برقی سُخن کا درشنی کھیل

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

برقی لہریں ہماری زندگی میں کچھ اس طرح داخل ہو چکی ہیں کہ وہ خیالات کی لہروں کے ساتھ مل گئی ہیں اور اب اندازہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ جو لہر میرے موبائل پر پیغام کی شکل میں آی ہے اس میں بھیجنے والے کا اور بھیجنے والے کی سوچ کا کس حد تک دخل ہے اور یہ اس کا ہاتھ پڑ گیا ہے اسکرین پر یا اگر ارادہ بھی تھا تو اس کا خود کا خیال ہے یا کسی خیال کو اس نے صرف آگے بڑھایا ہے اور وہ اس سے متفق بھی ہے یا صرف اس نے برقی پسندیدگی لائک وصول کرنی ہے یا واقعی کسی آئے ہوئے اچھے پیغام کو دوسروں کے ساتھ شئر کرنا ہے -

بہر حال یہ ایک بہت بڑی سہولت ہےجس کا بہت اچھا استعمال ہو سکتا ہے لیکن آپ اپنی سوچ کو کسی پر مسلط نہیں کر سکتے اور نہ ہی اتنی آسانی سے وہ تسلط قبول کرے گا-

بچپن سے وڈیو گیم دیکھتے آے ہیں اور اس کا اردو نام شاید درشنی کھیل ہی ہو گا ہم بھی ایک زمانے میں اس میں محو ہو جاتے تھے کہ پھر کسی کا ہوش نہ رہتا اور آج کل بھی بچے اسی طرح مصروف ہیں اور مصروفیت بہت اچھی چیز ہے کھیل میں اگر دوسری ضروری مصروفیات متاثر نہ ہوں اور زہن کی ورزش کے ساتھ جسمانی ورزش بھی بے حد ضروری ہیں اور ان برقی کھیلوں میں کیا کسی چیز میں بھی آدمی ایسا محو ہو جاتا ہے کہ
نہ جنوں رہا نہ پری رہی
جو رہی سو بے خبری رہی

اور اس میں کم از کم ہاتھ اور زہن یکسو ہوتے ہیں اور اپنے مقصد میں اس لمحہ مخلص ہوتے ہیں اور ہاتھوں کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے برقی لہر بھیجتے ہیں کہ جس سے وہ ساکن تصویر متحرک ہو جاتی ہے اور آپ کے اشاروں پر ناچنا شروع ہو جاتی ہے اسکرین پر اور اگر وہ آدمی کی تصویر ہے جو آپ کی خاطر رکاوٹیں عبور کرتا بھاگا چلا جا رہا ہے اور جُہد مسلسل کی عملی شکل بن کر آپ کے ہاتھوں اور زہن کو اور آنکھوں کو تھکا دے اور خود برقی تسلسل کے منقطع ہونے تک نہ تھکے اور انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت اور بچوں کا پسندیدہ خودکار سپوت اور کبھی دستی بھول چُوک اور برقی غلطی سے بنے گیم اوور کا تابوت اور شکست کے احساس سے آپ مبہوت اور اس شور کے بعد گہرا سکوت اور اسکرین پر نمودار ہو پھر سے وہ بھوت اور اس کے سبک رفتار کرتوت ادب بھی کافی حد تک برقی ہوتا جا رہا ہے اور میں بھی اپنی تحریر کی بورڈ موبائل پر ہی لکھتا ہوں جو قلم کتاب کا متبادل بنتا جا رہا ہے مگر کتاب کی آج بھی اپنی ہی ایک بات ہے اور خاص افادیت ہے لیکن اون لائن علم سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی نقصانات سے پہلو تہی کی جاسکتی ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 28 Articles with 11681 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Feb, 2018 Views: 542

Comments

آپ کی رائے