کشمیر کونسل کا خاتمہ اور پاکستان سے رشتہ

(Raja Zakir Khan, )

قوموں کی زندگیوں میں کچھ مراحل اور مواقعے ایسے آتے ہیں،ان مواقعوں اورمراحل پر کیے گئے فیصلے دراصل قوموں کے عروج اور زوال کا باعث بنتے ہیں،کشمیری قیادت کے سامنے آج یہی چیلنج درپیش ہے،آج اگر درست فیصلہ کردیاتو کشمیرکی آزادی کی منزل بھی حاصل ہوگی اور کشمیریوں کو باوقار اور باختیارنظام حکومت بھی ملے گا،آج اگر ذاتی ،گروہی اور وقتی مفاد کو سامنے رکھا گیاتواس کی سزا پوری قوم بھگتے گی،کہتے ہیں لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی کے مصداق نہ صرف کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ایک صدی تک پوری قوم او رقیادت صحرانوردی پر مجبور ہوگی۔

آزاد کشمیرحکومت کے اختیارات کیوں کم ہوئے؟کشمیرکونسل کی متوازی حکومت کیوں مسلط ہوئی ؟ان سوالا ت کے جوابات کا وقت نہیں ہے،آزاد کشمیرکی پوری قوم اور قیادت اس بات پر یک جان اور یک زبان ہے کہ بیس کیمپ کی حکومت کو باوقار اور بااختیار بنایا جائے،وہ سارے اختیارات جو کونسل کے پاس ہیں وہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں۔

کونسل کے خاتمے اور آزادکشمیر گلگت بلتستان کی حکومتوں کو اختیارات دینے کے حوالے سے تاریخ میں پہلی مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پوری قوت کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھایا اور کہا کہ کشمیریوں پر اعتماد کیا جائے کشمیر کونسل کی صورت میں متوازی حکومت کو ختم کیا جائے آزادکشمیر حکومت کا ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور کشمیریوں کو این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں سے زیادہ حقوق دئیے جائیں ،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سراج الحق نے توجہ دلائی کہ حکومت پاکستان ضلع راولپنڈی کے نالہ لئی کے برابر سالانہ بجٹ آزادکشمیر کو فراہم کرتی ہے جو نہ صرف ناکافی ہے اس کو بڑھایا جائے ۔

ایکٹ74میں ترامیم کے حوالے سے آزادکشمیر اسمبلی میں پہلی بار 1998میں ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی نے پرائیویٹ بل جمع کروایا جو کسی وجہ سے اسمبلی میں ڈیبیٹ کے لیے پیش نہ ہوسکا لیکن اس کا آغاز جماعت اسلامی نے کیا اور نہ صرف پرائیویٹ بل تک محدود رہا بلکہ جماعت اسلامی کی قیادت نے ہر سطح پر بات کی اور ترامیم کے حوالے سے توجہ دلائی گئی اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے بھی بھرپور کردار اداکرتے رہے ہر محفل میں وہ اس کو موضوع بحث بناتے رہے بعض اوقات تو وزیر امور کشمیر کی موجودگی میں بھی اس کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔

ایکٹ 74میں ترامیم کے لیے پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت کے دور میں کئی مرتبہ آل پارٹیز کانفرنسز کا انعقاد ہوا جس میں آئینی ترامیم کے پیکج پر غور وخوض ہوا اور یہ طے پایا کہ تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیاں اپنی اپنی تجاویز دیں تا کہ ایک جامع پیکج تیار کیا جائے اور اس کو حکومت پاکستان کے سامنے پیش کیا جائے اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے ان تجاویز پر غور کے بعد ایک پیکج کی صورت میں پیش کیا ۔پیپلزپارٹی کی حکومت میں اس پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔

کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل سابق امیر جماعت اسلامی و ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی نے آئینی ترامیم کے حوالے سے بھرپور انداز سے ہر فورم پر پیش کیا پاکستان کی قومی قیادت سے جب بھی ملاقات کا اہتمام ہوا تو اس کو ایجنڈے میں شامل رکھا پاکستان کے وزیر اعظم سے جب بھی پاکستان یا آزادکشمیر دورے کے موقع پر بات چیت ہوئی تو ایکٹ 74میں ترامیم کے ایجنڈے کو پیش کیا گیا ۔

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی 5فروری کے موقع پر مظفرآبادمیں کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لیے تشریف لائے تو اس موقع پر بھی ممبر قانون ساز اسمبلی عبدالرشید ترابی نے اس مسئلے کو اسمبلی کے فلور پر اپنی تقریر میں زیر بحث لایا اور وزیر اعظم پاکستان کو متوجہ کیا کہ وہ اس حوالے سے اقدامات کریں ،وزیر اعظم پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ وہ ضرور اس حوالے سے مشاورت کریں گے ۔

آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے بھی اس حوالے سے بھرپور کردارادا کیا اپنی قیادت سے دوٹوک انداز سے کہا کہ وہ کونسل کو ختم کریں اختیارات آزادکشمیر حکومت کو فراہم کریں تا کہ کشمیریوں کو باعزت اور باوقار نظام مل سکے ۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں اس وقت سیاسی بحران کی کیفیت ہے لیکن وزیراعظم پاکستان نے تاریخی اقدام کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند ہے اس سے تحریک آزادی کشمیر کو بھی جلا ملے گی اور بیس کیمپ کی باوقار اور بااختیار حکومت عوام کے مسائل بہتر انداز سے حل کرنے کی کی پوزیشن میں ہوگی ،ججز کی تقرریوں سمیت دیگر اختیارات جو کونسل کے پاس تھے وہ آزادکشمیر حکومت کو ملیں گے تو اس سے نظام میں بھی بہتری آئے گی کشمیریوں کو بھی اعتماد پید اہوگا اور مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی مثبت پیغام جائے گا ،بیس کیمپ کی حکومت کو باوقار اور بااختیار بنانے سے پاکستان کے ساتھ رشتے اور مضبوط ہوں گے ہندوستان جو غلط فہیماں پیدا کرنے کی سازش کررہا ہے اس میں بھی وہ ناکام ہو گا ۔

اس وقت پورے آزادکشمیر گلگت بلتستان میں متفقہ طور پر یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ یہاں کے نظام ہائے حکومتوں کو با اختیار اور باوقار بنایا جائے ،کچھ عناصر کا یہ واویلا کہ کونسل کے وجود کے خاتمے کے بعد پاکستان کے ساتھ ہمار ا تال میل کیسے قائم رہے گا تو عرض ہے کہ کشمیری پاکستان کی سلامتی بقاء اور تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں مقبوضہ کشمیر کے اندر تاریخ ساز قربانیاں تکمیل پاکستان کے لیے ہی پیش کی جارہی ہیں آزاد خطے اور گلگت بلتستان کے عوام بھی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ پوری شد ومد کے ساتھ لگار ہے ہیں مقبوضہ کشمیر کے اندر شہداء کے جست خاکی کو پاکستانی پرچموں میں لپٹ کر دفنایا جارہا ہے کرکٹ کے میچ کے آغاز کے موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جاتا ہے شاید یہ واحد مثال ہو کہ پاکستان میں بھی اس طرح کے مواقعوں پر قومی ترانہ نہیں بجایا جاتا ۔

ایکٹ 74اس پس منظر میں دیا گیا تھا کہ 1971ء میں پاکستان دولخت ہو چکا تھا بھارت کی سازشوں اور اپنوں کی کمزوریوں کے باعث شیخ عبداﷲ مایوس ہو کر اندرہ گاندھی کی جھولی میں بیٹھ گے تھے تحریک آزادی کشمیر کا وہ سٹیٹس نہیں تھا جو آج ہے ،آج پوری کشمیری قوم آزادی کا جھنڈا لیے میدان کار زار میں ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادی کے بیس کیمپ آزادی کی تحریک کو میسر ہے یہ دنیا کی واحد تحریک ہے جس کو ایک بیس کیمپ میسر ہے اس کو حقیقی بیس کیمپ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کے نظام حکومت کو بااختیار اورباوقار بنایا جائے تا کہ یہ اپنا کیس عالمی سطح پر پیش کرسکیں پاکستان بطور وکیل اور فریق اپنے انداز سے کیس پیش کرے بطور کشمیر ی جب اپنا کیس عالمی سطح پر پیش کریں گے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ہندوستان کے اس پروپیگنڈے کو بھی ناکامی کا سامنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر تحریک آزادی پاکستان سپانسرڈ ہے ۔

تحریک آزادی کشمیر کو منزل تک پہنچانے اور تکمیل پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بیس کیمپ کے کردار کو فعال کرنے کے لیے آئینی ترامیم کر کے وہ سارے اختیارات جو ضرورت ہیں وہ فراہم کیے جائیں اس سے کشمیر ی عوام میں پاکستان کی محبت میں اور اضافہ ہو گا ۔پاکستان سے رشتہ مضبوط ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Zakir Khan

Read More Articles by Raja Zakir Khan: 4 Articles with 1277 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Feb, 2018 Views: 235

Comments

آپ کی رائے