سیاسی منظرنامہ : رونقیں اور ہنگامہ آرائیاں

(Shoukat Ullah, Banu)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگلے الیکشن کے لئے تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے کیوں کہ ان دنوں ملکی سیاست میں خوب رونق اور ہنگامہ آرائی کی فضا دیکھنے کو مل رہی ہے۔اس سلسلے میں واضح پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اٹھارہ ماہ کی خود ساختہ جلاوطنی (بیرون ِ ملک قیام ) کے بعد 23 دسمبر کو کراچی آپہنچے۔اُن کی واپسی پر سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے بڑے دل چسپ عنوانات سے اخبارات اور جرائد میں مضامین لکھے۔مجھے ذاتی طور پر جو عنوان پسند آیا وہ ’’ ٹارزن کی واپسی ‘‘ تھا۔ٹارزن بچوں کی کہانیوں میں ایک طاقت ور کردار کا مالک شخص ہے جو انسان ہوتے ہوئے جنگل پر حکمرانی کرتا ہے۔اور جنگل کے بادشاہ ’’شیر ‘‘ سمیت تمام جنگل کے باسی اس کی مخصوص آواز پر لبیک کہتے ہیں۔کیا واقعی آصف علی زرداری کی شخصیت اور کردار ٹارزن جیسی ہے؟ ہم اس بحث میں نہیں الجھتے۔البتہ ہم اُن کی وہ دھواں دار تقریر ضرور یاد دلوانا چاہیں گیجو انہوں نے بیرونِ ملک جانے سے قبل کی تھی۔تقریر کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے نعروں اور پارٹی کی نطم سے کیا تھا۔ پھر محترمہ بینظیر بھٹو اور بلاول بھٹو کی غریب عوام سے والہانہ محبت اور اُن کے حقوق کے لئے جدوجہد کو سراہنے کے بعد انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور ان کے ساتھیوں پر براہ راست الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جاری کردار کشی کی مہم بند نہ کی گئی تو وہ نہ صرف ’’اینٹ سے اینٹ ‘‘ بجا دیں گے بلکہ جرنیلوں کی فہرست جاری کرکے سب کا کچھا چٹھا کھول دیں گے۔اٹھارہ ماہ گزر جانے کے باوجود آج تک وہ فہرست سامنے نہیں آئی اور راقم الحروف کو قوی اُمید ہے کہ مستقبل میں بھی مذکورہ فہرست سامنے آنے کے امکانات نہیں ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ کراچی میں جاری آپریشن اسی تسلسل سے جاری ہے جو آج سے اٹھارہ ماہ قبل تھا۔ جس کا اندازہ کراچی میں رینجرز اور ریاستی اداروں کی حالیہ کاروائیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ جنہوں نے آصف علی زرداری کے ایک قریبی ساتھی انور مجید کے دفاتر پر چھاپے مارے اور ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج کیا۔ فوج میں اعلیٰ پیمانے پرتعیناتیوں اور تبادلوں کے باوجود پالیسیوں کا تسلسل اداروں کی مضبوطی کی بھی دلیل ہے۔

آصف علی زرداری کے حوالے سے ایک اہم بات جس کا تذکرہ تمام سیاسی تجزیہ نگار کررہے ہیں وہ اُن کی مفاہمتی سیاست ہے۔جس کی مثال گزشتہ دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پانچ سال حکومت کر کے دی۔ کیوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت نے اس سے پہلے پانچ سالہ اقتدار میں نہیں گزارے۔سیاسی مفاہمت کے تناظر میں اتوار کے روز آصف علی زرداری اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات بلاول ہاؤس کراچی میں ہوئی۔جس میں دونوں جوڑتوڑ کے ماہر قائدین نے حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی دونوں جماعتیں اتحادی رہ چکی ہیں۔اس ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ اَب انفرادی سیاست نہیں بلکہ مشترکہ جدوجہد کا وقت ہے اگر اپوزیشن کی جماعتیں ایک نکاتی ایجنڈے یعنی گرینڈ الائنس پر متفق نہ ہوئیں تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ حکومت مخالف احتجاج پارلیمان اور عوامی سطح پر کیا جائے گا اور ہر ایسی حکمت عملی سے گریز کیا جائے گا جس سے جمہوری نظام کو ڈی ریل ہونے کے خطرات لاحق ہوں۔

اگر ہم گزشتہ دنوں میں دیگر قومی سیاسی جماعتوں کے منظرنامہ کا جائزہ لیں تو اتوار کے روز ضلع صوابی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا۔ ’’نواز شریف کرپشن ٹیم کا کپتان ، مولانا فضل الرحمان وائس کپتان ، آصف زرداری اور شہباز شریف اُن کے کوچ ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور مولانا فضل الرحمان دونوں میں یہ کمال ہے کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں یعنی ایک طرف نوازشریف سے اور دوسری طرف خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘‘۔یہ حُسن اتفاق دیکھئے ، اسی روز یعنی اتوار کو مولانا فضل الرحمان نے کوہاٹ میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کو مغربی تہذیب کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں ذلت اور رسوائی کے ساتھ شکست دیں گے۔ہم اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرسکتے کہ مسلم لیگ (ن ) ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام (ف) ملک کی اہم اور نمایاں جماعتیں ہیں لیکن وطنِ عزیز پر منڈلاتے ہوئے اندرونی اور بیرونی خطرات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ جملہ سیاسی سیاسی جماعتیں اپنے ہر قسم کے سطحی ، فروعی اور جماعتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفادات اور ترجیحات کو مقدم رکھیں اور سیاسی اختلافات اور نظریات کے لئے پارلیمان کو ہی پلیٹ فارم استعمال کریں۔ جس کا اظہار آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں منعقد جلسے سے خطاب کرتے ہو ئے کہا۔ ’’احتجاج ہمارا حق ہے اور جمہوری حق لیں گے جس کے لئے اسمبلی اور عدالتوں میں احتجاج کریں گے ‘‘۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125015 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Feb, 2018 Views: 329

Comments

آپ کی رائے