نہال ہاشمی کی نااہلیت اور انجام

(Dr B.A Khurram, Karachi)

’’ احتساب کرنے والوں ہم تمہارا یوم حساب بنادیں گے، تم جس کااحتساب کر رہے ہو وہ نوازشریف کا بیٹاہے۔سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں سینیٹر نہال ہاشمی کا جارحانہ انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ہم نے چھوڑنا نہیں تم کو آج حاضر سروس ہو کل ریٹائر ہوجاؤ گے، ہم تمہارے بچوں اور خاندان کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کردیں گے‘‘یہ الفاظ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نے مئی دوہزار سترہ میں اس وقت کہے تھے جب آل شریف جے آئی ٹی میں پیش ہو رہے تھے وہ برا وقت مسلم لیگ ن بالخصوص شریف برادران کے لئے کڑاامتحان بن کر ایک ایک لمحہ قیامت صغری بن کر سامنے آیانہال ہاشمی کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پہ وائرل ہوا تو سیاست میں ایک تلاطم پیدا ہوگیا مسلم لیگ ن کو ایک دفاعی پوزیشن پہ لا کھڑا کیا پاناما کیس میں شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کے دوران سینیٹر نہال ہاشمی نے ججز اور جے آئی ٹی کے ارکان کو دھمکیاں دی تھیں جس پر عدالت عظمیٰ نے 31 مئی کو نہال ہاشمی کی تقریر کا ازخود نوٹس لے لیایکم فروری کو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے توہین عدالت کیس میں مسلم لیگی سینیٹر نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی، انہیں 5 سال کیلئے نا اہل بھی قرار دے دیا گیا ہے سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت عدالت نے پہلے سے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی کی غیر مشروط معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایک ماہ قید کی سزا سنادی۔ عدالت کی جانب سے انہیں آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت سزا سنائی گئی ہے عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد پولیس نے نہال ہاشمی کو فوری طور پر گرفتار کرلیاپولیس نے مسلم لیگ ن کے رہنما کو گرفتاری کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ یہ فیصلہ دو ایک سے سنایا گیا ہے جبکہ جسٹس دوست محمد نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر مسلم لیگ ن کے سینیٹر نے جرمانہ ادا نہ کیا تو انہیں مزید ایک ماہ قید کی بھگتنا ہوگی ، عدالت نے 24 جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا

رب کائنات کی لاٹھی ہمیشہ بے آواز چلتی ہے جسے عروج ملتا ہے اسے زوال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اجلے دن کے بعد تاریک رات بھی دیکھنی پڑتی ہے یہ زندگی کے نشیب وفراز ہی تو ہیں کبھی لینے کے دینے بھی پڑتے ہیں ستم ظریفی تو دیکھیں دوسروں کو سنگین نوعیت کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کی زمین تنگ کرنے والے عدالت عظمی میں معافی مانگتے دکھائی دیئے ،منت سماجت اور ’’ترلے‘‘ بھی مسلم لیگی سینیٹر کو نااہلی سے نہ بچا سکے ان کی نااہلیت سے سینیٹ کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے اور آئندہ پانچ سال کے لئے عملی سیاست سے بھی فارغ ہو گئے مسلم لیگ ن کے اہم رہنما سینیٹر نہال ہاشمی کو عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیا جانا حکمران جماعت کے لئے ایک سیاسی دھچکے سے کم نہیں ہے نااہلی کے اس سے آنے والے دنوں میں گہرے اثرات مرتب ہوں گے جب سے وطن عزیز پاکستان کی سیاست میں پانامہ کا تذکرہ شروع ہوا ہے تب سے سیاست میں گرماگرمی کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے حکمران جماعت مسلم لیگ کے قائد کو جب سے نااہل قرار دیا گیا ہے تب سے مسلم لیگ کے اہم رہنماؤں کی توپوں کا رخ عدلیہ کی جانب ہے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا رہا مختلف حیلے بہانوں سے عدلیہ پہ ہرزہ سرائی کی جاتی رہی ہے اگر یہ کہا جائے کہ ابھی بھی عدالت کو کوسا جا رہا ہے تو بے جا نہ ہوگا خود میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف جب بھی احتساب عدالت پیشی پہ گئے واپسی سے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران ان کا لب و لہجہ عدالت کے بارے سخت سے سخت ہوتا چلا گیا مسلم لیگ ن کے اندر ایک اعتدال پسند گروپ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کو مسلم لیگ کے لئے اچھا نہیں سمجھتا اعتدال پسند گروپ نے اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی ترک کرنے کا مشورہ دیا لیکن آل شریف کے ارد گرد حواری شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے دکھائی دیئے دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کی مدت کے تعین کے حوالے سے کیس کی سماعت جاری ہے چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا’’ جس نے توبہ کرنی ہے ہمارے سامنے آئے ‘‘مسلم لیگی سینیٹر نہال ہاشمی کی نااہلی ان سب کے لئے ایک سخت وارننگ ہے جو عدلیہ سے محاذآرائی اورتوہین کے مرتکب ہو رہے ہیں حکمران جماعت کے اہم رہنماؤں اور وزراء نے عدلیہ سے متعلق اپنی محاذ آرائی والی روش نہ بدلی اور توبہ تائب نہ ہوئے تو پھر ان سب کا انجام بھی نہال ہاشمی سے مختلف نہ ہوگا اور یہی روش اور محاذآرائی حکمران جماعت کو کہیں کا نہ چھوڑے گی -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 553 Articles with 237630 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2018 Views: 452

Comments

آپ کی رائے