روح کا سفر

(ن سے نعمان صدیقی, Karachi)

گردن گردن دنیا میں ڈوبا دنیاداری کے سفر میں رستہ طے کرتا زندگی کے سفر میں رواں دواں اور نیکی کے سفر میں ناتواں وقت اپنی رفتار سے گزر رہا تھا اور وہ اپنی رفتار سے گزر رہا تھا جو زہنی طور پر کچھ اور حقیقی طور پر کچھ میرے قلم کو اذن تکلم مل چکا تھا اور اُس خطا کار کو اذن ِسفر اور وسیلہ ظفر مل چکا تھا -

کسی نے اسے بتایا کہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ خطا کاروں کی قسمت بھی جاگ جائے اور وہ بھی جاگ چکا تھا اور جاگتے میں بھی غفلت کی نیند سو رہا تھا کہ کسی نے کہ دیا کہ سفر پر روانگی کا وقت آگیا ہے اور ابھی ایک سفر سے واپسی ہو چکی تھی لیکن یہ سفر کچھ اور طرح کا تھا جو اکیلے کرنا تھا اور یہ ملاقات طے ہو چکی تھی کہ کسی کے گھر کے چکر لگانے تھے جو کہتا ہے کہ وہ سب جگہہ موجود ہوتا ہے -

مگر انسان کو یہ آسانی مل گئ تھی کہ جسے دیکھا نہ جا سکتا ہو جس کی بڑای کی کوی حد نہ ہو جو ایک ہے اور اس جیسا کوی نہیں اور آپ اس کے گھر جا سکتے ہیں اور جو آپ کے دل میں بھی رہ سکتا ہو
لیکن ساتھ ایک ڈر بھی موجود ہو کہ وہ سفر کا ارادہ تو کر رہا ہے لیکن اس کی خود کی حالت کیا ہے اور جس کے گھر جارہا ہے کہیں وہ ملنے سے انکار تو نہیں کر دے گا مگر یہ تو وہم تھا یقین تو کچھ اور کہہ رہا تھا کہ وہ تو ہر وقت ہر ایک سے ملنے کو تیار رہتا ہے اور کوی چل کر آے تو وہ دوڑ کر آتا ہے اور جس نے سچا ارادہ کیا اس کی طرف جانے کا تو وہ قبول کر لیتا ہے اور وہ ظاہری حالت سے زیادہ ایک چھوٹے سے عمل کے پیچھے چُھپے اخلاص کو پسند کر لیتا ہے جو اس کو نہیں مانتے وہ تو ان کا بھی خیال کرتا ہے
کسی نے کیا بات کہی ہے کہ ٹوٹے دل میں تو خدا رہتا ہے

یقین اور وسوسوں کے درمیان پرواز کرتے ہوے اس کے جہاز کی پرواز جاری تھی جس میں کبھی کبھی ہچکولے بھی آے لیکن اس کے لئے کوی نئ بات نہ تھی اور زندگی میں وہ خود اتار چڑھاو نشیب و فراز نیکی بدی کے درمیان اس سے زیادہ ہچکولے کھاتا یہاں تک پہنچا تھا اور یہاں تو بڑا آرام تھا اور وہ پُر لطف جھونٹے تھے جو اس کی روح اور جسم کو ایک لطیف احساس دے رہے تھےاور منزل بلارہی تھی اور منزل تسلی دینے کے لیے ساتھ موجود تھی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور جس کے گھر جانا تھا وہ خود ساتھ تھا اپنے گھر لے جانے کو اور اس نےکب کسی کو اکیلے چھوڑا ہے اور اس وقت تو اسی کے گھر جانا تھا اور وہ خود لے کے جا رہا تھا اس سے بڑا شرف اور کیا ہوسکتا ہے اور آہستہ آہستہ گزرتے وقت تیزی سے گزر گیا اور وہ سامنے موجود تھا وہ کالا رنگ جو سب کو جزب کر لے اور نگاہ نہ ہٹے اور آدمی بھول جاے کہ وہ کیا کرنے آیا ہے اور اس نے کیا مانگنا ہے اور اس سے پہلے تو اس نے بڑا سوچا تھا کہ سب کچھ اس گھر سے سمیٹ کر لے آے گا اور اب صرف اسے تکتا رہے اور اس کے علاوہ کچھ نہ ہو یہی تو مقصد تھا جو مل چکا ہے -

پھر آہستہ آہستہ وہ عام انسانی کیفیات میں واپس آنے لگا کہ انسان جو ٹھیرا مگر روح تو کچھ اور چاہتی ہے مگر مجبور ہے اور جسم میں قید ہے اور جسم کی اپنی ضروریات ہیں اور روح تو کہیں سے ہو کر بھی آجاتی ہے اور آپ وہیں سو رہے ہوتے ہیں اور روح کے سفر کے لیے جسمانی سفر کی نہیں بلکہ اپنے اندر اتر کر اپنے اندر کو مطمئن کرنا ہوتا ہے پھر روح کا سفر شروع ہوتا ہے اور کچھ سب سے آگے نکلے اس سفر میں اور اتنا مطمئن ہوے کہ ہمیشہ کے لئے لکھ دیا گیا-

يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ

اے اطمینان والی روح۔

اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً

اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ن سے نعمان صدیقی

Read More Articles by ن سے نعمان صدیقی: 28 Articles with 11370 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Feb, 2018 Views: 598

Comments

آپ کی رائے