بھارتی بی ایس ایف کی بدمعاشی

(Raja Javed Ali Bhatti, )

„ٹائمز آف انڈیا کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جموں کی بین الاقوامی سرحد کے پار مارٹر توپوں کے نو ہزار گولے فائر کیے۔ بھارتی وزارت داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سینئر حکام نے بتایا کہ جموں میں انڈین بارڈر کے ساتھ 190کلو میٹر کا علاقہ بہت حساس ہے اور یہ ہرزہ سرائی کی کہ پاکستان نے گزشتہ اتوار سے بھاری فائر کھول رکھا ہے۔ تاہم 19جنوری سے بی ایس ایف نے مارٹر توپ خانے کے نو ہزار گولے فائر کیے اور یہ الزام لگایا کہ پاکستان نے پہلے امن کی خلاف ورزی کی اور بی ایس ایف کی چوکیوں اور سویلین علاقے کو نشانہ بنایا۔ مارٹر گولوں کی شیلنگ دیگر اسلحے اور ایمونیشن کے استعمال کے علاوہ اضافی تھی۔ بی ایس ایف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے پاکستان رینجرز کو کئی مقامات پر نشانہ بنایا جس میں فائرنگ پوزیشنز، مارٹر لانچنگ پیڈز اور ایمونیشن و فیول کے ذخیروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس موقع پر بی ایس ایف نے دو چھوٹے ویڈیو کلپس بھی چلائے جن میں فیول کے ذخیرے کو تباہ ہوتے دکھایا گیا۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان امن پسند ملک ہے تاہم پاکستان کے آرمی چیف یہ واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارتی رویہ حقیقی معنوں میں بغل میں چھری منہ میں رام رام کا ہے۔ بھارت مسلسل 2003ء کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کیے جا رہا ہے۔ جنوری 2018ء کے پہلے پندرہ روز میں بھارت نے 100 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جبکہ 2017ء میں بھارتی فوج نے 1900مرتبہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ بھارت امن دشمن اور جنگی جنون میں پاگل کتے جیسی ذہنیت رکھتا ہے۔ بھارتی آرمی چیف ایٹمی جنگ چھیڑنے کی حماقت کرسکتے ہیں۔
بھارتی آرمی چیف نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کو ایک فریب قرار دینے کے لیے تیار ہیں۔حد بندی لائن پر ہونے والی ان تازہ جھڑپوں کے بیچ بھارتی بری فوج کے سربراہ جنرل بِپِن راوت نے پاکستان کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھانے کی دھمکی دی ہے۔بھارت میں 70 ویں آرمی ڈے کے موقعے پر فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بار بار فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہا ہے جس کا ہماری طرف سے موثر جواب دیا جارہا ہے۔ اگر ہمیں مجبور کیا جاتا ہے تو ہم دشمنوں کے خلاف اور زیادہ سخت اقدامات اٹھائیں گے۔جنرل راوت نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستانی فوج در اندازوں کو مدد فراہم کر رہی ہے۔اسلام آباد بھارت کی طرف سے لگائے گئے اس طرح کے الزامات کی بار ہا تردید کرچکا ہے۔۔ادھر بھارتی فوج نے حدبندی لائین کے اوڑی سیکٹر میں ایک جھڑپ کے دوران چھ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا۔

بھارتی فوج کی طرف سے عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کے مبینہ دعوے کے بارے میں ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بھارتی فوج کے ایک افسر نے دعوی کیا ہے کہ یہ عسکریت پسند پاکستانی کشمیر سے بھارتی کشمیر کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جب انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ادھر پاکستانی دفتر خارجہ نے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی گولہ باری سے پاک فوج کے 4 اہل کاروں کی شہادت اور 5 فوجیوں کے زخمی ہونے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے نتیجے میں 4 پاکستانی فوجیوں کی شہادت پر طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے مطابق احتجاجی مراسلہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کے حوالے کیا گیا جس میں کہا گیا کہ آج بھارتی گولہ باری کے نتیجے میں 4 پاکستانی فوجی جوان شہید اور 5 فوجی زخمی ہوئے جب کہ بھارتی فوج نے 15 دن میں 100 بار سے زائد ایل او سی کی خلاف ورزی کی۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی طرف سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت نے سال 2018 میں اب تک ایل او سی اور ورکنگ بانڈری پر 100 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ،سال کے پہلے 15 روز میں 100 مرتبہ سیز فائر خلاف ورزی بھارت کے جنگی جنون میں مبتلا ہونے کا ثبوت دیتا ہے ،سال 2017 میں بھارتی فورسز نے 1900 سے زائد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی ۔بھارت کے اس رویے کے نتیجے میں علاقائی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ بھارت 2003 سیز فائر معاہدے پر عمل کرے اور اقوام متحدہ کے مبصر وفد کو ایل او سی اور ورکنگ بانڈری کا جائزہ لینے کی اجازت دے۔دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر لائن کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے اور لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف رہنے والے افراد اس صورتحال سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سیز فائر لائن پر تعینات فوجی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی اس گولہ باری کی زد میں آتے رہتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات جاری ہیں اور گزشتہ ہفتے بھی بھارتی اشتعال انگیزی میں 65 سالہ خاتون جاں بحق ہوئیں جس پر پاکستان نے قائم مقام بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول پر ایک بار پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن پر جنڈروٹ اور کوٹلی سیکٹرز میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کا بتانا ہیکہ بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی پر پاک فوج کے جوانوں نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی جس سے بھارتی فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی سکیورٹی فورسز کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ میں چار پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں دعوی کیا گیا کہ جوابی فائرنگ سے تین بھارتی فوجی بھی مارے گئے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فوجی لائن اف کنٹرول پر جندروٹ کوٹلی سیکٹر میں مواصلاتی لائنز کی مرمت کر رہے تھے کہ اچانک بھارتی فوج نے ان پر شدید گولہ باری شروع کر دی۔بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے بھی موثر جوابی کارروائی کی گئی۔رواں سال کے دوران لائن آف کنٹرول پر فائرنگ و گولہ باری میں ہونے والا یہ سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ادھر بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ اس نے ایل او سی پر جوابی کارروائی میں سات پاکستانی فوجیوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔جموں میں بھارتی فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ میں ایک بھارتی فوجی کے ہلاک ہو جانے کے بعد بھارتی فوج نے حد بندی لائین کے پونچھ علاقے میں پاکستانی فوج کے خلاف جوابی کی کارروائی کی جس میں ترجمان کے بقول پاکستان کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج نے نومبر 2003 میں طے پائے فائر بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حد بندی لائن کے راجوری علاقے میں بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کو ہلکے اور درمیانی درجے کے خود کار ہتھیاروں اور مارٹر توپوں سے ہدف بنایا تھا، جس میں ایک بھارتی فوجی ہلاک ہوگیا۔ترجمان نے کہا کہ راجوری سیکٹر میں پاکستانی فوج کی بِلا اشتعال فائرنگ کے بعد ضلع پونچھ کے مینڈھر سیکٹر کے جگلوٹ علاقے میں جوابی کارروائی کی گئی جس میں سات پاکستانی فوجی ہلاک اور چار دوسرے زخمی ہوگئے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارت رواں برس کے پندرہ دنوں میں 71 مربتہ ورکنگ بانڈری اور لائن اف کنٹرول پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Javed Ali Bhatti

Read More Articles by Raja Javed Ali Bhatti: 141 Articles with 61129 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2018 Views: 330

Comments

آپ کی رائے