اور مودی فلسطین بھی ہو آئے۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ اس کے ذہن میں مثبت و منفی خیالات گردش کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی کوئی شخصیت بہتر اور کارآمد کام انجام دیتی ہے تو اس کے پیچھے مختلف خیالات کی حامل شخصیات مختلف پہلوؤں سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ہند۔اسرائیل وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کا موقع ہو کہ ہند۔فلسطین کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا دور۔ ہر موقع پر تجزیہ نگاروں نے مثبت و منفی پہلوؤں پر اظہار خیال کرنے کوشش کی ہے اور عام عوام بھی اپنی اپنی سونچ و فکراور نظریات کے ذریعہ ہندوستان کے اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ تعلقات پراظہار خیال کیا ہوگا۔ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر فائز ہونے کے بعد سے دنیا کے کئی ممالک کا سفر کرتے ہوئے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ لئے ،دوستانہ ماحول میں ہندوستان اور دیگر ممالک کے درمیان، ترقی و خوشحالی کی فضاء بنانے یا قائم رکھنے کی سعی میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ دنوں فلسطین ،متحدہ عرب امارات اور عمان کا کامیاب دورہ کرکے یہ بتانے کی کوشش کئے ہیں کہ ہندوستان اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھتے ہوئے مزید ترقی کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ گذشتہ ماہ جنوری میں اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہوکی ہندوستان آمد اور اس سے قبل جولائی 2017میں ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیلی دورہ کئی غلط فہمیوں کا باعث بنا تھا۔ لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے ان غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے یا پھر فلسطین کے ساتھ قدیم دوستانہ تعلقات کو بحال رکھنے کے لئے رملہ پہنچ گئے ۔ نریندر مودی فلسطین کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں،فلسطینی صدر محمود عباس نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندرمودی کا سرخ قالین استقبال صدارتی کمپاؤنڈ المقاطعہ (رملہ ) میں کیا ۔ وزیراعظم ہند نے رملہ پہنچنے کے بعدفلسطینی رہنما یاسرعرفات مرحوم کی قبر پرحاضری دی اور پھول مالا رکھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں قائدین مودی اور عباس نے ہند۔فلسطین کے درمیان ثمر آور کاز کیلئے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اورصدر محمود عباس نے فلسطین کی تازہ ترین صورتحال سے وزیراعظم ہندکو واقف کروایا ۔اس موقع پر ہند ۔فلسطین کے درمیان فریقین نے 50ملین ڈالر کے چھ معاہدات پر دستخط کئے ان معاہدات میں 30ملین ڈالر کے مصارف سے بیت السحر میں ایک سوپر اسپشالیٹی ہاسپٹل کے قیام کا معاہدہ شامل ہے۔ تعلیمی شعبہ میں پانچ ملین ڈالر کے مصارف کے حامل تین معاہدات پر بھی دستخط ہوئے۔ نیشنل پرنٹنگ پریس کیلئے مشنری اور آلات کی خریدی معاہدہ کے علاوہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ایک مرکز کی تعمیر کے معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔ محمود عباس نے ہندوستانی وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ بیان میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ہندوستانی قیادت نے ہمیشہ ہی فلسطین میں امن کازکی تائید کی ہے ۔ انہوں نے موجودہ حالات میں ہندوستان کی حمایت طلب کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ’’منصفانہ اور پسندیدہ امن‘‘ کیلئے توجہ دلائی اور کہاکہ فلسطین 1967ء میں بین الاقوامی سطح پر منظورہ جائز قراردادوں کے خطوط پر دومملکتی حل کے مطابق آزادی حاصل کرنے مذاکرات کیلئے تیار ہے تاکہ فلسطین اور اسرائیل دونوں ہی امن و سکون میں رہیں۔ بشرطیکہ مشرقی یروشلم، مملکت فلسطین کا دارالحکومت ہو۔ ہندوستانی وزیر اعظم نے صدر فلسطین کو یقین دلایا کہ ہندوستان ، فلسطینی عوام کے مفادات کا پابند ہے۔ ہندوستان فلسطین کی ترقی کے سفر کی ہمیشہ حمایت کریگا۔ مودی نے اس امید کا اظہار کیا کہ فلسطین بہت جلد بات چیت کے ذریعہ پرامن فضاء میں ایک مقتدر اعلیٰ اور آزاد ملک بن جائے گا۔ نریندر مودی نے کہا کہ ہم فلسطین میں امن و استحکام کی امید رکھتے ہیں، بات چیت کے ذریعہ ایک مستقل حل ممکن ہے۔ سفارتی سطح پر اور دوراندیشی کے ذریعہ ہی ماضی کے پرتشدد حالات سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ آسان کام نہیں لیکن ہمیں کوشش جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ فلسطین کئی زاویوں سے اہمیت کا حامل ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آخر کار12؍ فبروری کو اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ وہ یہودی آبادکاری کے معاملے میں احتیاط سے کام لیں کیونکہ اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیلی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ فلسطین اور اسرائیل امن مذاکرات کے لئے فی الحال راضی ہیں۔ امریکی صدر نے یہودی بستیوں کے حوالے سے کہا کہ ان بستیوں نے ہمیشہ پیچیدہ صورتحال پیدا کی ہے اور انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ان بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے وہ پورا کرچکے ہیں ۔ امریکی صدر کی جانب سے ڈسمبر 2017میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے یروشلم کو امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلہ پر فلسطینی حکومت ناراض ہے کیونکہ اسرائیل کا دعوی ہے کہ یروشلم پورا شہر اس کا دارالحکومت ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم ان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا ۔ فلسطینی صدرمحمود عباس نے امریکی صدر کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد امریکہ کو مزید ثالث کی حیثیت سے قبول کرنے سے انکار کردیئے ہیں اور وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی رابطے کو مسترد کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ فلسطینی صدر کی جانب سے سخت رویہ اپنائے جانے کے بعد ٹرمپ نے اپنے رویہ میں نرمی لائی ہو۔ اس کے علاوہ فلسطینی صدر محمود عباس روسی صدر ولادیمیر پوٹین سے ملاقات کے لئے ماسکو روانہ ہوئے ،سمجھا جارہا ہے کہ یہ ملاقات یروشلم کے مسئلہ پرولادیمیر پوٹین کی تائید حاصل کرنا ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلہ کے بعد عالمِ عرب اور اسلامی دنیاکے علاوہ بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے اور انکی مذمت کی گئی ۔فلسطین اور اسرائیل کے درمیان موجودہ حالات کے موقع پر ہندوستانی وزیر اعظم کا دورۂ فلسطین ایک خوش آئند اقدام ثابت ہوسکتا ہے۔ ہندوستان نے اس سے قبل بھی یروشلم کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی تائید و حمایت میں ووٹ دیا ہے ۔ اب رہا ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کامسئلہ تو اس سلسلہ میں پہلے ہی بتایا جاچکا ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم اپنے دوست اور دشمن یا دوست کے دشمن ہر ایک کے ساتھ بہتر اور خوشگوار تعلقات بنانے اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر یعنی ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘پر عمل پیرا ہیں ۔ وزیر اعظم کادورہ متحدہ عرب امارات کے موقع پر ابو ظہبی کے ولیعہد محمد بن زاید النہیان اور شاہی خاندان کے دیگرارکان نے خیر مقدم کیا ۔عرب امارت کے بعد وزیر اعظم مسقط عمان کے دورے پر پہنچے ۔ مسقط ایرپورٹ پر عمان کے نائب وزیر اعظم سید فہد بن محمود السعید نے شاندار پیمانے پر ان کا استقبال کیا۔ مسقط میں ہندوستانی تارکین وطنوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے نیو انڈیاکے خواب کو ہر حال میں پورا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فلسطین ، متحدہ عرب امارات اور مسقط کے کامیاب دورے کے بعد دیکھنا ہیکہ مودی ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اپناتے ہیں۔ ملک میں آئے دن مسلمانوں پر فرقہ پرست ہندوتوا دہشت گرد مظالم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اگر مودی واقعی اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہیکہ ملک کے تمام اقلتیوں کے ساتھ مساویانہ رویہ اختیار کریں اور اقلیتوں کے ساتھ جو ناانصافی ہورہی ہے اس کا سدِباب ہو۔ اب تک ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے جن عرب و اسلامی ممالک کا دورہ کیا ہے وہاں انکا شاندار استقبال کیا گیا اور ان ممالک کی جانب سے ہندوستان کی ترقی کے لئے مثبت پیشقدمی بھی دیکھی گئی ۔ ان ممالک کے دورے کے بعد بھی مودی ہندوتوا دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے ہیں اور خاموشی اختیار کرتے ہیں تو اس سے ملک میں بدامنی پھیلنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتااور جب کسی بھی انسان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو وہ بدلہ لینے پر مجبور ہوجاتا ہے اور پھر اس سے ملک میں امن وسلامتی کا مسئلہ درپیش ہوگا اور ملک ترقی و خوشحالی کے بجائے تنزل اور پستی کے طرف چلا جائے گا ۔ ایک دوسرے کے خلاف بدلہ کی آگ سے عام عوام ڈرو خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ان حالات سے قبل وزیراعظم ملک میں امن وآمان کی بحالی کے لئے مؤثر اقدامات کریں۔

ترکی کا بیت المقدس میں ریسرچ سینٹر قائم کرنے کا اعلان
ترکی کے محکمہ تعلیم نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک ریسرچ سینٹرقائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ القدس میں ریسرچ سینٹر کے قیام کا مقصد مقدس شہر کے دفاع کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ترکی سے نشریات پیش کرنے والے ٹی آر ٹی ٹی وی چینل کے مطابق القدس میں نئے ریسرچ سینٹر کے قیام کا مقصد القدس کے دفاع میں رائے عامہ ہموار کرنا اور بیت المقدس کے عرب، اسلامی اور فلسطینی تشخص کو قائم رکھنا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بیت المقدس میں ریسرچ سینٹر مرمرہ یونیورسٹی کے ماتحت قائم کیا جائے گا۔ القدس ریسرچ سینٹر سے بیت المقدس کی تاریخ، ثقافت، فلسطین کے سماجی ڈھانچے اور القدس کی سیاسی اور جغرافیائی حیثیت کا دفاع کرنا ہے۔بتایا گیا ہے کہ ریسرچ سینٹر میں متعدد ورکشاپس قائم کی جائیں گی۔ القدس کے حوالے سے آگاہی مہمات چلانے کے ساتھ قومی اور عالمی سطح پر القدس کے تحفظ کے لیے مہم چلائی جائے گی۔

افغانستان سکیورٹی فورسز کا فضائی حملہ 43طالبان ہلاک
افغانستان میں طالبان کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا اور یہ سلسلہ کتنی طول اختیار کرے گا اس سلسلہ میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ امریکہ اپنی ناکامی کا اظہار تو نہیں کیا لیکن طالبان کے کئی حملوں نے امریکہ کی ناکامی کو واضح کیا ہے ۔ طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ختم کرنے کے لئے افغانستان میں سیکوریٹی فورسس کی جانب سے حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس میں کمی کا امکان بڑی مشکل سے نظر آتا ہے ۔افغانستان میں سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں میں کم از کم 43 طالبان ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرازق نے بتایا کہ صوبہ قندہار کے ضلع ینش میں طالبان کی جانب سے ایک سیکیوریٹی چوکی کو نشانہ بنائے جانے کے بعدسیکیوریٹی فورسز نے فضائی حملہ کیا جسکے نتیجے میں کم از کم 43 طالبان ہلاک جبکہ بیس سے زائد زخمی ہوگئے انہوں نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں طالبان کی متعدد گاڑیاں ،بھاری تعداد میں اسلحہ اور دیگر ہتھیار بھی تباہ ہوئے ہیں طالبان نے حملے کی تصدیق نہیں کی۔ اگر واقعی سیکیوریٹی فورسز کے فضائی حملے میں طالبان اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں تو افغان عوام کو اپنی سلامتی کے لئے تیار رہنا ہوگا کیونکہ اس کے جواب میں طالبان کہیں پر بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100224 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Feb, 2018 Views: 407

Comments

آپ کی رائے