جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی !!!

(Shafqat Ullah, )

اگست 1947 میں جب برصغیر کی تقسیم ہو رہی تھی تو شاہی ریاست جموں و کشمیر بھی ایک فیصلے کا منتظر تھی۔ اقوام متحدہ نے یونائیٹڈ نیشن کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان بنایا جس نے سیز فائر کروا کر قرار داد پاس کی کہ ہندوستان اور پاکستان رائے شماری کا اہتمام کریں جس میں کشمیری فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا انڈیا کے ساتھ !مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک خود کو دفاعی طور پر مستحکم کرتے ہوئے ایٹمی طاقتیں بن چکے ہیں لیکن بھارت کی مکارانہ سفارتی پالیسی اور مسئلے کے دوسرے فریق پاکستان کی بھارت کی جانب سے پر امن حل کیلئے کوششوں کو رد کرنے اور اقوام متحدہ کے کمیشن کی 19 سے زائد قراردادوں پر عملدرآمد سے انحراف کے سبب دونوں ممالک ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ جبکہ مسئلے کے اصل فریق یعنی کشمیریوں نے پر امن جدو جہد کے بعد 1988 سے 2002 اور پھر 2010 سے مسلسل اب تک عسکری جدو جہد کی اور آج تک وہ آٹھ لاکھ فوج کی بربریت کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد جانیں دینے کے با وجود بھارت سے آزادی کے حصول تک جد و جہد جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں ۔ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے کے تاریخی اسباب کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ممکنہ حل پر نگاہ دوڑائی جائے تو پاکستان اور ہندوستان کی ریاست جموں کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کی خواہشات اپنی جگہ لیکن اس مسئلے کے اصل فریق یعنی کشمیریوں کے پاس دو ہی رستے ہیں! اول یہ کہ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو اور کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو پھر ریاست آزاد و خودمختار ہو۔ مختلف وجوہات کی بناء پر ریاست جموں و کشمیر میں مقیم ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی دلی طور پر ہندوستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتے اور ہندوستان کو اس حقیقت کا ادراک بھی ہے کہ ریاست میں رائے شماری کے اہتمام کی ہامی بھری تو نتائج اس کی خواہشات کے برعکس برآمد ہوں گے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر مکارانہ سفارتی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے ذریعے ظلم و جبر اور مختلف ترغیبات دے کر کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے ،لیکن اس کے تمام حربوں پر کشمیری پانی پھیر دیتے ہیں ۔ ایک پی ایچ ڈی کی طالبہ کہتی ہیں کہ میرا یقین ہے کہ ہم کبھی انڈیا کا حصہ نہیں تھے ،نہ ہیں اور کبھی بھی انڈیا کا حصہ نہیں بن سکتے ۔قانون کے طالب علم کہتے ہیں کہ بھارت وعدہ خلافی کا مجرم ہے اور اس نے ریاست کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا ہے کہ اب صرف پاکستان میں شمولیت کا راستہ بچا ہے ۔بزنس کے طالب علم کہتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ انڈیا کشمیریوں کے دل جیت لے اگرچہ اس کی فوج نے ان کے ساتھ ایک پلتے بڑھتے دہشت گرد ساسلوک کیا ہے ۔کشمیریوں کا حق آزادی ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔لیکن جہاں ہندوستان اتنی سفاکانہ سفارتکاری کر رہا ہے وہیں پاکستانی سفارتکاری پر بھی تحفظات اور تشویش عوام میں پائی جاتی ہے ۔ پاکستان میں کشمیر کمیٹی اور ایک عافیہ صدیقی پر بھی کمیٹی بنائی گئی ہے جو کام تو کر رہی ہے لیکن نظر نہیں آتا ۔ عافیہ صدیقی کمیٹی میں اعتزاز احسن اور کشمیر کمیٹی پر مولانا فضل الرحمٰن پیٹ بھرو ، موج اڑاؤ پالیسی پر ہٹ دھرم ہیں ۔ اور یہ دونوں موصوف ان کمیٹیوں کی مد میں لاکھوں روپے تنخواہیں بٹورتے ہیں ، لیکن میں یہاں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کی کشمیر اور عافیہ صدیقی معاملے پر یہ لوگ ذرہ برابر بھی عکاسی نہیں کر رہے ہیں ۔ بلکہ پاکستانی عوام کے مینڈیٹ اور کشمیری عوام کی کے مینڈیٹ کی پوری ایمانداری کے ساتھ یٰسین ملک کے اہلیہ مشعال ملک اور مجاہد اسلام حافظ محمد سعید نباہ کر رہے ہیں ۔ میں یہاں ایک مطالبہ واضح طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کرنا چاہوں گا کہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو طلب کر کے ان سے کارکردگی رپورٹ طلب کی جائے اور ملک و قوم کے ساتھ دھوکہ دہی کی بنیاد پر قرار واقعی سزا دینی چاہئے بلکہ ایسے لوگوں کو تو غدار وطن کی سزا ملنی چاہئے جو مفت کی روٹیاں توڑتے ہیں اور بالکل نکمے ہیں ۔اس وقت مشعال ملک کشمیری حریت پسند نوجواں طلبہ و طالبات اور نوجواں طبقے کیلئے رول ماڈل بن چکی ہیں ، ان کی خدمات کو تاریخ کے سنہرے اوراق میں موتیوں سے پرو کر رقم کیا جائے گا ،کس طرح ایک جواں سالہ عورت ، ایک معصوم سی بیٹی کی ماں ملکوں ، ملکوں کبھی اسلام آباد اور لاہور کی سڑکوں پر تو کبھی بھارت سے امریکہ اور یورپ کی گلیوں میں حق بات پر ڈٹی نظر آئی کہ جب اس کے خاوند کو روپوش کر دیا گیا اور اس کی جان کو خطرے کا علم ہونے کے با وجود بھی وہ ہر طرح کے خوف و خطر سے بالا تر ہو کر اپنی جدو جہد سے دستبردار نہیں ہوئی ۔یوں لگتا ہے کہ اس قوم کی بیٹی نے تندی باد مخالف کو کسی خاطر میں نا لاتے ہوئے ایک دن ضرور کشمیر اور اس کی عوام کو ان کا حق خود ارادیت دلوا کر ہی دم لینے کی ٹھان رکھی ہے ۔دوسری جانب جہاد کے محاذ پر حافظ محمد سعید کی دانشمندانہ پالیسیوں اور اسلام کے عَلم کو بلند رکھنے والے عزم نے دشمن کی آٹھ لاکھ فوج کو ناکوں چنے چابنے پر مجبور کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت پورے انڈیا کی سیاست اور سفارتی پالیسی یہاں تک میڈیا کی ٹی پی آر بھی مکمل طور پر حافظ محمد سعید کی گرفتاری اور ان کی شہادت پر گھومتی ہے ، لیکن پاکستان میں آزادی کشمیر سوائے ملی مسلم لیگ کے کسی سیاسی جماعت کا منشور نہیں ہے ۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
کہتے ہیں یارانِ وطن ،کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نا ملے گی!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 213 Articles with 91650 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
01 Feb, 2018 Views: 661

Comments

آپ کی رائے