے توکبھی گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی باتیں کی جاتی رہیں۔ بھارت کے سیکولر حلقے مودی کو انتہائی متعصب اور انتہاپسند تصور کرتے ہیں۔ نریندر مودی کے برسرِاقتدارآتے ہی ایک طرف ہندو انتہا پسندوں کو کھلی آزادی مل گئی کہ وہ بلا روک ٹوک اپنے انتہا پسند اور متشدد ایجنڈے اور فلسفے کو طاقت کے زور پر عوام پر مسلط کریں، دوسری طرف ماضی کے تلخ تجربات کے پیشِ نظر مسلمانوں، مسیحیوں اور سکھوں پر مبنی بھارت کی مذہبی اقلیتوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ آنے والے سالوں میں رونما ہونے والے واقعات نے ان خدشات کو بالکل درست ثابت کیا۔گائے کے ذبیحہ اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کردی گئی اور محض شبہ میں کئی افراد کو قتل کردیا گیا۔ گائے کے پیشاب کو دوائیوں میں استعمال کیا گیا۔ بھارت میں تعلیمی نصاب کو بھی ہندوتوا فلاسفی کے مطابق ترتیب دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بھارت کی تاریخ کو بھی ہندوتوا فلاسفی کی روشنی میں از سرِ نو لکھنے کا منصوبہ جاری ہے جس میں بھارت کی اسلامی شناخت اور تشخص کو مجروح کیا جارہا ہے۔ شدھی جیسی تحریکوں کے احیاء کے ذریعے غیر ہندو آبادی کو زبردستی ہندو بنانے کی کاوشیں کی جارہی ہیں۔

نریندر مودی کے جارحانہ رویے کے سبب بھارت میں انتہا پسند ہندو گروہ مسلسل طاقتور ہو رہے ہیں اور ملک میں اقلیتوں کے لیے زبردست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اسی منفی اور انتہا پسندانہ رویے کی وجہ سے بھارت میں ہندوؤں کے مسلح گروہ قائم کیے جارہے ہیں جو کسی نہ کسی بہانے سے مذہبی اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں۔ ملک کے سیکولر عناصر اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورت حال پر بار بار متنبہ کیا، لیکن حکومت اور حکمران پارٹی کا طرز عمل تبدیل نہیں ہوا۔ حکومت مذہبی غنڈہ گردی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے کوئی جامع منصوبہ سامنے لانے اور اقلیتوں کا خوف اور احساس عدم تحفظ ختم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

دنیا بھر میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ ملک میں کبھی کبھار اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہوبھی جاتی ہے، مگر اس پر جس انداز میں شور مچایا جاتا ہے، وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی ایک آدھ واقعے میں اقلیت برادری کے کسی فرد کے ساتھ ظلم ہوبھی جاتا ہے تو پوری دنیا میں بھونچال سا آجاتا ہے۔ میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہندؤں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت سب کو ان کے حقوق دیے جاتے ہیں۔ ان کی دیوالی،کرسمس اور دیگر تقریبات میں حکومتی ارکان کی طرف سے انہیں مبارک باد دی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی حکومتی نمائندہ کسی اقلیت کے ساتھ ظلم و تشدد میں ملوث ہو یا اقلیت کے افراد پر حملوں اور ان کے قتل میں ملوث ہو اور میڈیا اور عوام ایسے شخص کا جینا دوبھر نہ کریں، جبکہ بھارت کا وزیر اعظم ہی ایسا مذہبی انتہا پسند انسان ہے، جس کی گردن پر گجرات کے 2ہزار مسلمانوں کا خون ہے اور جو اب بھی بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو پروان چڑھا رہا ہے۔

پاکستان میں کوئی ایک بھی تنظیم ایسی نہیں جس کا مقصد بھارت کی طرٖح اقلیتوں کو ختم کرنا یا ان کے خلاف تشدد کو پروان چڑھانا ہو، حالانکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف حیرت انگیز طور پر انتہا پسندی پائی جاتی ہے، جہاں اقلیتیں مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں اور یہ سب انتہا پسندی برسوں سے حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے، مگر پھر بھی انتہا پسندی کے حوالے سے تمام دنیا کی انگلیاں پاکستان کی طرف ہی اٹھتی ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔ حالیہ دنوں امریکا نے پاکستان کو اقلیتوں کی حفاظت میں ناکام ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے، لیکن امریکا کو بھارت میں مسلم اقلیت پر روا رکھے جانے والے مظالم نظر نہیں آئے۔ عالمی برادری اور امریکا بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا نوٹس نہیں لیتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کا نعرہ دجل و فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 417705 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jan, 2018 Views: 467

Comments

آپ کی رائے