ٹرائیکا کا جنگی جنون

(Sami Ullah Malik, )

میں بارہایہ لکھ چکاہوں کہ امریکا اب تک تین درجن ممالک میں جارحیت کامرتکب ہوچکاہے لیکن ہرملک سے بالآخر رسواہوکر نکلاہے لیکن اس کے باوجوداب بھی جنگی محاذکیلئے نت نئے میدانوں کامتلاشی ہے۔پچھلی دودہائیوں سے دہشتگردی کے نام پراس نے ساری دنیاکے امن کوتہہ وبالا کیاہواہے اوراب دنیامیں ایک مرتبہ پھرپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے جارحیت کیلئے پر تول رہاہے۔امریکاکے محکمہ دفاع پینٹاگون نے نئی دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے گیارہ صفحات پرمشتمل جاری رپورٹ جاری کی ہے جس میں یہ نیابہانہ تراشاگیاہے کہ امریکی قومی سلامتی کواب دہشتگردی سے نہیں بلکہ روسی اورچین کی عسکری توسیع سے امریکا کی عالمی برتری کیلئے خطرہ پیداہورہاہے ،چین اورروس دہشت گردی کے خطرے سے کہیں زیادہ سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ واشنگٹن کی نئی قومی سلامتی اسٹرٹیجی میں کہاگیاہے کہ چین اورروس کی عسکری توسیع سے نمٹنے کیلئے امریکا کوبہت زیادہ اخراجات اورافرادی قوت کے ذریعے خون آشام جنگ کرنا ہوگی۔ امریکا دہشتگردی کے خلاف بھی جنگ جاری رکھے گاتاہم یہ دعویٰ کیاگیاہے کہ اب اصلی خطرہ دہشتگردی سے نہیں بلکہ چین اورروس کی عسکری توسیع سے ہے ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ داعش عراق میں ناکام ہوچکی ہے مگرالقاعدہ اورداعش اب بھی دنیاکیلئے سنگین خطرہ ہیں ۔امریکاکاکہناہے کہ جنوبی چین تک سمندرمیں چینی فوج کی صف بندی امریکاکیلئے بہت بڑاخطرہ ہے۔امریکاکی نئی قومی سلامتی حکمت عملی کے اعلان کے بعدایسالگتاہے کہ دنیا ایک نئی سرد جنگ کے دورمیں داخل ہورہی ہے جس میں امریکا اوراس کے حلیف ممالک ایک طرف اوردوسری طرف روس اورچین اپنے حلیف ممالک کے ساتھ ہوں گے ۔دریں اثناء چین نے امریکاکومتنبہ کیاہے کہ اگر امریکااپنے جنگی بحری جہاز جنوبی چین کے سمندی جزیرے ہوانگ یان کے پانیوں میں داخل ہوئے توچین اپنی قومی خودمختاری کے تحفظ کیلئے فوری ضروری اقدامات کرنے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کرے گا۔ اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز ایس ایس ہوپرجوگائیڈڈمیزائلوں سے لیس ہے چینی حکومت کی اجازت کے بغیرچینی جزیرے ہوانگ یان کے ۱۲ناٹیکل میل کے اندرسمندری پانیوں میں رہا۔ چین کی بحریہ کے شناختی اوروارننگ نظام سے شناخت کے بعدامریکی جہازکی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے اور امریکا کووارننگ دی گئیکہ فوری طورپرامریکی بحری جنگی جہاز کوجنوبی چین کے پانیوں سے نکالاجائے ورنہ چین اس کے خلاف سخت اقدام کرے گا۔

دوسری طرف روس نے متنبہ کیاہے کہ شمالی افغانستان بین الاقوامی دہشتگردی کامرکزبن چکاہے ۔ایران نیوکلیئرڈیل امریکاکی دستبرداری کے نتیجے میں ختم ہوجائے گی۔واضح رہے کہ ابھی تک امریکا نے ڈیل ختم نہیں کی بلکہ اس میں موجودہ خامیوں کودورکرنے کی بات کی ہے۔دریں اثناء روس اورچین نے نئی امریکی دفاعی حکمت عملی کی شدیدمذمت کی ہے جس میں روس اورچین کی مسابقتی قوتوں کوامریکی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قراردیا گیا ہے ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کاکہناہے کہ چین عالمی پارٹنرشپ کاخواہاں ہے اور اس کے عالمی بالادستی کے عزائم نہیں ۔چینی ترجمان نے اپنے بیان میں کہاہے کہ اگرامریکاسمیت بعض ممالک سردجنگ اورزیروگیم مائنڈسیٹ سے دنیاکے مستقبل کودیکھ رہے ہیں توپھرمحاذآرائی اور تنازعہ ہی ان کا مقدرہوں گے جبکہ روس کے وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ نئی اعلان کردہ امریکی دفاعی حکمت عملی میں روس اورچین کو ہدف قراردینے کامقصدیہ معلوم ہوتاہے کہ امریکانے محاذآرائی کے مطمع نظرکواپنالیاہے۔واضح رہے کہ چینی فوج کے انتباہ کےبعدامریکی بحری جنگی جہازمتنازعہ علاقے سے فرار ہوگئے ہیں۔

امریکااوراسرائیل کی پالیسیوں سے صاف نظرآرہاہے کہ وہ اب بھارت کوآگ میں جھونکنے کی کوشش کررہے ہیں۔پہلے امریکیوں نے کوشش کی کہ بھارت چین کے ساتھ لڑے ، چینی سرحدپراسلحہ بھی پہنچادیاگیالیکن بعدازاں بھارت چینی فوج کی تیاری دیکھ کرڈرگیا۔بھارت کے انکارکے بعد امریکااوراسرائیل نے بھارت پریہ دباؤڈالناشروع کر دیااگرچین نہیں توپاکستان پرحملہ کرو، امریکااور اسرائیل درحقیقت پاکستان کی ایٹمی قوت اور اس کے جوہری پروگرام بالخصوص میزائل ٹیکنالوجی کاخاتمہ چاہتاہے کیونکہ پاکستان اپنے حالیہ میزائل تجربوں سے اپنی قوت کااظہارکرچکاہے۔ بھارت کاخوف دورکرنے کیلئے بھی امریکااور اسرائیل نے افغانستان کوبھی پاکستان مخالف حملہ میں ملوث کیاہے اوراس مقصد کیلئے ''را''اور''این ڈی ایس''کے روابط کوبڑھا کریہ طے کیا گیاہے کہ جونہی بھارت پاکستان پرحملہ کرے تودوسری طرف سے افغانستان بھی پاکستان پرحملہ کردے۔

ان حملوں سے قبل مکتی باہنی کی طرزپرایک آپریشن شروع کردیاگیاہے۔اس مقصد کے تحت پاکستان کے بعض سیاستدان افواج پاکستان کے خلاف زہر افشانی کررہے ہیں اورسوشل میڈیاکاسہارالیاجارہاہے۔یہ نام نہادلبرل پاکستانی اداروں کےخلاف بیانات شیئرکررہے ہیں۔حال ہی میں ایک پاکستانی سیاست دان نے دہلی میں اسرائیلی وبھارتی وزرائے اعظم سے ملاقات کی اورپالیسی پراداروں کے خلاف زہراگلا۔ حکمت عملی کے تحت افغانستان میں دہماکے کروا کران کاملبہ پاکستان پرڈالاجارہاہے اور مستقبل میں انہی دہماکوں کو حملے کاجواز بنانے کاامکان ہے۔اس دوران پاکستان میں خود کش حملوں سے آغازکیا جائے گا۔ قبل ازیں پاکستان کو معاشی طورپرکنگال کرنے، پاکستانی زراعت تباہ کرنے اور بھارت سے تجارت کرنے،پاکستانی حکومتوں کے ذریعے ڈیم تعمیرنہ کرنے اورنام نہاد پاکستانی معاشی مینجرزکے ذریعے پاکستان کو قرضوں میں لادنے کی تمام حکمت عملیاں ناکام ہوچکی ہیں اوراب ان چالوں کا بھانڈہ فاش ہوچکاہے،اس لئے اب ان کے پاس کھلی محاذ آرائی کے سواکوئی راستہ باقی نہیں بچا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے حالیہ بھارتی دورے میں امریکی سی آئی اے چیف نے بھارتی خفیہ ایجنسی''را''کے سربراہ سے ملاقات کی اورمتعددحکمت عملیوں پرتبادلہ خیال کیاگیا۔

دوسری طرف جن دنوں اسرائیلی وزیراعظم بھارت کے دورے پرتھے، ٹھیک انہی دنوں میں یورپی ممالک کے خفیہ اداروں کے سربراہان کا اجلاس تل ابیب میں ہورہاتھا۔دراصل امریکادنیاپراپنی حکمرانی کی گرفت کھوچکاہے،دنیابھرکے ملکوں کی اس بدلتی ہوئی سیاست میں اسرائیل، امریکااوربھارت کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔دنیاکے ملکوں پرامریکی گرفت کھونے کی تازہ ترین مثال بیت المقدس کویکطرفہ طورپراسرائیل کادارلحکومت قراردینے کے امریکی فیصلے پراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ووٹنگ تھی جس میں دنیاکے ملکوں کی اکثریت نے امریکااوراسرائیل کی دہمکیوں کی کوئی بھی پرواہ نہیں کی اور ٹرائیکاکوسخت ہزیمت کاسامناکرناپڑا۔

انہی حالات کے پیش نظرفوج کے سپہ سالار جنرل باجوہ کی کورکمانڈرزکی میٹنگ کے بعدآئی ایس پی آرکی طرف سے یہ اعلامیہ جاری کیاگیاکہ اب آئندہ بھارت کی طرف سے کسی قسم کی جارحیت کافوری اورسخت ترین جواب دیا جائے گا اور پاکستان کی سلامتی پرکسی بھی قسم کی کوئی بھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ بین السطورمیں یہ سمجھادیاگیاہے کہ پاکستان کی سلامتی کیلئے ہر راست اقدام اٹھانے میں لمحہ بھر تاخیر نہیں کی جائے گی۔ پھر دوسری طرف روس اورچین بھی امریکی پینٹاگون کی طرف سے عملی دہمکی کوبخوبی سمجھ گئے ہیں اوراس خطے میں ہونے والی کوئی بھی جارحیت سے پہلے ہزارمرتبہ سوچناہوگا۔حال ہی میں شمالی کوریاکے رہنماء کی بہن کاجنوبی کوریاکا کامیاب دورۂ بھی خطے میں تبدیلی کاواضح اشارۂ ہے جس سےامریکی سیاسی ودفاعی تجزیہ نگارچونک گئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بھارتی دورے کے فوری بعدبھارتی وزیر اعظم مودی کافلسطین کادورۂ کے وہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے جس کی امید تھی۔

ادھر مقبوضہ کشمیرمیں آزادی کی جدوجہدکرنے والے اب کھل کربھارتی سیکورٹی فورسزپرحملہ کرکے نہ صرف اپنے ساتھی کو چھڑا کر لے گئے۔ پولیس سربراہ ایس پی وید کے مطابق اس حملہ میں جونئر کمیشنڈ آفیسر مدن لال چودھری اور صوبیدار محمد اشرف میر ہلاک اور۹/افراد زخمی ہوئے جن میں کرنل روہت سولنکی، میجر ابھجیت، لانس نائک بہادر سنگھ، اور ۵سویلین شامل ہیں،جن میں سے چند ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ان تمام کا تعلق فوجی اہلکاروں کے کنبوں سے ہے ۔ اس معاملے پرکٹھ پتلی مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بھی بی جے پی کے ارکان کے متعصب رویے کے بعد نیشنل کانفرنس کے سنیئررہنماء اورسونہ ٔ واری کے کشمیری رکن محمداکبرلون نے نہ صرف واشگاف اندازمیں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایابلکہ اسطرح کے عمل کوجوابی ہتھیارکے طورپرمزیداستعمال کرنے کے عزم کااظہاربھی کیا۔ان بگڑتے ہوئے حالات میں جنرل ضیاء کی کرکٹ ڈپلومیسی میں ان کا راجیوکوانتباہ بھی یقیناًیاد ہوگا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 231804 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Feb, 2018 Views: 419

Comments

آپ کی رائے