صادق اور امین

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)

پاکستان میں صادق و امین پر ہونے والی بحث اس لحاظ سے بہت مثبت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار یہ بیانیہ سامنے آیا کہ ہم پر حکومت کرنے والے انسان کا ''صادق اور امین ہونا کتنا ضرور ی ہے انسان جو کہ خطاؤں کا پتلا ہے اور انسان ہونے کے ناطے اس سے غلطیاں سر زد ہوتی ہیں بلا شبہ غلطیوں سے پاک صرف فرشتے ہی ہو سکتے ہیں مگر انسانی کی تاریخ میں کئی بار ایسے مواقع آئے جب اس سے غلطی ہوئی مگر اس کا ازالہ اس نے اپنی توبہ سے فورا کر لیا بات کی جائے پاکستان کی سیاسی تاریخ کی تو اگر شروع دن سے ہی ہم صادق اور امین کے فارمولے پر عمل کرتے تو آج ہم ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتے دنیا بھی ہماری قدر کرتی ہمیں وہ مقام دیتی جو ہمیں ملنا چاہے تھا لیکن ہماری سیاسی تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم نے صادق اور امین لوگوں کے بجائے ان لوگوں کو حاکم بنایا جن کو باقی دنیا کسی اور نام سے جانتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ٓاج ہم اقوام عالم میں صرف اس وجہ سے بدنام ہیں کہ ہمارے حاکم ہم سے اور اپنے ملک سے مخلص نہیں ہیں ہم نے اپنی اناء کی تسکین اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے کھبی سیکولر اور کھبی لبرل ہونے کا نعرہ لگایا اور ان نعروں میں کھبی بھی پاکستان کے عوام یا پاکستان کا کھبی بھی مفاد مدنظر نہیں رکھا اگر مفاد دیکھا تو اپنا اپنے خاندانوں کا ایسے میں بھلا کیونکر ممکن ہو سکتا تھاکہ ہمارا پاکستان ترقی کر جائے آج کے حالات کو اگر سامنے رکھا جائے تویہ بات سامنے آتی ہے کہ ہم اگر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے دنیا میں رسواء ہوئے تو ہم نے اپنی ا صلاح کرنے کے بجائے الزام ان اداروں کو دے دیا جنھوں نے ہمیں بتایا کہ ہم میں کوئی کوالٹی نہیں ہم اس قابل نہیں کہ ملک کو چلا سکیں اس قوم کے رہبر بن سکیں ۔پھر وہ بھی وقت آیا کہ ہم نے اپنی نااہلی کو چھپانے کی خاطر اس حقیقت کو مٹانے کی خاطر اپنے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے وہ تاریخی قانون سازی کی کے جس کی نظیر پوری جمہوری دنیا میں ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو گی :جس کے مطابق کوئی بھی ناہل شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے :کیا کوئی ایسا شخص جو کنگ نہیں بن سکتا وہ کنگ میکر بنایا جا سکتا ؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کوئی بھی عقل و شعور رکھنے والا آدمی دے سکتا ہے ۔پاکستانی عوام یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہے جب اس ملک کے سب سے طاقتور طبقے کا احتساب ہو رہا ہے ملک میں پہلی بار اشرفیہ عدالتی کٹہرے میں ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ دیگر چار سو لوگوں کو بھی کٹہرے میں لانا چاہیے تکہ اس احتساب پر انتقام کا لیبل نہ لگ سکے ہمیں ہر حال میں صادق اور امین کے فارمولے پر عمل کرنا ہو گا اس کے لئے صرف سیاست دان نہیں بلکہ سیاست دان ، جج،جرنیل ،بیوروکریٹ اور بزنس مین اوردیگر تمام وہ لوگ جو ہم میں اشرفیہ کہلاتے ہیں ان کو بھی لانا چاہیے تب ہم عام پاکستانی کا وہ بھروسہ قائم رکھ سکیں گے جس کے مطابق طاقتور لوگوں کا احتساب ہو رہا ہے سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ جی صادق و امین کے فارمولے پر عمل ہو ا تو کوئی نہیں بچے گا ان کے لئے یہ جواب کافی ہے کہ پارلیمنٹ بچے نہ بچے پاکستان تو بچنا چاہیے صادق اور امین کے معاملے میں سختی سے عمل کیا جائے تو اچھا ہے جن کو ملک کی سربراہی کرنی ہے وہ سچے اور ایماندار نہیں تو ملک کا کوئی مستقل نہی بیانیہ کچھ بھی ہو مگر اس میں اگر تھوڑی سی بھی سچائی ہو تو نظر آتی ہے ہم ملک کے اہم ترین اداروں کو اگر نشانے پر رکھ لیں گے تو پھر ہمارا نقصان ہی ہو گا بیشک ادارے ریاست کے تابع ہوتے ہیں مگر ان اداروں کے اختیارات کو بھی دیکھا جاتا ہے ان کا مینڈیٹ جو ریاست نے ان کو دیا ہے اگر وہ اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو کچھ بعید نہیں کہ وہ پاکستان کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہاں اگر ان کی گرفت میں کھبی ہمارے مخالفین آ جائیں تو ہم انھیں شاباش دیں اور اگر کھبی ہم آجائیں تو ان پر چڑھ دوڑیں یہ بات عوام کی سمجھ میں آ چکی ہے۔ اداروں کی تفتیش کے بعد اگر آپکے خلاف فیصلہ آجائے تو اس پر اعتراض مناسب فورم پر ہی کرنا اچھا ہوتا ہے ہر ادارے پر الزام تراشی کرکے اس کے وقار کو نقصان پہنچانا کوئی سیاسی بصیرت نہیں ہمارے یہ عمل کے ہم تمھارا حساب تمھارے بچوں سے لیں گے ،نکالو باہر کرو،مجھے کیوں نکالا اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں کمزور اور بے توقیر کرنے کے لئے ہے کیا یہ رویہ اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے ہے؟ ہم نے جمہوریت کو اپنے آپ تک محدود کیا ہوا ہے اگر ہم ہیں تو جمہوریت ہے اگر ہم نہیں توجمہوریت نہیں جناب یہ جمہوریت نہیں بلکہ آمریت ہوتی ہے ایسی آمریت کو شخصی آمریت کہا جاتا ہے خود کو جمہوری لوگ کہنے والے بتائیں کیا ان کا رویہ جمہوری ہے جمہوریت کی مضبوطی کی باتیں کرنے والے بتائیں کیا انھوں نے اپنے عمل کے ذریعے مسلسل جمہوریت کو سبوتاژکرنے کی کوششیں نہیں کیں؟کم ازکم مسلم لیگ ن کے اعلیٰ عہدیدار یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ انہوں نے ملک اور اسکے اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے کوئی کردار ادا کیا ہے ان کا کردار تو سب کے سامنے ہے سپریم کورٹ ،نیب ،آیف آئی اے، ایس سی سی پی ،، بی آر اور دیگر اداروں میں جس طرح کا کام ہوا وہ تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہوچکا ہے ہمارے سیاستدانوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عوام کا حافظہ خراب ہے اور وہ ان کے ماضی کو فراموش کر دیں گے' جس کا جو بھی ماضی اور حال ہے وہ تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ محفوظ رہے گا اور اس کے حوالے سے ہی آنے والے الیکشن میں فیصلہ آئے گا اب کس کا بیانیہ درست اور کس کا غلط ہے یہ آنے والا الیکشن ہی بتا سکے گا ہاں اتنا ضرور ہے کہ عوام اب صادق اور امین کی اصطلاح کو سامنے رکھ کر ہی ووٹ دیں گے اب یہ عوام بہتر جانے ہیں کہ کون صادق ہے اور کون امین ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 129580 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
06 Mar, 2018 Views: 296

Comments

آپ کی رائے