وہ زباں جس کو سب کُن کی کنجی کہیں

(Waseem Ahmad Razvi, India)

از افادات:حضرت مولانا پیر محمد رضا ثاقب مصطفائی نقشبندی (بانی ادارۃ المصطفیٰ انٹرنیشنل)

قربِ قیامت کے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛ سنن نسائی میں عبارت ہے کہ ایک موٹے پیٹ والا شخص پلنگ پہ بیٹھ کے کہے گا کہ حلال وہ ہی ہے جو اﷲ نے حلال کیا؛ حرام وہ ہی ہے جو اﷲ نے حرام کیا؛فرمایا الا انی اوتیت القرآن و مثلہ معہ مجھے قرآن دیا گیااور قرآن جتنے اور علوم بھی میرے سینے میں ڈالے گئے۔ جس کو مَیں حلال قرا ر دے دوں وہ ایسے ہی ہے جس طرح اﷲ نے حلال قرار دیا ہے۔ اور جس کو مَیں حرام قرار دے دوں وہ ایسا ہی ہے جس طرح اﷲ نے حرام قرار دیا ہے۔ یہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا اختیار تھا۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ جل شانہٗ نے اختیار عطا کیا تھابلکہ آپ دیکھیں کہ کتنے احکام ہیں جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا اور جو فرمایا ایسا ہی ہوا۔ حضور علیہ السلام گفتگو فرمارہے تھے کہ لوگوں حج کے لیے آیا کرو۔ تو اَقرع بن حابس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی ا کل عام یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیک وسلم؟ حضور ہر سال آیا کریں؟ تو حضورخاموش رہے۔ پھر فرمایا، ترغیب دی؛ لوگوں حج کے لیے آیا کرو۔ تو انہوں نے پھر کہا ا کل عام؟ حضور ہر سال آیا کریں؟ حضورپھر خاموش رہے۔ پھر حضور نے ترغیب دی تو انہوں نے پھر کہا ہر سال آیا کریں؟ حضور خاموش ہوگئے ۔ پھر وقفۂ سکوت کو توڑتے ہوئے فرمایا تم سے پچھلی امتیں نبیوں پر کثرت سوالات کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں۔ تو بار بارنہ پوچھا کرو لو قلت نعم لوجبت اگر میرے منہ سے ہاں نکل جاتی تو واقعی ہر سال واجب ہوجاتا۔

آپ مجھ سے کوئی مسئلہ پوچھیں اور میرے منہ سے کوئی چیز نکل جائے اور مسئلہ اس طرح نہ ہو تو بتائیے کہ مجھے معذت کرنا پڑے گی یا ایسے ہی ہوجائے گا؟ مجھے معذرت کرنا پڑے گی کہ جناب مسئلہ یوں نہیں تھا میری زبان سے یوں نکل گیا۔ لیکن یہاں ماجرا کیا ہے؟ لو قلت نعم کہ تم بار بار پوچھ رہے تھے ؛ میَں آپ کو روک رہا تھا، میں نے کچھ نہیں جواب دیا۔ تو اگرمیں ہاں کہہ دیتا تو واقعی ہر سال واجب ہوجاتا۔ ؂
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام

وہ ہاں کہہ دیں تو ہاں ؛وہ نا کہہ دیں تو نا۔ یہ تو مثال تھی حج کی۔ آؤ ! روزوں کی دیکھیے! …… صحیح حدیث میں ہے کہ حضور تشریف فرما ہوئے تو ایک صحابی آیا اور عرض کی حضور مَیں روزہ توڑ بیٹھا ہوں۔ …… اگر کوئی روزہ توڑ لے تو کیا حکم ہے؟ ۶۰؍ ساٹھ رکھے۔ حضور نے کہا کہ ساٹھ رکھ۔ اُس نے کہا کہ ساٹھ رکھنے کی ہمت ہوتی تو ایک ہی کیوں توڑتا؟ فرمایا پھر ایسے کر کہ غلام آزاد کر دے۔ اس نے کہا میرے میں اس کی ہمت نہیں ہے۔ کہا اچھا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادے۔ اس نے کہا مَیں تو اس کی استطاعت بھی نہیں رکھتا۔ اگر کوئی روزہ توڑ بیٹھے تو اس کے کفارے میں یہی تین صورتیں ہیں اور اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں یہی تین صورتیں ترتیب سے بتاؤں گا ۔ سب سے پہلا کام کہ وہ ساٹھ مسلسل روزے رکھے۔ اگر اس میں طاقت بدنی نہیں ہے تو پھر دوسرا آپشن ہے؛ کہ وہ غلام آزاد کرے۔ اور اگر اس کی طاقت بھی نہیں ہے تو پھر یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ نہیں ہے کہ اگر روزہ توڑ لیا ہے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادیا۔ ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے۔ ہمت نہیں ہے تو پھر دوسرا Step ہے اگر اس کی بھی ہمت نہیں ہے تو تیسرا Step ہے۔ اور اگر پھر یہ کوئی کہے کہ میں یہ بھی نہیں کرسکتا تو مَیں تو اس سے کہوں گا کہ تجھے کہا کس نے تھا کہ روزہ توڑ! …… لیکن اُس (صحابی) نے کہا کہ حضور مَیں ساٹھ مسکینوں کو بھی کھانا نہیں کھلا سکتا۔ حضور نے فرمایا بیٹھ جا۔ وہ بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کوئی آیا حضور کی خدمت میں کھجوروں کا ٹوکرا لے کرکے۔ اس نے حضور کی خدمت میں وہ نذرانہ پیش کیا۔ حضور نے فرمایا وہ مسئلہ پوچھنے والا کدھر گیا؟ وہ قریب میں بیٹھا تھا حاضر ہوگیا۔ حضور نے فرمایا یہ کھجوروں کا ٹوکرا لے لو اور جاکے ساٹھ مسکینوں میں بانٹ دو۔ تمہارے روزے کا کفارہ ہوجائے گا۔ اُس نے کہا کہ ان دو پہاڑوں کے درمیان میرے سے بڑا مسکین ہی کوئی نہیں۔ تو حضور اتنے مسکرائے کہ حضور کی داڑھیں صحابہ کو نظر آنے لگیں۔ فضحک النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی بدت نواجذہ حضور اتنا مسکرائے کہ حضور کی داڑھیں صحابہ کو نظر آنے لگیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا اچھا جا خود کھالے اپنے بچوں کو کھلادے تیرے روزے کا کفارہ ہوجائے گا۔(بخاری شریف)…… مجھے بتاؤ! حضور کے علاوہ یہ اختیار کس کو حاصل ہے؟یہ اﷲ کے محبوب علیہ الصلوٰۃ السلام کا اختیار ہے۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم جو کہیں وہ دین ہے، جو فرمائیں وہ دین ہے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم غصے میں کوئی بات ارشاد فرمائیں وہ بھی دین ہے، حضور مزاح میں کوئی بات ارشاد فرمائے وہ بھی دین ہے۔ آقا کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام مزاح میں بھی اور غصے میں بھی حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے۔ چوں کہ ہم مغلوب ہوجاتے ہیں؛ مسرتوں میں بھی، خوشیوں میں بھی درک جاتے ہیں، آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ اور غصے میں بھی، غضب کی کیفیت میں بھی آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ لیکن رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کی مرضی کے بغیر لب بھی نہیں کھولتے۔ اس لیے غصے میں بھی کچھ فرماتے تب بھی حضور حق فرماتے اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام مزاح میں بھی کچھ فرماتے تب بھی حق فرماتے۔
۲۴؍ فروری ۲۰۱۸ء(ماخوذ از افاداتِ مصطفائی(زیرِ ترتیب))
٭٭٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waseem Ahmad Razvi

Read More Articles by Waseem Ahmad Razvi: 82 Articles with 66539 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2018 Views: 1002

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ