امن کا راستہ

(Rafiq Chohdury, )

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کابل میں چیفس آف ڈیفنس کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ خطے کے امن کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے ۔یہ بات کئی پہلوؤں سے سو فیصد حقیقت ہے کہ خطے کا امن افغانستان میں قیام امن پر ہی منحصر ہے لیکن یہ امن اس وقت ہی قائم ہو گا جب افغانستان کے عوام کو اُن کا بنیادی حق دیا جائے گا ۔ عالمی برادری کو افغان عوام پر اپنی مرضی ٹھونسنے اور جبراً کسی فیصلے کو ماننے پر مجبور کرنے کی بجائے افغان عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے ان کی مرضی جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ افغان عوام کی اکثریت جو چاہتی ہے اس کے اثرات زمین پر بھی نظر آرہے ہیں ۔ خود پینٹا گون نے جو نقشہ جاری کیا ہے اس کے مطابق افغانستان کے تین چوتھائی سے زیادہ علاقے پر افغان طالبان کا کنٹرول ہے ۔جبکہ امریکی افواج کا کنٹرول صرف کابل تک محدود ہے اور حالیہ دھماکوں سے کابل پر بھی امریکہ اور افغان حکومت کی عمل داری پر سوالیہ نشان لگ چکاہے ۔ اگر بیرونی مداخلت اور فوجی جارحیت سے امن قائم ہو سکتا توپھر یہ امن کابل میں ہونا چاہیے تھا جہاں امریکی افواج اور امریکہ کی تربیت یافتہ افغان سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ کابل کی نسبت اُن علاقوں میں اب بھی امن و امان قائم ہے جو طالبان کے کنٹرول میں ہیں ۔ یہ زمینی حقائق یہ ثابت کر رہے ہیں کہ افغانستان میں امن بیرونی جارحیت کے ذریعے نہیں بلکہ افغان عوام کو ان کی مرضی کا حق دینے سے قائم ہو گا اور یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے خطے میں بھی امن قائم ہو سکتا ہے ۔

افغانستان کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے بیرونی جارحیت کی وجہ سے ہی جنگ کا میدان بنی ہوئی ہے ۔ اس سے قبل دو سپرطاقتوں نے اس سرزمین پر زور آزمائی کر کے دیکھا لیا اور تیسری سپرطاقت بھی 16سال سے بر سرپیکار ہے لیکن نہ تو یہ سپر طاقتیں اپنی تمام تر عسکری طاقت اور حربے آزمانے کے باجود اپنے اہداف حاصل کر سکیں اور نہ ہی اس طرح امن قائم ہوا بلکہ جارحیت کے اثرات نے پورے خطے کے امن کو یر غمال بنا لیا ۔ اگر امن قائم ہو ا تو اس وقت جب مختصر عرصہ کے لیے سہی لیکن افغان عوام کو ان کی مرضی کا نظام لانے کا حق دیا گیا ۔ افغان طالبان کے اس مختصر دور حکومت میں وہاں ایسا مثالی امن قائم ہوا جس کی مثال موجودہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی ۔ یہاں تک کہ تین تین صوبوں کی مشترکہ جیل میں قیدیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی اور جرائم کی شرح اس حد تک کم ہو گئی تھی کہ کئی کئی مہینوں تک تھانے میں کوئی رپورٹ درج نہیں ہوتی تھی ۔یہ حقیقی امن کی وہ مثال تھی جس کا امریکہ اور یورپ میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ اس امن کے مثبت اثرات سے پورا خطہ بھی مستفید ہو رہا تھا ۔ آج پاکستان کروڑوں ڈالرز خرچ کرنے اور اپنی سکیورٹی فورسز کی مغربی بارڈر پر تعیناتی کے بعد بھی وہ امن و امان کی صورتحال واپس نہیں لا سکا جو بغیر کوئی فوجی تعینات کیے اور بغیر سرمایہ خرچ کیے اس وقت تھی ۔افغان عوام ہی پاکستان کے بے لوث سپاہی اور محافظ تھے ۔ افغان پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور وہ اس دین کے بھی وفادارہیں جس کے نام پر پاکستان بنا تھا ۔ لہٰذا وہ پاکستان کے دشمن کیوں ہوں گے ؟حالانکہ پاکستان کی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہوئی ۔ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر نے ذاتی فیصلے کے تحت پاکستان کے ہوائی اڈے ، زمین اور فضائی راستے امریکہ کو افغانستان پر جارحیت کے لیے دیے اور نیٹو فورسز کا اتحادی بن کر افغانوں کا خون بہانے میں ہم پیش پیش رہے مگر اس کے باوجود بھی افغانستان کے اصل باشندے پاکستان کے خلاف نہیں ہیں ۔ وہ آج بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان کے دشمنوں سے نفرت کرتے ہیں ۔ اگر افغانستان سے پاکستان میں کوئی مداخلت یا دہشت گردی ہوئی بھی ہے تو وہ امریکہ یا بھارت کے اُن تربیت یافتہ دہشت گردوں نے کی ہے جس کا موقع مشرف نے ذاتی فیصلہ کرکے فراہم کیا ۔ کیونکہ جب افغانستان پر بیرونی جارحیت سے ’’ را‘‘ ، موساد اور دنیا بھر کی ایجنسیوں کو اس خطے میں اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کا موقع ملا تو دشمن قوتوں نے ایسے افغان عناصر کی فوجی تربیت بھی کی اور تکنیکی مدد کے علاوہ گولہ و بارود سمیت تمام وسائل بھی فراہم کیے تاکہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کریں ۔جس سے اس پورے خطے کا امن و امان متاثر ہوا ۔ لہٰذا امن کا راستہ صرف ایک ہی ہے کہ افغانستان میں بیرونی جارحیت کو ختم کیا جائے ، قابض افواج کا اخراج ہو اور افغانوں کو اُن کی مرضی کا نظام اور مرضی کی حکومت بنانے کا موقع دیا جائے ۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ عالمی طاقتیں امن کا یہ واحد راستہ دانستہ اختیار نہیں کرنا چاہتیں ۔ اس کے پس پردہ ان کے جو بھی مقاصد ہوں مگر ایک بات طے ہے کہ افغانوں کو امن کا یہ واحد راستہ نہ دے کر پورے خطے کے امن کوتہ و بالا کرنے کی ذمہ دار بھی عالمی طاقتیں خود ہیں ۔ شاید وہ نہیں چاہتیں کہ اس خطے میں امن قائم ہو ۔ چاہے اس کی وجہ امریکہ کی چین دشمنی ہو ، پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہوں یا پاک چائنہ کوریڈور یا ون روڈون بیلٹ کا چائنی منصوبہ ہو ۔ وہ چاہتی ہیں کہ افغانستان میں دیر تک رہ کر اپنے اہداف و مقاصد کو حاصل کرنے کا کوئی بہانہ ڈھونڈا جائے ۔اسی مقصد کے لیے عالمی طاقتیں پاکستان کو بھی زبردستی افغان جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں ۔اس کے لیے کبھی وہ دھمکی کااور کبھی لالچ کا راستہ اختیار کر رہے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی قوت کا حامل ہے اور ایک بڑی عسکری طاقت و صلاحیت کا حامل بھی ہے ۔اس کے علاوہ چائنہ کے اقتصادی منصوبے بھی پاکستان کی وساطت سے تکمیل کی طرف گامزن ہیں ۔ یہ اقتصادی منصوبے اگر کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف چائنہ مزید مضبوط ہو جائے گا بلکہ پاکستان میں بھی معاشی استحکام آئے گا اور اس طرح ان دونوں ممالک کی عسکری طاقت میں بھی اضافہ ہو گا ۔ لہٰذا عالمی طاقتیں پاکستان کو خودساختہ افغان جنگ میں ملوث کرکے ایک بار پھر پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان میں دوبارہ دہشت گردی ، فرقہ واریت اور انتشار پید ا ہو اور اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر دشمن طاقتیں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور پاک چائنہ اقتصادی منصوبے کے خلاف اپنے مکروہ عزائم پورے کر سکیں ۔امریکہ اور اس کے اتحادی نائن الیون کے بعد مشرف کے تعاون سے پاکستان میں انتشار کی کیفیت پیدا کرنے میں کسی حدتک کامیاب ہو بھی گئے تھے لیکن راحیل شریف کی دوراندیشی اور فرض شناسی نے دشمن طاقتوں کے ان گھناؤنے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا تھا ۔ اب دوبارہ اگر پاکستان نے یہی غلطی کی اور امریکہ کی کسی دھمکی یا لالچ میں آکر افغانوں کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی تو اس کے خطے کے امن پر بہت بھیانک اور طویل منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔اس لیے کہ آج صورت حال مکمل طور پر بدل چکی ہے ۔اُس وقت افغان طالبان خود جنگی سٹریٹجی کے طور پر پسپا ہوئے تھے اور شاید نائن الیون کے بعد امریکہ کا ساتھ دینا پاکستان کی مجبوری بھی سمجھا لیا گیا تھا لیکن اب نہ تو پاکستان کی کوئی ایسی مجبوری ہے اورنہ افغان طالبان پیچھے ہٹنے کی پوزیشن میں ہیں بلکہ وہ ایک بار پھر افغانستان میں قدم جما چکے کر امریکی جارحیت کو چیلنج کر چکے ہیں اورافغانستان کی خاموش اکثریت بھی افغان طالبان کی پشت پر ہے یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان کی حکومت نہ ہونے کے باوجود بھی افغانستان کے زیادہ تر علاقوں پر اُن کا کنٹرول ہے ۔ اگر افغان عوام اُن کی پشت پر نہ ہوتے تو آج پورے افغانستان پر امریکہ کا کنٹرول ہوتا ۔ ایسی صورتحال میں جبکہ افغان عوام اور افغان طالبان غیر ملکی جارحیت کے خلاف کامیاب مزاحمت میں کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کرتے چلے جارہے ہیں اگر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا تو اس کے خوفناک نتائج سامنے آسکتے ہیں ۔یہاں تک کہ پھر افغانوں کی پاکستان سے نفرت کبھی ختم نہ ہو سکے اور اگر ایسا ہوا تو اس خطے میں قیام امن کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا ۔

چنانچہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کو اس مرحلے پر دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے افغانوں کا گلا گھونٹے کی امریکی پالیسی سے دور رہنا چاہیے ۔ افغانستان افغانوں کا ہے ، انہی کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا حق ملناچاہیے ۔ بیرونی جارحیت یا زبردستی کے فیصلے منوانے کی کوئی بھی کوشش نہ تو افغانستان میں پہلے کامیاب ہوئی ہے اور نہ اب ہو گی بلکہ اس سے اُلٹا خطے کا امن متاثر ہو گا ۔ البتہ اگر کچھ فوائد حاصل ہوں گے تو وہ صرف امریکہ ، اسرائیل اور انڈیا کو ہوں گے کہ اسرائیل اور انڈیا کو دوبارہ پاکستان میں دہشت گردی اور فساد پھیلانے کا موقع ملے گا اور اس طرح پاک چائنہ اقتصادی منصوبے متاثر ہوئے تو امریکہ کا خواب بھی پورا ہو جائے گا ۔ لہٰذا پاکستان کی بہتری اسی میں ہے کہ پاکستان ہر صورت میں اب افغان جنگ سے اپنے آپ کو دور رکھے ۔ یہی افغانستان میں بھی قیام امن کا واحد راستہ ہے اور اسی سے خطے میں بھی امن قائم ہو گا کیونکہ اگر پاکستان اس جنگ سے الگ رہا تو عالمی سازشیں اپنی موت آپ مر جائیں گی اور افغانوں کو بھی سکھ کا سانس ملے گا اور اس طرح خطے میں دیر پا اور پائیدار امن کا راستہ ہموار ہو جائے گا ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rafiq Chohdury

Read More Articles by Rafiq Chohdury: 36 Articles with 24432 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2018 Views: 400

Comments

آپ کی رائے