کشمیر یوں کے ملکی حالات پر کرب اور ترقیاتی فنڈز کا چیلنج

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
کشمیر یوں کے ملکی حالات پر کرب اور ترقیاتی فنڈز کا چیلنج

پاکستان کے جڑواں شہروں اسلام آباد راولپنڈی کے سنگم فیض آباد میں دھرنے اور اس کے نتیجے میں پورے ملک میں احتجاجی جلوس ‘ مظاہرے کئے گئے ‘ اعلیٰ عدالتوں کے احکامات پر دھرنے کے خاتمے کیلئے سیکورٹی فورسز نے آپریشن کیا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت شہریوں کے جانی اوربڑے پیمانے پر سرکاری رائیویٹ گاڑیوں سمیت املاک کا نقصان ہوا ہے ‘ جس پر پورے ملک کی طرح ناصرف آزادکشمیر کا گلگت بلتستان بلکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام رنجیدہ ہیں تو دعائیں کر رہے ہیں یہ بدامنی ختم ہو جائے ‘آئین قانون جمہوری قدروں کے مطابق سارا نظام آگے بڑھتا رہے جب بھی ملک کے کسی حصے میں کوئی حادثہ بدامنی ہوتی ہے تو انڈین میڈیا بات کا بتنگڑ بنا کرمقبوضہ کشمیرکے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتی ہے ‘ تم کن مسلمانوں اور ملک کی بات کر رہے ہو ‘ جو اللہ رسولؐ کے نام پر ایک دوسرے کا قتل کرتے ہیں انتشار بدامنی کا شکار ہیں مگر مقبوضہ کشمیر کے عوام جانتے ہیں پاکستان میں بھارت سمیت دشمن قوتیں فساد برپا کرنے کیلئے سرگرم رہتی ہیں جو اس ملک کو ترقی ‘ خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتیں ‘ تاہم یہ حکومتوں اور اداروں کی ناکامی ہے ‘ چند سو افراد دو شہروں کو یرغمال بنا لیں اور بالآخر عدالتیں حکم صادر کرنے پر مجبور ہوں اس کو شروع ہونے سے پہلے اور شروع ہونے کے بعد پرامن انداز میں ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں ہوتیں تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی جس کے باعث ساری قوم فکر مند و رنجیدہ ہے ‘ یہاں دارالحکومت مظفر آباد کی قدیمی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے پہچان اپر اڈہ جدید کمیونیکیشن سسٹم ہولو کا استفادہ کرتے ہوئے جیالوں سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کیا ‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کے ساتھ ن لیگی مرکزی حکومت کی آزاد کشمیر کے حوالے سے کارکردگی پر سوالات اُٹھائے تو جیالوں کے جذبات گرماتے ہوئے پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس و سلور جوبلی تقریبات کے سلسلے میں اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ جلسہ پانچ دسمبر کو بھرپور انداز میں شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا میں آپ کا انتظار کروں گا ‘ پارٹی صدر چوہدری لطیف اکبر ‘ جاوید ایوب ‘ بازل نقوی ‘ چوہدری رشید ‘ اشفاق ظفر ‘ میاں وحید سمیت قائدین جیالوں نے بھی خطابات کے بعد لطیف اکبر نے صدر ریاست سردار مسعود خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے بیرون ملک دوروں کے اخراجات واپس وصول کرتے ہوئے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا مطالبہ کیا نیز مذمت کی کہ صدر ریاست بیرون ملک ڈانس پارٹی میں شریک ہو کر کشمیر کاز اور کشمیریوں کیلئے ندامت کا جواز مہیا کیا جس کے جواب میں سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے صدر ریاست کی کشمیر کاز کے حوالے سے کردار اورسفارتی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیاہے ‘ مخالف سیاسی زعماء میڈیا کے بعض عناصر غلط پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جو کسی بھی طرح کشمیر کاز کی خدمت نہیں ہے تو ان کا یہ کہنا ہمیں افسوس ہے سکندر حیات کی توقعات پر پورا نہیں اُتر سکے ایسا اظہار ہے جس کامعنوی اعتبار سے نتیجہ اخذ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے ‘ سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے بعد سردار سکندر حیات ‘ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر اور سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ایسی شخصیات ہیں جس کے انٹرویوز کرنا تقاریر کو مختصر بیانیے میں ڈھالنا انہی کے ہم جماعتیوں کو پیچھے لگانے کے مترادف ہے تاہم طارق فاروق کی طرف سے پارلیمانی پارٹی کی مشاورت سے کابینہ توسیع کی حمایت وقت کا تقاضا ہے کابینہ میں طارق فاروق ایسی شخصیت ہیں جو اسمبلی کے اندر باہر موثر و پرامن انداز میں حکومت مخالفین کے سامنے ڈھال بنتے ہیں مگر یہ ان کے اکیلے بس کی بات نہیں ہے اب وزیراعظم کو اپنے کاندھوں سے سب محاذوں کو سنبھانے کی ذمہ داریاں تقسیم کرتے ہوئے بوجھ اُتارنے کی ضرورت ہے ‘ راجہ عبدالقیوم خان سے لیکر راجہ نصیر خان تک دبنگ ساتھیوں کو ٹیم میں شامل کر کے مستقبل کے حملوں کا دفاع کرنے کیلئے مخلص ‘ نڈر ‘ تجربہ کار کھلاڑی بطور اوپنر رکھنا ہونگے ‘ وزیراعظم فاروق حیدر نے ایک بار پھر سارے آزادکشمیر کے ڈویژن اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے عوامی اجتماعات سے خطاب اور ترقیاتی فلاحی منصوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے جائزہ اجلاسوں میں شرکت کی جو براہ راست لوگوں سے رابطے اور نگرانی کے حوالے سے قابل قدر اقدام ہے تاہم 23 ارب کے ترقیاتی بجٹ کے آئندہ ساڑھے سات ماہ میں صحیح استعمال ممکن بنانے کے لئے سرکاری مشینری کو دانشوروں سپنوں اور مشوروں کی مشینوں سے جان چھڑاتے ہوئے اہداف دیکرکام لینے کی اشد ضرورت ہے ‘ سرکاری غیر سرکاری حکومت سیاست و اہداف سے جڑے تمام شعبوں میں کام کرنے اور نہ کرنے والوں میں فرق کیے بغیر باتوں اور ذاتوں کے گورکھ دھندے نے پہلے کسی کو کچھ دیا ہے نہ آئندہ دیں گے یہ ہر تھالی کے بینگن ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 68453 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Feb, 2018 Views: 346

Comments

آپ کی رائے