تفسیرِ قرآن کیوں ضروری ہے؟

از طارق ظفر خان
تفسیرِ قرآن کیوں ضروری ہے؟
صرف ترجمہ کافی کیوں نہیں ہے؟
دنیا کی معاشرتی زندگی اور انسانی علم ترقی پذیر ہے
اس دنیا کے اندر کائنات کے بارے میں انسانی علم ایک تسلسل سےبڑ ھ رہا ہے اور بڑھتا ہی رہے گا۔ انسانی علم کا ایک بڑا حصہ ایسا بھی ہے جو پرانے علم کو جدید مشاہدات اور تجربات کی رو شنی میں رد کر چکا ہے۔عین ممکن ہے کہ وہ علم جسے ہم آج ثبوت کے ساتھ صحیح سمجھ رہے ہیں اگلے زمانوں میں کسی اور ثبوت کے ساتھ رد کر دیا جائے یا اس میں رد و بدل کر دی جائے۔ زندگی گزارنے کے طریقے ، معاشرہ اور سماج بھی بدلتا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی ترقی پذیر ہے ۔ علوم و فنون ، معاشرہ ، رہن سہن سب ترقی پذیر ہیں ۔ اس دنیا میں جو بھی ایجاد یا دریافت کی جاتی ہے یا جو بھی علم انسان کو حاصل ہوتا جاتا ہے، انسان اس کے مطابق حقیقت کی تعریف و تفسیر میں ترمیم ا ور وضاحت میں اضافہ کرتا رہتا ہے، اور اپنی زندگی کو نئے پیرائے میں ڈھالتا رہتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح قیامت تک جاری رہے گا ۔ اس کے علاوہ مستقبل میں جو کچھ انسانی علم ، معاشرت اور رہن سہن میں تاریخی تبدیلی آنے والی ہے اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ ایک اور علم کی ضرورت انسان بہت شدت سے اپنے اندر محسوس کرتا ہے، وہ ہے مقصد زندگی کا علم یا کیوں کا علم کہ انسان کیوں پیدا ہوا ۔ کوئی انسانی مشاہدہ یا تجربہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔

جہاں تک قابل مشاہدہ مادی کائنات کا تعلق ہے،موجودہ علم کے مطابق کائنات کی وسعت کا جو اندازہ لگایا گیا ہے وہ لامتناہی اور ناقابل ادراک خلاء اور وقت کے تانے بانے کا مسلسل بڑھتا ہوا پھیلائوہے ۔‌‏جدید مشاہدے کے مطابق کائنات کا قطر 93 بلین نوری سال ہے(تقریبا875×10¹² کلومیٹر ، یعنی 875 کے آگے 21 صفر لگائے جائیں)۔ اگر خلاء کے پھیلا‌وء کی رفتار کو مد نظر رکھا جائے تو ، اگر کائنات لا متناہی نہیں ہے، تو ریاضی کے حساب سے ایک اندازے کے مطابق قابل مشاہدہ اور ناقابل مشاہدہ کائنات کا مجموعی قطر 23 ٹرلین نوری سال یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، گویا مشاہدات کی سائنسی وضاحتیں مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ہر نیا مشاہدہ نئی معلومات فراہم کرتا ہے اور نئے سوالات کو جنم دیتا چلا جاتا ہے ۔ نئی ایجادات کے سہارے مشاہدہ کی حد بڑھنے کے ساتھ سارے کے سارے فلسفہ اور قیاسات دھرے رہ جاتے ہیں کیو نکہ مشاہدہ قیاسات کی دھجیاں بکھیر کر کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا ہے ۔۔یہ ہے انسانی علم بواسطہ حواس خمسہ یا بواسطہ آلات مکبر حواس خمسہ۔
تفصیل کی گنجائش نہیں ہے اس لیے مثال کے طور پر ہم دو جدید مشاہدات او ر ان کی بنیاد پر عصری معلوم کائنات کی مادی حقیقت کو دیکھتے ہیں جو کچھ یوں ہے:

۱۔ مثال کے طور پہ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار میں اسراع کے حیرت انگیز مشاہدے کے نتیجے میں سیاہ مادہ اور سیاہ توانائی کی دریافت-1998 ء کے ایک مشاہدہ کے مطابق اجرام فلکی کے پھیلنے کی رفتار میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے- یعنی کائنات کے پھیلا ؤ کی سرعت میں اضافہ ہی ہوتا جارہاہے - ظاہر ہے کہ رفتار میں اضافہ کرنے کیلیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اس تلاش نے سیاہ توانائی اور سیاہ مادے( ڈارک مے ٹر) کو دریافت کیا، لیکن یہ مادہ اور توانائی قابل شناخت نہیں ہے۔ اس مادہ اور توانائی کو ان کے قابل مشاہدہ اثرات کی وجہ بالواسطہ پہچانا گیا۔ یہ اندازہ بھی لگایا گیا ہے کہ اس ناقابل مشاہدہ توانائی اور مادے کی مقدار کائنات میں 95 فی صد ہے اور قابل مشاہدہ کائنات محض 5 فی صد ہے۔ گویا ہمارا علم اس مشاہدے کے مطابق کم ہو گیا یعنی صرف پانچ فیصد۔

۲۔1940ء کی دہائی میں قائم ہونے والی کوانٹم فیلڈ تھیوری کے مطابق ، " ہر چیز فیلڈ ہے ہر ذرہ ایک پوشیدہ فیلڈ کے سمندر میں ایک ارتعاش ہے "
یہ اس خیال کو تبدیل کر دیتا ہے جس نظریہ سے ہم آج تک مادے اور توانائی کو دیکھتے آئے ہیں"۔ ۔۔وہ پوشیدہ سمندر کیا ہے؟ اور ایک باریک ارتعاش مادہ کی بنیاد کیسے بنتا ہے ؟ صرف ارتعاش سے وزن اور حجم کیسے وجود میں آتے ہیں ، مزید پیچیدہ ساختیں جیسے مالیکیول، خلیہ وغیرہ کیسے بنتی ہیں یہ ایک حل طلب سوال ہے۔ ۔۔۔اور یہ سائنس کے غیر حل شدہ مسائل کی صرف ایک مثال ہے۔ تاریخ اور تجربہ یہی بتاتا ہےکہ سائنس کا علم کم ہے،ترقی پذیر ہے، محدود ہے اور سائنس ابھی تک طفل مکتب ہی ہے۔ ۔ کائنات اور اس دنیا میں ہمارے کردار کے بارے میں ہمیں انکشافی علم کی ضرورت ہے۔


قرآن انکشافی علم ہے اور قیامت تک کے لیے آیا ہے۔
قران جیسی بر حق اور معتبر کتاب میں کائنات کے بارے میں اور انسان کے دنیوی کردار اور مستقبل کے بارے میں، انسان کے وقت کے ساتھ بڑھتے ہوئےتجربے ،عقل اور اور علم کو مد نظر رکھتے ہوئے اطلاعات و ہدایات اورپیشگوئ موجود ہے۔ لیکن جب علم کم ہو اور تجربہ محدود ہو ۔۔حقائق۔۔ کم علمی کی وجہ سےجزوی یا کلی طور پر چھپے ہوئے ہوں، تو انکشافی علم کو اس کی تفسیر کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ہر نیا دنیوی علم تفسیر کو مزید واضح کرتا جاتا ہے اور اس کی صداقت پہ مہر تصدیق ثبت کرتا جاتا ہے۔
قران میں وہ سا رے حقائق اور ہدایات جو اس دنیا میں انسان کو درکار ہیں بیان کر دیے گئے ہیں نیز ان حالات کی خبر بھی دی گئی ہے جو مابعد الطبعیاتی ہیں یا موت کے بعد آخرت میں واقع ہونے والے ہیں۔ زیادہ تر مفسرین پرانی تفاسیر کے حوالے بیان کرتے ہیں پھر اپنے دور کی تفسیر کو جدید علم کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اپنی تفسیر کو اپنا خیال بتاتے ہوئے اور واللہ اعلم با الصواب لکھ کر اس بات کی گنجائش چھوڑتے ہیں کہ آئندہ مستقبل میں معلوم ہونے والے نئے علم و عوامل کی روشنی میں ان کی تفسیر میں تبدیلی، ترمیم یا اضافہ کیا جا سکے۔ یہی طرز عمل درکار بھی ہے اور مفسرین کی بصیرت کا شاہد بھی ہے۔ یہی متواتر عمل قیامت تک ہوتا رہے گا۔
قرآن پر عمل کرکے رسول ﷺنے دکھا دیا ہے ـ یہ ایک مستقل علم ہے جسے حدیث وسنت کی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے ـ اس علم سے استفادہ ہر دور میں کیا جاتا رہے گا۔قیامت تک مختلف زمانوں میں معاشرتی، سماجی اور علمی کیفیات مختلف رہیں گی ۔ قرآن کی جامعیت کا معجزہ یہ ہے کہ وہ ان سب عوامل کا احاطہ کرتا ہے جو قیامت تک کسی دور میں بھی پائے جائیں گے ، لہٰذہ ہر دور میں قران کی جامعیت کلام کے معجزے سےتفسیر اور معنی میں نئے علم کی مناسبت سے اضافہ ہوتا جائے گا اور نئی ترمیم شدہ تفاسیر سامنے آتی رہیں گی یہ ہر زمانے کی ضرورت تھی، ہے اور رہے گی - اور قران کا یہ معجزہ بھی اظہر من الشمس ہو تا جائے گا کہ اس کا پیغام ہر زمانے میں ایک ہی رہے گا اور کبھی تضاد کا شکار نہيں ہوگا ۔ ۔
اس تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی دور میں یا مثال کے طور پر موجودہ دور میں اگر کوئی آیت کسی دنیوی علم یا قدرتی مظہر کے لحاظ سے مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آتی تو قرآن کی حقانیت کا تقاضہ ہے کہ اس پر ایمان لے آئیں بغیر کسی ثبوت کا مطالبہ کئے ہوئے کیونکہ ہمارا وہ علم جو اس وقت موجود ہے اسے ابھی اور بڑھنا ہے ، وہ اس وقت اس قابل نہیں ہے کہ کوئی عقلی ثبوت فراہم کر سکے ۔نہ جانے کتنے اور قدرتی مظاہر مزید اعلیٰ آلات کے ذریعے مستقبل میں ہمارے دائرۂ حواس میں آ جائیں جو اس وقت نہیں معلوم ہیں اور کچھ اور سوالات کے جوابات بمع ثبوت کے مل جائیں جن کا ملنا فی الوقت ممکن نہیں ۔ اس کے باوجود پھربھی کچھ نہ کچھ سوالات ایسے ضرور رہیں گے جو نا قابل فہم ہونگے!
لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ قران کی ان خبروں اور حالات کو کبھی نہیں سمجھا جا سکے گا جو اس دنیا میں انسانی حواس و تجربات سے ماوراء ہیں، روحانی ہیں یا موت کے بعد کی زندگی سے متعلق ہیں۔ ان پر اجمالی ایمان ہی لانا ہوگا ۔ اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ انکشافی علم بھی حقیقی علم ہوتا ہے چاہے وہ اس وقت کے انسانی علم کے اعتبار سے ناقابل فہم ہو بشرطیکہ جس واسطے سے آیا ہو وہ سچا اور قابل اعتبار ہو۔ ان قرانی آیات کی تفسیر کبھی نہیں کی جا سکے گی جو ما بعد ا لطبعیات یا غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان پر مجمل ایمان لانا ہوگا۔ کیونکہ یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ قران مکمل طور پر سچا ا ور قابل اعتبار ہے۔

قدیم اور جدید دنیوی یا سائنسی علم کے تناظر میں قران سے کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ وہ آیات جو پہلے ناقابل فہم تھیں او راب جدید علم سے قابل فہم ہو گئی ہیں۔ اور ان کی تفسیر اب قیاسی نہیں رہی ۔تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہےاس ضمن میں دو مثالیں ہی کافی ہیں ، جو پیش کی جاتی ہیں:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاَلۡقٰى فِى الۡاَرۡضِ رَوَاسِىَ اَنۡ تَمِيۡدَ بِكُمۡ وَاَنۡهٰرًا وَّسُبُلًا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَۙ ۞ ۔۔۔نحل ۱۵
اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تا کہ زمین تم کو کر ڈھلک نہ جائے۔ اس نے دریا جاری کئے اور قدرتی راستے بنائے تا کہ تم ہدایت پاؤ۔

ارضیات کا علم اب اس توازن کے بارے میں جانتا ہے ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ طِيۡنٍ‌ ۞۔۔المومنون۱۲
ثُمَّ جَعَلۡنٰهُ نُطۡفَةً فِىۡ قَرَارٍ مَّكِيۡنٍ ۞۱۳
ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَةَ مُضۡغَةً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰهُ خَلۡقًا اٰخَرَ‌ ؕ فَتَبٰـرَكَ اللّٰهُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِيۡنَ ۞۱۴۔
ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا
پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدل کیا-
پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی ، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنادیا ، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھر ہڈیوں کو گوشت چڑھایا ، پھر اس ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔
طب کے علم کو اب اس خوردبینی باریکی سے اور انسان کی تخلیقی مدارج سے آگاہی ہوگئی ہے ۔

اب ذرا آخرت کی زندگی کا تصور کریں وہاں حقائق کھلے ہوں گے اور کسی سوال ، بحث و مباحثے یا کسی دلیل کی ضرورت نہ ہوگی۔ مطلق حقیقت آشکار ہو جائے گی تو نہ کسی سوال کی اور نہ کسی جواب کی ضرورت پیش آئے گی ۔ وہاں چونکہ ساری دنیوی و اخروی حقائق سب پر عیاں ہو جائنگے یعنی سب کچھ جو نامعلوم تھا معلوم ہو جائے گا، لہذہ کسی بحث و مباحثے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نہ کسی وضاحت نہ تفسیر کی ضرورت پیش آئے گی ۔ نہ انسان کے پاس کوئی سوال ہوگا کہ کیا جائے۔ حقیقت کے بارے میں سارے ابہام دور ہو جائیں گے۔ قران اس ضمن میں ہمیں یوں مطلع کرتا ہے:

۱۔بیان القران سورۃ نمبر 50 ق ۔۔آیت نمبر 22
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَقَدۡ كُنۡتَ فِىۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰذَا فَكَشَفۡنَا عَنۡكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الۡيَوۡمَ حَدِيۡدٌ ۞
اس چیز کی طرف تو غفلت میں تھا ، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑ اہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے۔
تفسیر:
دنیا میں رہتے ہوئے بہت سے حقائق تمہارے لیے پردہ غیب میں تھے۔ وہاں تجھ سے مطالبہ تھا کہ ان حقائق پر بغیر دیکھے ایمان لائو۔ آج غیب کا پردہ اٹھا دیا گیا ہے اور اب تمہاری نظر ہرچیز کو دیکھ سکتی ہے ‘ حتیٰ کہ آج تم اپنے ساتھ آنے والے فرشتوں کو بھی دیکھ رہے ہو ۔
۲۔القرآن - سورۃ نمبر 32 السجدة ۔۔آیت نمبر 12
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا وَسَمِعۡنَا فَارۡجِعۡنَا نَعۡمَلۡ صَالِحًـا اِنَّا مُوۡقِنُوۡنَ‏ ۞
کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے) اے ہمارے رب ، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا ، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں ، ہمیں اب یقین آگیا ہے
۳۔معارف القرآن ۔۔سورۃ نمبر 50 ق ۔۔آیت نمبر 22
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لَقَدۡ كُنۡتَ فِىۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰذَا فَكَشَفۡنَا عَنۡكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الۡيَوۡمَ حَدِيۡدٌ ۞
تو بے خبر رہا اس دن سے اب کھول دی ہم نے تجھ پر سے تیری اندھیری سو تیری نگاہ آج تیز ہے
تفسیر:مرنے کے بعد آنکھیں وہ سب کچھ دیکھیں گی جو زندگی میں نہ دیکھ سکتی تھیں

فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ (یعنی ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا آج تمہاری نگاہ بڑی تیز ہے)
اس کا مخاطب کون ہے؟۔۔۔عام انسان مخاطب ہیں، جن میں مومن، کافر، متقی، فاسق، سب داخل ہیں، اسی تفسیر کو ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار فرمایا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی مثال خواب کی سی زندگی کی ہے اور آخرت کی مثال بیداری کی، جیسے خواب میں آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں کچھ نہیں دیکھتا اسی طرح انسان ان حقائق کو جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے دنیا میں آنکھوں سے نہیں دیکھتا مگر یہ ظاہری آنکھیں بند ہوتے ہی وہ خواب کا عالم ختم ہو کر بیداری کا عالم آتا ہے جس میں وہ سارے حقائق سامنے آجاتے ہیں اسی لئے بعض علماء نے فرمایا
الناس نیام فاذا ماتوا انتبھوا
یعنی آج کی دنیا کی زندگی میں سب انسان سو رہے ہیں جب مریں گے اس وقت جاگیں گے
۴۔البتہ کافر انسان جو کچھ کہے گا وہ یہ ہوگا:
وَيَقُوْلُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِىْ كُنْتُ تُرَابًا۔۔النبا
۵۔اور کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا
۶۔او ر صاحب ایمان جنتی کہیں گے:
سورہ فاطر
وَقَالُوا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُـوْرٌ
اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا، بے شک ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔
اَلَّـذِىٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِـهٖۚ لَا يَمَسُّنَا فِيْـهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيْـهَا لُـغُوْبٌ
وہ جس نے اپنے فضل سے ہمیں سدا رہنے کی جگہ میں اتارا، جہاں ہمیں نہ کوئی رنج پہنچتا ہے اور نہ کوئی تکلیف۔
۷۔سورہ اعراف
وَنَادٰٓى اَصْحَابُ الْجَنَّـةِ اَصْحَابَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّـمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَـهُـمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّـٰهِ عَلَى الظَّالِمِيْنَ
اور بہشت والے دوزخیوں کو پکاریں گے کہ ہم نے وعدہ سچا پایا جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا، وہ کہیں گے ہاں، پھر ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ان ظالمو ں پر اللہ کی لعنت ہے۔
۸۔مومن (غافر)
وَاِذْ يَتَحَآجُّوْنَ فِى النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفَآءُ لِلَّـذِيْنَ اسْتَكْـبَـرُوٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُـمْ مُّغْنُـوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ
اور جب دوزخی آپس میں جھگڑیں گے پھر کمزور سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے پیرو تھے پھر کیا تم ہم سے کچھ بھی آگ دور کر سکتے ہو۔
۹۔قَالَ الَّـذِيْنَ اسْتَكْـبَـرُوٓا اِنَّا كُلٌّ فِـيْهَاۙ اِنَّ اللّـٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ
سرکش کہیں گے ہم تم سبھی اس میں پڑے ہوئے ہیں، بے شک اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کر چکا ہے۔
۱۰۔وَقَالَ الَّـذِيْنَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّـمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ
اور دوزخی جہنم کے داروغہ سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے عرض کرو کہ وہ ہم سے کسی روز تو عذاب ہلکا کر دیا کرے۔
۱۱۔قَالُوٓا اَوَلَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ قَالُوْا بَلٰى ۚ قَالُوْا فَادْعُوْا ۗ وَمَا دُعَآءُ الْكَافِـرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلَالٍ
وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہ آئے تھے، کہیں گے ہاں (آئے تھے)، کہیں گے پس پکارو، اور کافروں کا پکارنا محض بے سود ہوگا۔
 
Tariq Zafar Khan
About the Author: Tariq Zafar Khan Read More Articles by Tariq Zafar Khan: 23 Articles with 12371 views A enthusiastic reader and writer. Interested in new discoveries, inventions, innovations in science and their place and effect in society and religio.. View More